Circle Image

مجاہد حسین فانی

@mhkhan505

جن سے امید تھی وہ بھی تو نہ اچھا سمجھے
اب زمانہ بھی نجانے مجھے کیا کیا سمجھے
اپنی قسمت میں ہی لکھا نہ تھا ہمسر ہونا
ہم نے اک عمر تو اک دوجے کو پرکھا سمجھے
اس کی خاطر تو میں یہ جاں بھی نچھاور کر دوں
کوئی تو ہو جو مجھے جاں سے بھی پیارا سمجھے

0
10
ایسا نہیں کہ دل نے اشارہ نہیں کیا
ہم نے ہی عشق وِشق دوبارہ نہیں کیا
کر لی تباہ ہم نے ہی خود اپنی زندگی
لیکن کسی کا کوئی خسارہ نہیں کیا
بچھڑا تو اس کو دیکھ کے میں مسکرا دیا
آنسو برا لگے یہ گوارا نہیں کیا

0
7
سنو! جیسے کہ بارش میں
برستے رم جھمی قطرے
کوئی بھی گن نہیں سکتا
یہ ممکن ہی نہیں ہے ناں
تو ویسے ہی تمہاری یاد
مجھے کس قدر آتی ہے

0
5
شبِ ہجراں میں گئے وقت کے دھارے جاگے
دل میں پھر تیری محبت کے شرارے جاگے
تیری صورت ہے کسی جھیل کی پریوں جیسی
تجھ کو دیکھا تو کئی خواب ہمارے جاگے
آپ کے بعد بھی محفل رہی قائم دائم
آپ کے بعد مرے ساتھ ستارے جاگے

0
15
چلو یہ تو مجھ پہ عیاں ہوا
وہ جو تیرا میرا تھا رسم و رہ
وہ جو مجھ کو تجھ سے تھا واسطہ
وہ کہ منزلوں کا جو خواب تھا
وہ جو رشتہ اپنا اٹوٹ تھا
وہ فریب تھا وہ تو جھوٹ تھا

0
14
سیدھی سچی کھری باتیں ہوتی ہیں
تیری باتیں اچھی باتیں ہوتی ہیں
ورثے میں سے کس کو کیا کیا ملنا ہے
اب ہر گھر میں ایسی باتیں ہوتی ہیں
جس نے بس اک پل میں رشتہ توڑ دیا
وہ کیا جانے کتنی باتیں ہوتی ہیں

0
12
مرے دشمن کی جب تحسین کی تھی
وہیں تو نے مری توہین کی تھی
میں اس کو بھولنے سا لگ گیا ہوں
وہ جس نے صبر کی تلقین کی تھی
زمانہ بد دعائیں دے رہا تھا
کہو تم نے بھی تو آمین کی تھی

13
‏آخری اک سوال رہتا ہے
کیا تمہیں بھی ملال رہتا ہے؟
اس جہاں کی خبر نہیں مجھ کو
بس تمہارا خیال رہتا ہے
جانے والے کہاں پلٹتے ہیں
عمر بھر احتمال رہتا ہے

0
11
‏تمہاری یاد مجھے در بدر ضروری ہے
طویل راہ میں ذادِ سفر ضروری ہے
سمجھ سکے وہ کسی چشم اشکباراں کو
وفا کے داعی کو اتنا ہنر ضروری ہے
اگرچہ کتنے ہی لوگوں سے آشنائی ہے
وہ ایک شخص ہمیں خاص کر ضروری ہے

0
17
بچھڑتے وقت کوئی فیصلہ سناتا جا
جفا کی ناؤ کو ساحل پہ ہی لگاتا جا
تمہارے بعد مجھے راستے ستائیں گے
میں چل پڑا ہوں مرا حوصلہ بڑھاتا جا
میں جی نہ پاؤں گا تجھ بن تجھے کہا تھا ناں
میں مر رہا ہوں مجھے دیکھ مسکراتا جا

0
16
محبت اور غیرت کا
تعلق خون و دل سا ہے
اگر اک میں کمی آئے
تو دوجا بچ نہیں پاتا۔۔

0
15
باہم جو اک نباہ کا وعدہ تھا اس کا کیا
تم نے بھی میرے ہاتھ کو تھاما تھا اس کا کیا
یہ طے ہوا تھا کوئی نہ آئے گا درمیاں
لیکن تمہارے خط میں زمانہ تھا اس کا کیا
تم تو مکر گئے ہو کسی راہ و رسم سے
میں نے تو اپنا عہد نبھایا تھا اس کا کیا

0
44
گرچہ چپ چاپ مان لیتے ہیں
تیرے الفاظ جان لیتے ہیں
آپ کو بھولنے کی کوشش میں
روح کا امتحان لیتے ہیں
ہجر کی دھوپ کی تمازت میں
یاد کا سائبان لیتے ہیں

