وسعتِ صحرا میں اجڑے موسموں سے ہوگئے
بولتے دریا بھی گونگے منظروں سے ہوگئے
جن کی پیشانی میں روشن تھیں جہاں کی رفعتیں
میرے گھر کے راستے میں راستوں سے ہوگئے
دشت پہنے پھر رہا تھا شہرکا ہر آدمی
دھوپ کے گنبد میں ہیرے کوئلوں سے ہوگئے
دل لبھاتی ہے اب اپنی ہی صدائے بازگشت
پربتوں سے ہم لُڑھکتے وادیوں سے ہوگئے

32