Circle Image

Syed Zaheer Husain Rizvi Ghadeeri

@zaheerazafar

جو کچھ ہے ان زمینوں میں جو کچھ ہے آسمانوں میں
علیؑ کو حق تصرف کا ہے قدرت کے خزانوں میں
نہیں ہو نیو میں جس کی تمنّائے عزاداری
نہیں پائی گئی رونق کبھی ایسے مکانوں میں
حسینؑ آباد ہے ہر اہل دل میں صورتِ دھڑکن
عدو کا نام تک ملتا نہیں ہے داستانوں میں

0
3
میرے مولا اگر مجھ پر کرم ہو جائے گا
یک قصیدہ مدحِ مولا میں رقم ہو جائے گا
سیدہ کے در پہ تارے اور ملائک کی قسم
جو بھی سجدہ ریز ہوگا محترم ہو جائےگا
ان کے در کی سر جھکا کر نوکری کرتے رہو
ورنہ اک دم میں ہوا سارا بھرم ہو جائےگا

0
5
نظر میں کربلا، کعبہ، مدینہ اور نجف
تخیلات میں چودہ گلاب رکھتے ہیں
عجیب لوگ ہیں ان کو جناب کہتے ہیں
جو اتحاد کی رُخ پر نقاب رکھتے ہیں

0
3
اُلٹ کے رکھ دیا خطبوں سے تختِ باطل کو
بقائے دین میں زہراؐ وقار ہیں زینبؑ
ہے کربلا میں عجب منظرِ شبِ عاشور
وفا کی آیتیں تجھ پر نثار ہیں زینبؑ

0
3
ہوں مجھ کو عطا منفرد افکار سکینہؑ
لکھنا ہیں مجھے شعر طرحدار سکینہؑ
روضے کی زیارت جو ہو اک بار سکینہؑ
دنیا کہے مجھکو ترا زوار سکینہؑ
دادی ہیں تری سیدہؑ، خاتونِ جناں ہیں
داد ہیں تیرے حیدر کرارؑ سکینہؑ

0
2
کیا بتائیں ہمکو کیا نعمت ملی معراج سے
ایک کعبے سے ملا اور ایک علی معراج سے
نورِ حیدر کے لیے نورِ خدا سے مانگ کر
نورِ زہرا لے کے آئے ہیں نبی معراج سے

0
2
ہم کو شہرت چاہئے نہ ہم کو دولت چاہئے
بس غلامی کی درِ زینب سے نسبت چاہئے
خطبہ زینب کو سن کے دم بخود تاریخ ہے
سانس لینے کے لیے زینب سے مہلت چاہیے

0
2
تمہارا ذکر میرے لب پہ صبح و شام ہے زینب
خدا کا مجھ پہ یہ سب سے بڑا انعام ہے زینب
رسالت کی، امامت کی، شریعت کی حفاظت کی
بداولت آپ ہی کی آج یہ اسلام ہے زینب
مقابل حق کے آنے کا برا انجام ہوتا ہے
حکومت شام کی ہے اور نہ تختِ شام ہے زینب

0
3
بزم مومن ہے تو پھر محفلِ مدحت ہو جائے
کیا ہی اچھا ہو کہ منظوم عبادت ہو جائے
ہے عبادت کی یہ شب صرفِ عبادت ہو جائے
سورہِ حجّتِ قائمؑ کی تلاوت ہو جائے
جان لیوا نہ یہ طولِ شبِ فرقت ہو جائے
يا خدا اب ہمیں قائمؑ کی زیارت ہو جائے

0
2
وہ قلم جس کا خلافِ شہِ ابرار اٹھا
(مفتیِ شر تھا زمانے سے شرم سار اُٹھا)
خونِ عمران ہی کام آیا ہے جب وقت پڑا
(دیں کی خاطر نہ کبھی کوئی یارِ غار اُٹھا)
کند ہو جائیں گے سب وار تمہارے ظالم
تیر و شمشیر اٹھا خنجر و تلوار اٹھا

0
1
لطف و کرم کی دھر میں سوغات بانٹنے
فضل و رحم کے سارے انعامات بانٹنے
آمد امام صلح کی ہے اس لئے ظہیر
ماہ صیام آ گیا خیرات بانٹنے

