Circle Image

باصر نسیم

@Basirnasim1

منہ پھلانے سے کچھ نہیں ہوگا
روٹھ جانے سے کچھ نہیں ہوگا
کوئی آواز احتجاج کے ساتھ
لب ہلانے سے کچھ نہیں ہوگا
سانپ کے بعد اب لکیر نہ پیٹ
دھول اڑانے سے کچھ نہیں ہوگا

0
2
مجھےآزاد ہونا ہے
سمندر کی روانی سے
کنارے کی کہانی سے
مجھے آزاد ہونا ہے
مجھے آزاد ہونا ہے
گل و بلبل کے قصے سے

0
4
میں اشکوں کی گھٹا ہوں دورِ حاضر
میں صیدِ بے نوا ہوں دورِ حاضر
رگوں میں رنگ ہے اب خوں کے بدلے
میں اک برگِ حنا ہوں دورِ حاضر
مرا احساس ماضی کا فسانہ
میں پتھر ہو گیا ہوں دورِ حاضر

0
4
خواب بکھرے جو نفرتیں ابھریں
جانے کیسے قیامتیں ابھریں
آنکھ کے پاس اک خزانہ تھا
بعد تیرے حقیقتیں ابھریں
میرے میخانے دوزخوں کی طرح
تیرے ساغر میں جنتیں ابھریں

0
4
شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا نہ تھا
میں ہواؤں کے لئے ہلکا نہ تھا
سب مناظر جھوٹ سے منسوب تھے
اے خدا تیرا کہیں چرچا نہ تھا
جاں بلب تھے زندگی کے قافلے
شہر میں پانی بھرا دریا نہ تھا

0
6
ستاروں سے کہیں آگے کا رستہ سوچتا ہوں
میں دنیا کی نظر سے اب تو اپنا سوچتا ہوں
ہزاروں خوف دامن گیر ہیں اہلِ جہاں کو
کبھی خوفِ خدا میں دل دھڑکتا سوچتا ہوں
دریچے چیختے ہیں آندھیوں کی یورشوں میں
کوئی اپنے لیے بھی گھر تڑپتا سوچتا ہوں

0
7
بھیگی آنکھوں میں خواب سوکھ گئے
تم گئے تو گلاب سوکھ گئے
آرزو کا نہ کوئی پھول کھلا
دید کے جب سحاب سوکھ گئے
جن کو پڑھ کے وفا نبھانی تھی
روح کے وہ نصاب سوکھ گئے

0
14
جبر کے موسم میں خود سے منصفی کرکے دکھا
کچھ نہیں تو احتجاجاً خود کشی کرکے دکھا
حرف کے آنگن میں رکھ کے فکر کے روشن چراغ
بے ہنر سی محفلوں میں روشنی کرکے دکھا
بزمِ گویائی میں گونجے گا سدا تیرا سخن
کچھ الگ سے ذائقے کی شاعری کرکے دکھا

2
19
راحتوں میں لپیٹ ہم کو بھی
پھر سے دل میں سمیٹ ہم کو بھی
سب کو میٹھی نظر کی سوغاتیں
کچھ چکھا چاکلیٹ ہم کو بھی
کوچہِ ہجر میں نہ مرجائیں
دےدے ملنے کی ڈیٹ ہم کو بھی

0
12
سمندر ہو کے جو خاموش صحراؤں سے ڈرتے ہیں
مرے گھر میں کچھ ایسے بے اماں بچے بھی پلتے ہیں
نہ ہوتے یہ تو کب کھلتی در و دیوار کی حالت
مجھے تو زلزلے بھی اپنے مخلص دوست لگتے ہیں
ابھی تنہائیوں کی زندگی میں ہے چہک باقی
ابھی دن رات اپنے خود کلامی میں گزرتے ہیں

0
5
سمندر ہوکے جو خاموش صحراؤں میں جیتے ہیں
یہ اپنے آپ میں سوئے ہوئے لوگوں کے قصّے ہیں
کہانی کے سبھی کردار میرے بھائی تھے لیکن
عروجِ داستاں کے وقت سب قابیل نکلے ہیں
وفا کے راستوں پر یوں بھٹکتا پھر رہا ہوں اب
کہ جیسے لوٹنے والے سے اپنے دل کے رشتے ہیں

0
5
رکے ہوئے ہیں زمانے یہ کیسے موسم ہیں
وہ چپ کھڑی ہے سرہانے یہ کیسے موسم ہیں
لگا ہے حلقہِ احباب کس بھروسے پر
مرا وجود مٹانے یہ کیسے موسم ہیں
نہ جانے کب نکل آیا تھا اپنے بچپن سے
میں روزی روٹی کمانے یہ کیسے موسم ہیں

0
11
مرے من میں چھپا ہے اک خزانہ
میں اپنے آپ میں اترا تو جانا
کسی کے ہجر میں دے کے یہ دنیا
مقدر کر لیے ہیں شاعرانہ
دیارِ غیر میں ہوں دل گرفتہ
کہ راس آتا نہیں موسم سہانا

