یہ سارے لوگ جو بیٹھے ہیں اب چراغ کے گرد
جب آئے تھے تو ہواؤں سے مل کے آئے تھے
یہ کیا کہ ایک ہی حملے میں ہوگئے سب ڈھیر
یہ جنگجو تو خداؤں سے مل کے آئے تھے
جہاں کے مال نے ان کو بھی کر دیا تقسیم
جو اپنی ماں کی دعاؤں سے مل کے آئے تھے
یہ من کا دشت کہ بس دشت ہی رہا باصر
اگرچہ ہم بھی گھٹاؤں سے مل کے آئے تھے

0
7