0
13
برا ہے یا بھلا کوئی نہیں ہے
گنہ سے ما ورا کوئی نہیں ہے
تمہیں دیکھے مگر دل بھی نہ دھڑکے
اب اتنا پارسا کوئی نہیں ہے
تمہارے بعد جینے کے تمنا
نہیں ہے باخدا کوئی نہیں ہے

0
1
61
مرد کا قصور ہے
جس نے قبر میں جاتی
نو مولود عورت کو ظلم سے بچایا تھا
سینے سے لگایا تھا
مرد کا قصور ہے
مرد کا قصور ہے

0
17
سب سوال کرتے ہیں
خواب ٹوٹ جائیں تو
ہم سفر سے راہوں میں
ہاتھ چھوٹ جائیں تو
زندگی ٹھہرتی ہے؟
چاہیں یا نہ چاہیں ہم

0
16
ہم رہتے ہیں ہر شخص کی تخریب سے واقف
لہجہ سے اداؤں کی بھی ترتیب سے واقف
دنیائے شکم سیر تجھے علم نہیں ہے
یہ بھوک نہیں ہے کسی تہذیب سے واقف
جو مجھ کو نصیحت کے ہیں درپے انہیں کہہ دو
ہونگے تو سہی عرصہِ تشبیب سے واقف

0
17
‏تیرے  اکرام  پر  بہت  خوش ہے
یہ مری چشمِ  تر  بہت خوش ہے
‏دیکھ  کر   تجھ  کو  ایسا   لگتا  ہے
تو مجھے چھوڑ کر   بہت خوش ہے
‏ہم   تو   پردیس  میں   پریشاں  ہیں
بس خوشی ہے کہ گھر بہت خوش ہے

0
24
‏جاں سے جب تک گزر نہیں جاتے
ہم  کبھی  چھوڑ  کر  نہیں جاتے
سازشیں  کرتی  ہیں ہوائیں بھی
پھول  یوں  ہی بکھر نہیں جاتے
‏ہم جہاں  سے اٹھائے جاتے ہیں

0
26
‏درد ملتا ہے چار سو سائیں
کون کرتا ہے آرزو سائیں
تیری باتیں جو یاد آئیں تو
خود سے رہتی ہے گفتگو سائیں
جن سے مل کر قرار آنا ہے
آپ ویسے ہیں ہو بہو سائیں

0
19
وہ لطف کہ جو لطف بتایا بھی نہ جائے
وہ درد کہ جو درد سنایا بھی نہ جائے
وہ دن بھی تھے جو ساتھ گزرتے تھے ہمارے
وہ دن بھی ہیں جب ہم کو بلایا بھی نہ جائے
وہ کیسا ہے بادل جو برسنے سے ہو عاری
وہ کیسا شجر جس کا کہ سایہ بھی نہ جائے

0
18
عہد رفتہ میں ہی کیوں وقت گزارا جائے
آ کے اب مل کہ ذرا حال سنوارا جائے
جرمِ الفت میں یہ دنیا مرا سر چاہتی ہے
اور یہ ضد کہ سرِ عام اُتارا جائے
خود بلایا بھی مگر حال نہ پوچھا میرا
اس کی محفل میں بھلا کون دوبارہ جائے

0
35
محبتوں پر نثار ہونے کی بات آئی تو آپ چپ ہیں
تھے جس کی خاطر عذاب جھیلے وہ رات آئی تو آپ چپ ہیں
یہ آپ کہتے تھے ہم لڑیں گے یہ بازی چاہت کی جیتنے تک
ابھی تو پہلا ہی مرحلہ تھا جو مات آئی تو آپ چپ ہیں
تبھی کہا تھا کہ مال و دولت سے مت کسی کا ضمیر تولو
پلٹ کے واپس جو آپ پر ہی بسات آئی تو آپ چپ ہیں

0
27
‏سمندر کو بھلا کب فرق پڑتا ہے؟
ہزاروں سمت سے اس میں
جو پانی آ کے گرتا ہے
وہ میٹھا ہے یا کڑوا ہے
کسی دریا کا پانی ہے
یا پھر ہے کارخانے سے

0
52
پیار تحفہ ہے کیا؟
آپ کو ہوا ہے کیا؟
چھوڑ دے یا پاس رکھ
اتنا سوچتا ہے کیا
تم تلک پہنچنے کا
کوئی راستہ ہے کیا

0
18
روح پیاسی ہے کیا کیا جائے
اک اداسی ہے کیا کیا جائے
ہر گلی میں درندے پھرتے ہیں
بد حواسی ہے کیا کیا جائے
یہ ترقی عذابِ جاں ٹھہری
بے لباسی ہے کیا کیا جائے