0
1
بھٹک جاتے بہک جاتے ادھر جاتے ادھر جاتے
نہیں ہوتا درِ آلِ نبی تو ہم بکھر جاتے
سدھر جاتے مہک جاتے مقدر بھی سنور جاتے
منافق بغضِ حیدر چھوڑ کر جو ان کے در جاتے

0
1
مجھے کیا فکرِ محشر جب رسول اپنا امام اپنا
شفاعت پانے والوں میں یقیناً ہوگا نام اپنا
فرشتے غور سے دیکھے گے، جب آقا صدا دیں گے
اسے آنے دو کوثر پر، غدیری ہے غلام اپنا
غلام مرتضی ہوں، اس شرف پر ناز کرتا ہوں
*ملے معراج، گر سرکار خود کہہ دیں، غلام *

0
1
نسب سب سے اعلیٰ حسن عسکریؑ کا
ہے نوری گھرانہ حســــن عسکریؑ کا
گدا ہوں علیؑ کا حســــینؑ و حســــنؑ کا
امـــــامِ رضـــــاؑ کـا حسـن عسکریؑ کا
شرف کیا حسیں ہے کہ مولا، علیؑ ہے
ہمارا تمہــــارا حســـــن عســــکریؑ کا

0
1
زندگانی مری اس طرح بسر ہوتی ہے
نامِ حیدرڑ سے مری شام و سحر ہوتی ہے
ہر گھڑی ماتمِ شہ ؑ کرتی ہے میری دھڑکن
مرے اندر یوں عزا آٹھوں پہر ہوتی ہے
وہ جو باطل کے طرفدار ہیں ان کے حق میں
میری جو بات بھی ہوتی ہے شرر ہوتی ہے

0
1
محو حیرت ہے ابھی تک یہ زمانہ زینبؑ
کام نبیوں کا تھا جو کر کے دکھایا زینبؑ
ثانیئ حیدرؑ کرار ہیں عباس ؑجری
سارے عالم میں وقت ثانیئ زہراؐ زینبؑ
کربلا میں جو ہوئی دین کی خاطر روشن
ہیں اسی شمع شہادت کا اجالا زینبؑ

0
1
دیوار و در کو سبز گلوں سے سجایئے
جشنِ امام سبز قبا یوں منایئے
صلحِ حسنؑ تھی اصل میں تمہیدِ کربلا
نوکِ قلم کو تیغ سے نہ کم بتایئے
واعظ علیؑ کے نام سے چڑھتا تہ جس جگہ
بچوں کو اپنے بھیجئے نہ لے کے جایئے

0
1
ذکرِ علی سے دل کو مرے وہ خوشی ملی
ایسی خوشی جہاں میں نہ پھر دوسری ملی
دینِ خدا کو خم میں نئی زندگی ملی
پھر کربلا میں اسکو بقاء دائمی ملی
ہمکو شعور و علم و یقیں آگہی ملی
ذکرِ علی سے ہمکو نئی روشنی ملی

0
2
خوشنودیِ شبیر میں خدمت کے بہانے
آئے ہیں ملک آج در و بام سجانے
حسنینؑ نبی زادوں کا رکھا تھا خدا نے
عباسِؑ جری نام رکھا شیر خدا نے
اعمال کے دفتر کو فرشتوں نے سمیٹا
مرقد میں علیؑ آ گئے جب میرے سرہانے

0
2
ہمارے دیدۂِ نم سے جو اشکِ غم ٹپکتے ہیں
یہ موتی بنتے ہیں رومالِ زہرا میں چمکتے ہیں
غمِ دنیا میں کب آنکھوں سے یہ باہر نکلتے ہیں
مگر سن لیتے ہیں جب نامِ سرورؑ تو مچلتے ہیں
صدائیں لاکھ دیں دنیا کے رنج و غم اِنہیں لیکن
غمِ شبیرؑ کی آہٹ پہ ہی باہر نکلتے ہیں

0
1
ظلم کے پاس اگر تیر و تبر آج بھی ہے
حق کے متوالوں کا سینہ بہ سپر آج بھی ہے
ہم نے ہی صبر سے چیرا تھا جگر باطل کا
اور نسلوں میں ہماری یہ ہنر آج بھی ہے
شہ کے انکار نے مسمار کیا قصرِ یزید
صبرِ شبیرؑ کا آباد نگر آج بھی ہے

