یہی سوچا ہے اب ہم نے زمانہ ساز ہونا ہے
کسی کا راز رکھنا ہے کسی کا راز ہونا ہے
کسی کا راستہ بن کر دکھانی ہے اسے منزل
کسی کے ساتھ گمراہی میں ہم آواز ہونا ہے
کسی کی خلوتوں میں جلوتوں کے رنگ بھرنے ہیں
کسی کی جلوتوں میں خلوتوں کا ساز ہونا ہے

0
16