راحتوں میں لپیٹ ہم کو بھی
پھر سے دل میں سمیٹ ہم کو بھی
سب کو میٹھی نظر کی سوغاتیں
کچھ چکھا چاکلیٹ ہم کو بھی
کوچہِ ہجر میں نہ مرجائیں
دےدے ملنے کی ڈیٹ ہم کو بھی
بانٹنے والے تیرے حسن کی خیر
ڈال دے اک پلیٹ ہم کو بھی
حل کریں عشق کے سوال اگر
وصل کی دو سلیٹ ہم کوبھی
حرص کے دائروں میں سرگرداں
کاش ملتا نہ پیٹ ہم کو بھی
ہم ہیں نسلوں سے چاہتوں کے امیں
اور ملتی ہے ہیٹ ہم کو بھی

0
17