0
3
زہرا کے گلستاں کی گلِ تر ہے سکینہؑ
جان و جگرِ حیدرِ سفدر ہے سکینہ
کمسن ہے مگر اتنی قداور ہے سکینہ ؔ
مریمؑ ہیں جہاں بوند سمندر ہے سکینہؑ
کیا اس میں سمائے کہ میری فکر ہے کوزہ
اور ذکر ترا ایک سمندر ہے سکینہ

0
جس طرح حیدر سمجھتے تھے رسالت کا مزاج
بس یونہی احمد سمجتھے تھے امامت کا مزاج
حر چلا آیا سوئے سرور معافی کے لئے
جانتا تھا شیرِ مادر کی شرافت کا مزاج
تیر رویا ظلم ہارا اک ہنسی کے وار سے
منفرد تھا ننہے اصغر کی شجاعت کا مزاج

0
ہم اس کے در کے بندے ہمارا علیؑ علیؑ
کہتا ہوا چلا ہے ستارہ علیؑ علیؑ
سورج کی طرح میں بھی اندھیروں سے لوٹ آؤں
مجھ کو بھی صرف ایک اشارہ علیؑ علیؑ
جب چل نہ پائے رات کے تاریک تین دور
پھر صبحِ زندگی نے پکارا علیؑ علیؑ

0
1
ہم کو دولت چاہئے ہرگز نہ دولت چاہئے
بس غلامی کی درِ زینب سے نسبت چاہئے
خطبۂ زینبؑ ہے جاری دم بخود تاریخ ہے
سانس لینے کے لئے زینب سے مہلت چاہئے

2
25
تمہارا ذکر میرے لب پہ صبح و شام ہے زینبؑ
خدا کا مجھ پہ یہ سب سے بڑا انعام ہے زینبؑ
رسالت کی، امامت کی، شریعت کی حفاظت کی
بداولت آپ ہی کی آج یہ اسلام ہے زینبؑ
مقابل حق کے آنے کا برا انجام ہوتا ہے
حکومت شام کی ہے اور نہ تختِ شام ہے زینبؑ

1
24
آسماں بھی پست ہے اب ہم جہاں تک آ گئے
مدحِ عبّاسِ علی میں ہم یہاں تک آ گئے
بولا رضواں کس طرح پہنچے یہاں ہم نے کہا
سر درِ غازی پہ رکھا اور جناں تک آ گئے
اپنی مادر کی خطاؤں کاپتہ دیتے ہوئے
بغضِ حیدر میں منافق اب اذاں تک آگئے

1
28
رقم کی منقبت ہم نے جو عباسِؑ دلاور کی
لگا تائید حاصل ہو گئی خاتونِ محشر کی
اگر اچھی نہیں لگتی ہے تم کو بات خیبر کی
یقیناً کچھ نہ کچھ اس میں خطا شامل ہے مادر کی
کوئی اب چھو نہیں سکتا ہے اس حد کو قیامت تک
وفا کی آخری حد تھی جو غازی نے مقرر کی

25
شہؑ کے سجادؑ سے جس کو بھی محبت ہوگی
نہ قضاء اس کی کبھی کوئی عبادت ہوگی
آج اس بزم سے اعلان کیا جاتا ہے
ذکرِ سجادؑ سے محشر میں شفاعت ہوگی
آپ ملتے ہیں منافقت سے تو ملتے رہیے
ہم پہ کیا زور ہے، ہم سے نہ مروّت ہوگی

0
22
دوستی کرتے نہیں ہم صرف چہرہ دیکھ کر
رابطہ رکھتے ہیں لوگوں سے عقیدہ دیکھ کر
ذکرِ حیدرؑ آج بھی کرتا ہے کارِ ذوالفقار
شجرے سب آئینہ ہو جاتے ہیں چہرہ دیکھ کر

