کہہ رہا ہے رب کہ سرورؑ جو تمہارے ہو گئے
در حقیقت وہ سبھی بندے ہمارے ہو گئے
....................
جس نے دیکھا روضۂ سرورؑ یہی کہتا ملا
یوں لگا جیسے کہ جنت کے نظارے ہو گئے
....................
تشنگی، صبر و رضا، صحرا، بیاباں، شامِ غم
کربلا کے بعد یہ سب استعارے ہوگئے
....................
واہ کیا کہنا تری قسمت کہ لطفِ شاہؑ سے
ایک ہی پل میں ترے حرؑ وارے نیارے ہوگئے
....................
حالتِ سجدہ ہے اور پشتِ نبیؐ پر ہیں حسینؑ
اب خدا ہی جانے کیا ان میں اشارے ہوگئے
....................
گردشِ دنیا نے جتنے بھی دئے اک آن میں
ذکرِ شہ سے مندمل وہ زخم سارے ہو گئے
....................
عاشقانِ شاہِؑ دیں کو دیکھ کر روزِ حساب
خود کہے گی خلد کہ یہ سب ہمارے ہوگئے
....................
لے جہنم تیری سیرابی کا بھی سامان ہے
دشمنِ سرورؑ ہیں جتنے سب تمہارے ہو گئے
....................
عرش پر جیسے ہی پہنچا چوم کر زہراؐ کا در
سر بہ خم زُہرہ کے آگے سارے تارے ہو گئے
....................
شعر کہہ کر قلب میرا مطمئن ہے اے ظہیر
یا یوں کہئے میری بخشش کے سہارے ہو گئے

0
55