میں مر چکا ہوں مگر اپنے فن میں زندہ ہوں
خموش ہو کے بھی شعر و سخن میں زندہ ہوں
مزاحمت نے پرخچے اڑا دیے میرے
مگر میں قصۂ دار و رسن میں زندہ ہوں
میں اہلِ دل کی صدائے سحر میں بستا ہوں
میں حسن والوں کی نوکِ نین میں زندہ ہوں

0
7