نرگسِ شہلا کو بینائی کا دکھ
میری آنکھوں میں ہے تنہائی کا دکھ
چاک دامانی کی رسمیں لد گئیں
اب رفو کر لو شناسائی کا دکھ
ٹُوٹ جانے میں صدا کی زندگی
لوچ کھانے میں جبیں سائی کا دکھ
جب بھی بستی ہیں گُلوں کی بستیاں
پھیلنے لگتا ہے سودائی کا دکھ
میرے ہی غم کا ہے باصر ترجماں
بانسری کا ہو کہ شہنائی کا دکھ

0
87