تنگی کا شکوہ مرے احباب فرمائیں تو کیوں
کچھ کشادہ تو ہماری آستیں رکھی گئی
حوصلوں کے آسماں کا کیا ہوا دیکھے کوئی
مٹھی بھر تن کی زمیں زیرِ زمیں رکھی گئی
آج بھی ملحوظ تھا رسمِ تقدس میں ادب
میرے ہونٹوں پر سلیقے سے جبیں رکھی گئی

0
5