0
34
وہ دیکھو! ایک تارہ جو فلک پر جگمگاتا ہے
یہ وہ تارہ ہے جو در پر علیؑ کے سر جھکاتا ہے
بشکلِ وحئیِ حق جو حکمِ خالق لے کے آتا ہے
وہی جبریل اپنا سر درِ شہ پر جھکاتا ہے
ملک وہ ہے خدا کا یا وہ بندہ فاطمہ کا ہے
کبھی چکی چلاتا ہے، کبھی جھولا جھلاتا ہے

0
27
پڑھی تو تم نے بھی ہوگی حدیثِ بضعۃٗ مِنّی
کبھی سوچا بھی تم نے، قول یہ پڑھ کر پیمبرؐ کا
تمہیں بتلاؤ اب یہ فیصلہ تم پر ہی چھوڑا ہے
مزارِ فاطمہؐ توڑا کہ توڑا دل پیمبر کا

0
38
پھولوں کا ورد اصغرِؑ غنچہ دہن کا نام
بادِ صبا کے لب پہ ہے ابنِ حسنؑ کا نام
ہر خشک و تر جہاں میں ان کے ہی دم سے ہے
پیر و جواں کے لب پہ ہے شاہِ زمن کا نام
انساں تو کیا زمین و فلک، انبیاء ملک
ہے سب کی بوسہ گاہ اخئیِ حسن کا نام

0
29
ہوئے قربان اس کے جو ہوا خوش نامِ مولاؑ پر
مگر منکر کسی صورت ہمیں اچھا نہیں لگتا
ترے عاشق پہ ہم مولاؑ خوشی سے جان دیتے ہیں
ترا دشمن کسی صورت ہمیں اچھا نہیں لگتا

0
15
ہر کس و ناکس کا فتویٰ دین ہو سکتا نہیں
ہے شریعت حکم رب یا پھر کہامعصومؑ کا
ہر عمل بے کار اقرارِ ولایت کے بغیر
ٹل نہیں سکتا کسی صورت کہا معصوم کا

0
68
پُر ثمر اس کی دعاؤں کا شجر دیکھا ہے
شہؑ کے غم میں جسے با دیدۂِ تر دیکھا ہے
وہ جو مانگی گئیں پرچم کے خنک سائے میں
ان دعاؤں کو ہی مائل بہ اثر دیکھا ہے

0
121
دشمنِ آلؑ سے ہم کو جو یہ بے زاری ہے
کیا اسی بات پہ ہم سے تمہیں دشواری ہے
شعلے بھڑکیں گے مرے دل کے جب آئیں گے امامؑ
یہ برأت تو بس اک ہلکی سی چنگاری ہے
باغِ جنت میں بناتا ہے ہر اک بیت پہ گھر
ہر ثناخوان میں بہول سی فنکاری ہے

0
24
ولائے آل کے سکے عجیب سکے ہیں
ہر ایک دل پہ الگ اپنے نقش چھوڑتے ہیں
تم اپنی بزم میں یہ تذکرے کرو تو سہی
تمام بند دریچے یہ پل میں کھولتے ہیں
علی کے در سے ہی ملتی ہے علم کی خیرات
وہ بدنصیب ہیں جو ان کے در کو چھوڑتے ہیں

0
27
من کجا ذکر کجا تیرا منور زینبؑ
میں ہوں خاکی ہو ثنا نور کی کیونکر زینبؑ
لفظ کوثر میں دھلے اور اُسے لکھنے کے لیے
چاہیے ہے مجھے جبریل کا شہ پر زینبؑ
ثانی فاطمہ زہرؐا تری مدحت کے لیے
کم سے کم چاہیے ہے دوسرا کوثر زینبؑ

0
37
کہہ رہا ہے رب کہ سرور جو تمہارے ہو گئے
در حقیقت وہ سبھی بندے ہمارے ہو گئےحالتِ
سجدہ ہے اور پشتِ نبیؐ پر ہیں حسینؑ
اب خدا ہی جانے کیا ان میں اشارے ہوگئے
واہ کیا کہنا تری قسمت کہ لطفِ شاہؑ سے
یک ہی پل میں ترے حرؑ وارے نیارے ہوگئے

