تدبیر کا ملاپ جو تقدیر سے کیا
قدرت تو چاہتی ہے کہ یوں ہو تو یوں نہ ہو
ہم اہلِ دل کا آج وہ اونچا مقام ہے
ٹھوکر میں رکھ رہے ہیں زمانہ ہی کیوں نہ ہو
ہم تو وفا کی جنگ اگر ہار بھی گئے
پرچم کسی بھی طرح مگر سرنگوں نہ ہو

0
7