0
9
یہ سارے لوگ جو بیٹھے ہیں اب چراغ کے گرد
جب آئے تھے تو ہواؤں سے مل کے آئے تھے
یہ کیا کہ ایک ہی حملے میں ہوگئے سب ڈھیر
یہ جنگجو تو خداؤں سے مل کے آئے تھے
جہاں کے مال نے ان کو بھی کر دیا تقسیم
جو اپنی ماں کی دعاؤں سے مل کے آئے تھے

0
5
کار و بارِ زیست کا سود و زیاں دیکھیں گے ہم
اب ضرورت کی نظر سے یہ جہاں دیکھیں گے ہم
کیا کھلے گا حسبِ وعدہ بادبانِ آرزو
یا سفینے ڈوبتے آبِ رواں دیکھیں گے ہم
لوگ پھولے جارہے ہیں کثرتِ اموال سے
اب غباروں کا فضا میں کارواں دیکھیں گے ہم

0
14
سنا جائے اسے ہر دم ہے کتنا دل نشیں لہجہ
گماں کی وادیوں میں بھی سراپا پر یقیں لہجہ
کبھی آواز کی لرزش سے تارے جھلملاتے ہیں
کبھی ماحول میں بھر دے شرارے آتشیں لہجہ
کبھی سوچوں کے دھارے پر ہویدا دوست کی مانند
کبھی حسنِ سماعت کو نکھارے انگ بیں لہجہ

0
9
یہی سوچا ہے اب ہم نے زمانہ ساز ہونا ہے
کسی کا راز رکھنا ہے کسی کا راز ہونا ہے
کسی کا راستہ بن کر دکھانی ہے اسے منزل
کسی کے ساتھ گمراہی میں ہم آواز ہونا ہے
کسی کی خلوتوں میں جلوتوں کے رنگ بھرنے ہیں
کسی کی جلوتوں میں خلوتوں کا ساز ہونا ہے

0
13
سراپا ہجر کے آثار بانٹے
وہ دل کے شہر میں اغیار بانٹے
جلا کر آنکھ کی شمعیں وہ اکثر
نئے موسم نئے تہوار بانٹے
کمی ہوگی نہ اپنی چاہتوں میں
وہ چاہے نفرتیں سوبار بانٹے

0
9
آسمانِ زندگی پر راہبر ٹوٹے ہوئے
راستے ٹوٹے ہوئے پرواز و پر ٹوٹے ہوئے
چلتے چلتے تھک گئے ہیں آگہی کے شہر میں
جیسے مٹی کے ہیولے چاک پر ٹوٹے ہوئے
تیرگی کے کارواں منزل بہ منزل گام زن
روشنی کے ساز و ساماں در بہ در ٹوٹے ہوئے

0
14
حوادث کے بیابانوں میں دوڑے عمریں گزری ہیں
اسے خوابوں کے دروازے پہ چھوڑے عمریں گزری ہیں
مری آنکھوں کے پانی میں نہیں وہ کاٹ پہلے سی
کہ دل میں درد کے لیموں نچوڑے عمریں گزری ہیں
شکستہ آرزو کے در پہ اک مردہ سا دل جیسے
پڑا ہے عشق سے ہر رشتہ توڑے عمریں گزری ہیں

0
21
نہ ہو کے بھی وہ گھر ہوتی ہے گھر سونا نہیں پڑتا
اسے محسوس کرنے کے لیے چھونا نہیں پڑتا
وہ میرے دل میں اور میں اسکے دل میں سانس لیتا ہوں
ہمیں غم جھیلنے کا خرچ کچھ دونا نہیں پڑتا

0
9
وسعتِ صحرا میں اجڑے موسموں سے ہوگئے
بولتے دریا بھی گونگے منظروں سے ہوگئے
جن کی پیشانی میں روشن تھیں جہاں کی رفعتیں
میرے گھر کے راستے میں راستوں سے ہوگئے
دشت پہنے پھر رہا تھا شہرکا ہر آدمی
دھوپ کے گنبد میں ہیرے کوئلوں سے ہوگئے

21
سمندر کے تھپیڑوں میں کنارا کیوں نہیں ہوگا
تمھارا گر خدا ہے تو ہمارا کیوں نہیں ہوگا
کوئی بھی آزمائش ہو اکٹھے سرخ رو ہونگے
یہ نیت ہے تو جانِ من گزاراکیوں نہیں ہوگا
محبت کے تقاضوں میں وفا پہلا تقاضا ہے
اگر دریا میسر ہے تو دھارا کیوں نہیں ہوگا

0
19
لُٹے تن بھی نہ ڈھانپے عدلِ حاکم کی رداؤں نے
گھٹن کے کشتگاں کا مرثیہ لکھا ہواؤں نے
مرے صحرا بھی ذر خیزی میں گلشن کی روایت تھے
مجھے بنجر کیا تیری عنایت کی گھٹاؤں نے
کوئی پھل پھول سکتا ہے دُکھی لوگوں کے جنگل میں
مجھے سرسبز رکھا ہے غریبوں کی دعاؤں نے