0
23
ہمیں غرض نہیں کس کو خدا سے ملتا ہے
ہمیں تو رزق درِ مرتضیٰ سے ملتا ہے
علی کے نقشِ قدم ہیں نجات کا رستہ
یہ راستہ ہے وہی جو خدا سے ملتا ہے
فضیلتیں تو ہیں مرہونِ منتِ حیدر
فضیلتوں کو شرف مرتضیٰ سے ملتا ہے

0
24
ہے قیامت کی گھڑی حق کے ولی روتے ہیں
عرش پر سارے ملک سارے نبی روتے ہیں
خلد میں حوروں کے رونے سے ہے ہنگام بپا
نوحہ کرتے ہوئے غلمان سبھی روتے ہیں
مضطرب غم سے ہیں اس درجہ علی شیر خدا
دیکھتے ہیں کبھی بچوں کو کبھی روتے ہیں

0
30
جو قریبِ دشمنِ حیدرؑ ذرا سا ہو گیا
پھر تو کوسوں فاصلہ جنت سے اس کا گیا
کھل اُٹھا مومن کا چہرہ سن کے مدحِ مرتضیٰؑ
اور منافق کے لئے یہ ذکر شعلہ ہوگیا
وردِ اسمِ مرتضیؑ کا معجزہ تو دیکھئے
مینے جب بھی، جو بھی سوچا، جیسا چاہا، ہوگیا

0
22
ظلم کے پاس اگر تیر و تبر آج بھی ہے
حق کے متوالوں کا سینہ بہ سپر آج بھی ہے
ہم نے ہی صبر سے چیرا تھا جگر باطل کا
اور نسلوں میں ہماری یہ ہنر آج بھی ہے
شہ کے انکار نے مسمار کیا قصرِ یزید
صبرِ شبیرؑ کا آباد نگر آج بھی ہے

0
35
لبوں پر آلِ احمدؑ کی ثنا ہے
مجھے حیرت سے قرآں دیکھتا ہے
شفاخانہ میرا کرب و بلا ہے
غمِ شبیرؑ ہر غم کی دوا ہے
یہ کہہ کر حُرؑ چلا ہے سوئے سرور
یہی جنت کا سیدھا راستہ ہے

0
13
ہے یہ ارشادِ محمدؐ اور یہی فرمان ہے
کلِ ایماں سے محبت اصل میں ایمان ہے
الفتِ آلِ محمدؑ ہے نجاتِ اخروی
ہے یہی اپنا عقیدہ اور یہی ایمان ہے
دیکھ کر مجھ کو غدیرِ خُم کا منظر یو لگا
جیسے اک قرآن پر رکھا ہوا قرآن ہے

0
24
ہم اس کے در کے بندے ہمارا علیؑ علیؑ
کہتا ہوا چلا ہے ستارہ علیؑ علیؑ
سورج کی طرح میں بھی اندھیروں سے لوٹ آؤں
مجھ کو بھی صرف ایک اشارہ علیؑ علیؑ
جب چل نہ پائے رات کے تاریک تین دور
پھر صبحِ زندگی نے پکارا علیؑ علیؑ

0
34
وہ ہوں گے کیسے بھلا تیرے سوگوار حسینؑ
دلوں میں جن کے نہیں مصطفیٰؐ سے پیار حسینؑ
لہو سے گلشنِ اسلام تونے سینچا ہے
خدا دین بھی ہے تیرا قرضدار حسینؑ
تمہاری یااد سے خالی نہ ایک لمحہ ہو
دھڑکتے دل سے سدا آئے بار بار حسینؑ

0
17
منزلیں گُم ہو چکی ہیں، سخت ہے رستہ بہت
اب ضروری ہو گیا ہے آپ کا آنا بہت
آئیے، اب آئیے، اب آیئے، آ جائیے
دل بہت اکتا گیا ہے اے مرے مولا بہت
کربلا سے آج تک مجھ کو نظر آیا نہیں
کوئی حُر جیسا مقدر کا دھنی ڈھونڈا بہت

0
24
علیؑ کے ذکر سے جلتے ہیں کیا کیا جائے
وہ روشنی سے ہی ڈرتے ہیںکیا کیا جائے
وہ جن کے ہاتھوں میں دامانِ مرتضیٰؑ ہی نہیں
وہ لوگ ہاتھ ہی ملتے ہیں کیا کیا جائے
خود اپنے جسم پہ تحریرِ عشق لکھنے کو
ہمارے بچے مچلتے ہیں کیا کیا جائے

