جس طرح حیدر سمجھتے تھے رسالت کا مزاج
بس یونہی احمد سمجتھے تھے امامت کا مزاج
حر چلا آیا سوئے سرور معافی کے لئے
جانتا تھا شیرِ مادر کی شرافت کا مزاج
تیر رویا ظلم ہارا اک ہنسی کے وار سے
منفرد تھا ننہے اصغر کی شجاعت کا مزاج
کیوں گئے نانا کے منبر پر اتر آؤ ابھی
کر دیا یوں صاف شبر نے خلافت کا مزاج
لاکھ پڑھ لے کوئی قرآن کچھ سمجھ سکتا نہیں
جس کو پڑھنا ہی نہیں آتا عبارت کا مزاج

0