لوگ بھی چپ ہیں مرے دل کی صداؤں کی طرح
کون بولے گا بیاباں کی ہواؤں کی طرح
ذرے ذرے کی رعونت ترے ماحول کی شان
میرا احساس تمدن کسی گاؤں کی طرح
بوئے گل ہوں تو نہ رکھ مجھ سے تعلق کوئی
فصل گل ہوں تو مجھے اوڑھ رداؤں کی طرح
کون جیتا ہے مرے دوست مفادات کی جنگ
یوں نہ ہو گونجتے رہ جاؤ نواؤں کی طرح
اوندھے منہ خاک میں غلطاں ہیں ہزاروں سلطاں
جو رعایا پہ گرجتے تھے خداؤں کی طرح

0
40