2
27
جب دل میں درد نہیں ہوتا
چہرہ بھی زرد نہیں ہوتا
تو عزم و عمل کا ابر سہی
صحرابھی گرد نہیں ہوتا
مردانگی جوہرِ دیگر ہے
ہر آدمی مرد نہیں ہوتا

0
25
اب تو کوئی ساتھ جائے دور تک اور دیر تک
آنکھ سے دل میں سمائے دور تک اور دیر تک
چاند کے تاریک گوشے بھی فروزاں ہوں کبھی
آنکھ یوں بھی دیکھ پائے دور تک اور دیر تک
کرب کے بے رحم بادل کب چھٹیں کس کو خبر
آنکھ صحرا ہو نہ جائے دور تک اور دیر تک

41
کبھی بے باک شاہیں خوں چکیدہ پر سے نکلے گا
جسے مہمل سمجھتا ہے وہ اک دن ڈر سے نکلے گا
کسی دیوار کے تابوت میں خاموشیاں چن کر
مرا قامت مرے اظہار کے پتھر سے نکلے گا
اگر چہ ہر سپاہی دل گرفتہ ہے مگر ہمدم
کوئی قائد کوئی باغی اسی لشکر سے نکلے گا

37
لوگ بھی چپ ہیں مرے دل کی صداؤں کی طرح
کون بولے گا بیاباں کی ہواؤں کی طرح
ذرے ذرے کی رعونت ترے ماحول کی شان
میرا احساس تمدن کسی گاؤں کی طرح
بوئے گل ہوں تو نہ رکھ مجھ سے تعلق کوئی
فصل گل ہوں تو مجھے اوڑھ رداؤں کی طرح

0
33
لبوں کے آشیانے میں
نہ باتوں کا پرندہ ہے
نہ سوچوں کی کہانی میں
کوئی کردار زندہ ہے
یہ آنکھیں ہیں کہ اجڑی آرزو کی زرد سی جھیلیں
کہیں بے رونقی کے بدنما کاجل

0
33
ہر کوئی شادماں ہے خوابوں میں
کیسا اچھا جہاں ہے خوابوں میں
تم بھی بیٹھے ہو میرے پہلو میں
گھر کی صورت مکاں ہے خوابوں میں
تیر اپنے ہدف پہ لگتا ہے
معجزاتی کماں ہے خوابوں میں

0
29
خموشی کے پیمبر بولتے ہیں
مرے ہاتھوں میں پتھر بولتے ہیں
میں دریاؤں سے کیا بولوں کہ باصر
سمندر سے سمندر بولتے ہیں

0
37
یہ مری سوچ سے آگے ہیں مرے ساتھ نہیں
خطرہ پاتے ہی جو بھاگے ہیں مرے ساتھ نہیں
ہم تو جاگے ہیں کہ خطروں سے تھا لڑنا اک دن
بھاگ جن کے نہیں جاگے ہیں مرے ساتھ نہیں
لوگ احساس کی بھٹی میں بھی کندن نہ ہوئے
کیسے الجھے ہوئے دھاگے ہیں مرے ساتھ نہیں

0
30
پرندے کے پروں میں قوتِ پرواز تجھ سے ہے
ممولا ہے کہ راہِ شوق کا شہباز تجھ سے ہے
یہ رتبہ ماں کی ہستی کا کوئی جھٹلا نہیں سکتا
کہ دنیا میں ہراک آغاز کا آغاز تجھ سے ہے
تری سانسوں میں پلتی تھیں مرے ہونے کی آشائیں
مرا رونا مرا ہنسنا مری آواز تجھ سے ہے

2
72
ہوا مسافر مسافروں کی ادا مسافر
زمیں پہ خوشبو فلک پہ اڑتی گھٹا مسافر
گئی رتوں کے حسین تحفے سنبھال رکھنا
کہ جس سے قائم بہار تھی وہ چلا مسافر
سنا ہے سنتا ہے رب دعائیں مسافروں کی
ہمارے حق میں بھی کرتے جانا دعا مسافر

0
37
جب سرِ مقتل کسی خود سر کا سر بکتا نہ تھا
سب کے گھر محفوظ تھے کوئی بھی گھر بکتا نہ تھا
لوگ قائم تھے حوادث میں چٹانوں کی طرح
راستہ بکتا نہ تھا عزمِ سفر بکتا نہ تھا
چاند کے ہالے بھی اپنے ساتھ تھے محوِ سفر
کھوٹ کے بازار میں جب راہ بر بکتا نہ تھا

0
56
نرگسِ شہلا کو بینائی کا دکھ
میری آنکھوں میں ہے تنہائی کا دکھ
چاک دامانی کی رسمیں لد گئیں
اب رفو کر لو شناسائی کا دکھ
ٹُوٹ جانے میں صدا کی زندگی
لوچ کھانے میں جبیں سائی کا دکھ

0
74
ابھی آزما لو..
ہوا تیرے آنگن میں رقصاں رہے گی
چراغوں کے سائے بھی محفوظ ہونگے
کسی پیڑ پر کوئی سرسبز پتّا نہ انگڑائی لےگا نہ جھومے گا جب تک
تری آنکھ اذنِ تحّرک نہ دے گی
اجازت کا اس کو تبرّک نہ دے گی

0
60