| اک حکایت جو ناشنیدہ ہے |
| آرزو کتنی آب دیدہ ہے |
| مرد آہن ہے اندر ہی اندر |
| اور شاخِ بدن خمیدہ ہے |
| پوری ہوتی نہیں غزل میری |
| ایک صورت ابھی ندیدہ ہے |
| ثانی ہے راندۂ درِ کعبہ |
| حلقۂ مے میں برگزیدہ ہے |
| چیدہ چیدہ جواں رگوں کا لہو |
| میری غزلوں سے ہی چکیدہ ہے |
| اس کو آرام مل نہیں سکتا |
| دل تری یاد کا گزیدہ ہے |
| میں نے بخیہ ادھیڑ کر رکھ دی |
| ظاہراً لگ رہا قصیدہ ہے |
معلومات