زندگی اب مجھے آواز نہ دے
مری غزلوں کو کوئی ساز نہ دے
نہ بڑھا الجھنیں اے زلفِ دراز
اور غم اے نگہِ ناز نہ دے
میں نے قدرت کو بتایا انجام
میں ہوں فتنہ مجھے آغاز نہ دے
طنطنہ ہائے نمائش سے اماں!
ہمہمہ ہائے تگ و تاز نہ دے
تری رحمت سے وہ محروم ہو گر
ایسا گوشہ اے جہاں ساز نہ دے
اس کی ترتیب ہے پستی کی نمود
جو صدا عشقِ سر افراز نہ دے

0
6