تنگی کا شکوہ مرے احباب فرمائیں تو کیوں |
کچھ کشادہ تو ہماری آستیں رکھی گئی |
حوصلوں کے آسماں کا کیا ہوا دیکھے کوئی |
مٹھی بھر تن کی زمیں زیرِ زمیں رکھی گئی |
آج بھی ملحوظ تھا رسمِ تقدس میں ادب |
میرے ہونٹوں پر سلیقے سے جبیں رکھی گئی |
تنگی کا شکوہ مرے احباب فرمائیں تو کیوں |
کچھ کشادہ تو ہماری آستیں رکھی گئی |
حوصلوں کے آسماں کا کیا ہوا دیکھے کوئی |
مٹھی بھر تن کی زمیں زیرِ زمیں رکھی گئی |
آج بھی ملحوظ تھا رسمِ تقدس میں ادب |
میرے ہونٹوں پر سلیقے سے جبیں رکھی گئی |
معلومات