0
26
الفت آل کا سایہ مرے سر پر کر دے
ذکرِ حیدر سے مرا قلب منور کر دے
میں بھی کہلاؤں غلام ابنِ غلام ابنِ غلام
مجھ کو بھی خادمِ سلمان و ابوذر کر دے
کربلا مجھ کو زیارت کے لئے جانا ہے
اے خدا خضر کو تو ساتھ مقرر کردے

0
19
فلک پہ جب تک نجوم کا سلسلہ رہے گا
ہر اہلِ دل میں حسینؑ غم آپکا رہے گا
ہمارے غم میں حسینؑ غم آپکا رہے گا
خوشی میں اپنی لبوں پہ ذکرِ ثنا رہے گا
جو بد نسب ہے، وہی خلافِ عزا رہے گا
حسینؑ کا غم، سدا رہا ہے، سدا رہے گا

0
14
ہمارے دل میں جو روشن ہیں کربلا کے چراغ
کریں گے قبر کو روشن یہی عزا کے چراغ
ہوائے ظلم کا اِک دَم میں دَم نکل جائے
اُٹھا کے سامنے رکھ دیں اگر عزا کے چراغ
وفائیں نسلوں میں تاحشر جگمگائیں گی
علم کے سامنے روشن کرو وفا کے چراغ

26
جب بھی ہم مجلسِ شبیرؑ بپا کرتے ہیں
ذکر یہ آکے فرشتے بھی سنا کرتے ہیں
ذکرِ سرورؑ سے مرے دل کو سکوں ملتا ہے
آپ اس ذکر سے بےکار جلا کرتے ہیں
جن کو مجلس سے اُٹھایا تھا رسولِؐ رب نے
نامِ مجلس سے وہی لوگ جلا کرتے ہیں

40
تم نے معراج کی شب پردے کے باہر دیکھا
ہم علیؑ والوں نے منظر پسِ منظر دیکھا
اس نے کیا دیکھا، اگر خلد کا منظر دیکھا
جاکے جس نے نہ کبھی روضۂِ سرورؑ دیکھا
جب سے رکھی ہے جبیں در پہ تمہارے مولاؑ
ہم نے دنیا کی طرف پھر نہ پلٹ کر دیکھا

14
راز شہؑ کے ماتم کا ہم نہیں بتائیں گے
نعمتِ عزا ہے کیا ہم نہیں بتائیں گے
مجلس و عزاداری، یہ بھی ایک وعدہ ہے
کس کا کس سے ہے وعدہ ہم نہیں بتائیں گے
مجلس بپا کرکے شاہؑ پر بکا کرکے
کیا سکون ہے ملتا ہم نہیں بتائیں گے

17
مصرعہ طرح: علی کا نام مصیبت کو ٹال دیتا ہے
ہمیں غموں کے بھنور سے نکال دیتا ہے
علی کا نام مصیبت کو ٹال دیتا ہے
گلوں کو رنگ کرن مہر کو شجر کو ثمر
جو جس کو دیتا ہے بس لازوال دیتا ہے
جہاں میں آنے سے پہلے ہی بطنِ مادر میں

74
اس کے در کے سامنے یا اس کے گھر کے سامنے
خم جبیں کرتے ہیں بس زہراؐ کے در کے سامنے
مرسلِِ اعظم پئے تعظیم ٹھہرے ہوں جہاں
جائیں ہم اس کے سوا پھر کس کے در کے سامنے
مانگ لو تم بھی اسی در سے وہیں سجدے کرو
ہوں سوالی خود ملائک جس کے در کے سامنے

26
عشقِ علیؑ میں ڈوبے رہنا اچھا لگتا ہے
ذکرِ علیؑ کے موتی چننا اچھا لگتا ہے
مولا تیرے دید کی حسرت زیست کی لذ ت ہے
تیرے عشق میں جینا مرنا اچھا لگتا ہے
کہتے ہیں پاگل دیوانہ لوگ مگر ہم کو
حیدرؑ حیدرؑ کرتے رہنا اچھا لگتا ہے

