حوادث کے بیابانوں میں دوڑے عمریں گزری ہیں
اسے خوابوں کے دروازے پہ چھوڑے عمریں گزری ہیں
مری آنکھوں کے پانی میں نہیں وہ کاٹ پہلے سی
کہ دل میں درد کے لیموں نچوڑے عمریں گزری ہیں
شکستہ آرزو کے در پہ اک مردہ سا دل جیسے
پڑا ہے عشق سے ہر رشتہ توڑے عمریں گزری ہیں

0
24