خموشی کے پیمبر بولتے ہیں
مرے ہاتھوں میں پتھر بولتے ہیں
سزاؤں سے نہ بچ پائیں گے قاتل
کہ خوں آلود خنجر بولتے ہیں
جہاں بنتی ہے صورت بولنے کی
وہاں لازم مقدر بولتے ہیں
اگر فطرت سے مستحکم ہو رشتہ
تو من میں گونگے منظر بولتے ہیں
جو کاٹیں رتجگے گو خامشی سے
سویرے ان کے بستر بولتے ہیں
میں دریاؤں سے کیا بولوں کہ باصر
سمندر سے سمندر بولتے ہیں

0
48