55
مصرعہ طرح : تین سو پھولوں کا گلدستہ ہمارے پاس ہے
بروزنِ : لا فتیٰ الاّ علی لا سیف الّا ذوالفقار
یہ نہ پوچھو دین میں کیا کیا ہمارے پاس ہے
بس یوں سمجھو دین ہی سارا ہمارے پاس ہے
دینِ حق کا ہے جو سرمایہ ہمارے پاس ہے
ضربِِ حیدر، شاہ کا سجدہ ہمارے پاس ہے

24
مصرعہ طرح : ناشر علی کے عشق میں جاں سے گزر گئے
انکے نصیب اُنکے مقدر سنور گئے
چہرے علیؑ کے ذکر سے جنکے نکھر گئے
ہم جستجوئے رب میں نہ پوچھو کدھر گئے
آئے علی علی ہی نظر ہم جدھر گئے
صد شکر جس گلی میں گئے، جس نگر گئے

23
دوستی کرتے نہیں ہم صرف چہرہ دیکھ کر
رابطہ رکھتے ہیں لوگوں سے عقیدہ دیکھ کر
ذکرِ حیدرؑ آج بھی کرتا ہے کارِ ذوالفقار
شجرے سب آئینہ ہو جاتے ہیں چہرہ دیکھ کر

32
ہمارے دیدۂِ نم سے جو اشکِ غم ٹپکتے ہیں
یہ موتی بنتے ہیں رومالِ زہرا میں چمکتے ہیں
غمِ دنیا میں کب آنکھوں سے یہ باہر نکلتے ہیں
مگر سن لیتے ہیں جب نامِ سرورؑ تو مچلتے ہیں
صدائیں لاکھ دیں دنیا کے رنج و غم اِنہیں لیکن
غمِ شبیرؑ کی آہٹ پہ ہی باہر نکلتے ہیں

0
47
بات تو سچ ہے کہ ہے کچھ چاند پر لکھا ہوا
ہاں مگر ثابت نہیں کیا ہے جو ہے ابھرا ہوا
کوئی یہ کہتا ہے اس پر نام ہے لکھا ہوا
مجھ کو لگتا ہے کہ یہ کچھ اور ہے ابھرا ہوا
بعض کا کہنا ہے کچھ اور بعض کا کہنا کچھ اور
کیا ہے آخر چاند کے سینے پہ یہ ابھرا ہوا

0
29
یہ نہ پوچھو کربلا کی جنگ میں کیا کیا ہوا
بس یہ دیکھو دو جہاں میں کس کا سر اونچا ہوا
قطعہ بند
جا رہا ہوں اس طرف قرآں سراپا ہے جدھر
حرؑ چلا آیا سوئے سرور یہی کہتا ہوا
حرؑ کا آنا شاہِ دیں کے ساتھ ثابت کر گیا

0
19
ان کے دل کو نہیں بھاتی ہیں غدیری باتیں
اور ہم کو فقط آتی ہیں غدیری باتیں
اِک مصور نظر آتی ہیں غدیری باتیں
خم کی تصویر بناتی ہیں غدیری باتیں
ہے سقیفہ سے ترے منہ کا مزا بگڑا ہوا
یہ جو تجھ کو نہیں بھاتی ہیں غدیری باتیں

0
36
مصرعہِ طرح: زمانے والے علی کی مثال کیا دیں گے
علم میں مشکِ سکینہؑ جو ہم سجا دیں گے
دعائیں حضرتِ عباسِؑ با وفا دیں گے
زمانے والے علیؑ کی مثال کیا دیں گے
بہت ہوا بھی تو نامِ خدا بتادیں گے
ستائے گی جو ہمیں ظلم کی ہوا تو ہم

0
148
مصرعہِ طرح: آنکھوں سے اشکِ غم کا رشتہ نیا نہیں ہے
زہراؐ کے جو عدو کو کہتا برا نہیں ہے
کوئی ہو اس سے میرا کچھ واسطہ نہیں ہے
الفت میں پنجتن کی دنیا سے اُٹھنے والا
مر تو گیا بظاہر لیکن مرا نہیں ہے
کہتا ہے یہ نصیری اپنا خدا علیؑ کو

0
20