علی کے در پہ ہو جس کی رسائی
خدا مل جائے مل جائے خدائی
جہاں سے نور آیا تھا وہیں سے
علی کے واستے تلوار آئی
مدد کرتا تھا جو سب انبیا کی
اسی نے کی مری مشکلکشائی
رکا رہتا ہے سر کٹ کر بھی تن پر
علی کی تیغ کی یہ ہے صفائی
فضائل لکھ نہیں سکتے علی کے
سمندر سارے گر ہوں روشنائی
خدا نے دل میں رکھ حبِّ حیدر
جو حق کی راہ ہے ہم کو دکھائی
زہے قسمت کہ مادر نے ہماری
علی کے عشق کی گھٹی پلائی

0
2