کبھی بے باک شاہیں خوں چکیدہ پر سے نکلے گا
جسے مہمل سمجھتا ہے وہ اک دن ڈر سے نکلے گا
کسی دیوار کے تابوت میں خاموشیاں چن کر
مرا قامت مرے اظہار کے پتھر سے نکلے گا
اگر چہ ہر سپاہی دل گرفتہ ہے مگر ہمدم
کوئی قائد کوئی باغی اسی لشکر سے نکلے گا
کڑکتی بجلیاں ہیں بارشیں ہیں سخت موسم ہیں
مگر دشمن نہیں باہر ترے اندر سے نکلے گا
روایت کے تسلسل میں نئی باتیں بھی کہنی ہیں
کوئی منجھا ہوا مسلم اسی کافر سے نکلے گا

42