پھیکے پڑ جائیں نظارے ہم کو کیا
آسماں ہوں بے ستارے ہم کو کیا
ہم تماشائی تماشا دیکھ لیں
کوئی جیتے کوئی ہارے ہم کو کیا
قافلہ لٹنے کا غم ہم کو نہیں
رہنما ہیں آپ سارے ہم کو کیا؟
جب کسی بھی طور ہو پائے نہ ایک
اب کسی کے سنگ گزارے ہم کو کیا
منزلِ مقصود جب ہے ہی نہیں
راستہ جس کو پکارے ہم کو کیا
سب سہاروں نے اگر چھوڑا بھی ساتھ
ہم نہیں ہیں بے سہارے ہم کو کیا
ہم نے تو اب اوڑھ لی ہے بے حسی
پھٹ پڑیں بھی درد سارے ہم کو کیا

0
5