آسمانِ زندگی پر راہبر ٹوٹے ہوئے
راستے ٹوٹے ہوئے پرواز و پر ٹوٹے ہوئے
چلتے چلتے تھک گئے ہیں آگہی کے شہر میں
جیسے مٹی کے ہیولے چاک پر ٹوٹے ہوئے
تیرگی کے کارواں منزل بہ منزل گام زن
روشنی کے ساز و ساماں در بہ در ٹوٹے ہوئے
آشیانہ تو جلایا جا چکا ان کا مگر
ڈٹ گئے ہیں دو پرندے شاخ پر ٹوٹے ہوئے

0
18