35
تمہیں اجازت ہے شہر والو
جو دل میں آئے مجھے کہو تم
مجھے کہو تم برا بھلا بھی
مجھے ملامت کرو جی بھر کے
کہو مجھے بدچلن بھی لیکن
فقط مجھے اتنا پوچھنا ہے

0
35
جب کوئی معتبر نہیں رہتا
عشق پھر پُر اثر نہیں رہتا
رزق رہتا مری تلاش میں ہے
سارا دن میں بھی گھر نہیں رہتا
دور جانے پہ وہ اداس بھی ہے
پاس بھی جو مگر نہیں رہتا

0
25
‏○ ضرورت ○
ہمارے دل کے طالب ہو؟
تو پھر بس اتنا بتلا دو
ضرورت ہے یا چاہت ہے؟
سیانے لوگ کہتے ہیں
ضرورت پوری ہونے پر

0
12
درد سہنے والوں کا
درد دینے والوں سے
جو اٹوٹ بندھن ہے
اس کو عشق کہتے ہیں

14
درد آشنا ہوتا تو سکون آ جاتا
حوصلہ دیا ہوتا تو سکون آ جاتا
تیرا نام لے لے کے لوگ باتیں کرتے ہیں
تو نے کچھ کہا ہوتا تو سکون آ جاتا
ذکرِ ترکِ رسم و راہ غیر سے سنا میں نے
آپ سے سنا ہوتا تو سکون آ جاتا

0
61
تیرا ہیجان نہیں دل سے اترنے والا
زخم الفت ہے یہ ایسے نہیں بھرنے والا
اس کی کس بات پہ اب ہم کو یقیں آئے گا
وہ جو اک شخص ہے وعدوں سے مکرنے والا
ایسا لگتا ہے اسے میری طلب ہے پھر سے
ورنہ وہ ایسے نہ تھا ہنس کے گزرنے والا

0
34
جانتا ہوں تمہاری عادت ہے
تم کبھی مشورہ نہیں لیتے
حکم دینا ہی تم نے سیکھا ہے
ایک رائے ہے تم اگر سن لو
عشق کی جس ہوا میں اڑتے ہو
دل میں جو خواب پال رکھے ہیں

0
20
‏میں تھک گیا ہوں
روز و شب کی مسافتوں سے
دوستوں کی شرارتوں سے
تری بدلتی ان عادتوں سے
میں تھک گیا ہوں
مرے بھی سینے میں ایک دل ہے

0
16
چاند چہرہ
جب تری دید ہی میسر ہے
پھر بھلا ہم کو اس سے کیا مطلب؟
چاند پورا ہے یا ادھورا ہے!

0
14
‏بعد از اجتناب ہیں اب بھی
میری آنکھوں میں خواب ہیں اب بھی
وہ کبھی تو کتاب کھولے گا
منتظر کچھ گلاب ہیں اب بھی
تو ہی مجبوریوں کو روتا تھا
ہم تو حاضر جناب ہیں اب بھی

2
146
دشمن دوست کا وکھرا کھاتا رکھا ہے
لیکن ہر اک شخص سے رشتہ رکھا ہے
جو کرنا ہے کر لے، لے میں حاضر ہوں
بول تری زنبیل میں کیا کیا رکھا ہے
میری خوشیاں بیچیں حرص کے بھاؤ پر
تم نے پیار کو کتنا سستا رکھا ہے

0
15
یہ نہ سوچو کبھی اس راہ میں صدمات نہیں
عشق ہے، دان میں ملتی ہوئی سوغات نہیں
زندگی ریت سے تعمیر ہوا ایک محل
اس سے بڑھ کر تو کسی کی کوئی اوقات نہیں
تیرے ہوتے ہوئے تنہائی مقدر میں رہی
تو مجھے چھوڑ بھی جائے تو کوئی بات نہیں

11
‏کالی شب میں دور فلک پر
وہ جو تارا چمک رہا ہے
یاد ہے تم کو تم نے اک دن
اس کو دیکھ کے یہ بولا تھا
فانی جب تک یہ چمکے گا
تب تک ہم تم ساتھ رہیں گے

19
‏میں تری یاد کو عادت نہیں ہونے دیتا
درد کو اپنے اذیت نہیں ہونے دیتا
چوٹ کھایا ہوا، ٹوٹا ہوا، بکھرا ہوا دل
اب کسی طور محبت نہیں ہونے دیتا
ایسا ظالم ہے خیالوں سے نکلتا ہی نہیں
میرے سجدوں کو عبادت نہیں ہونے دیتا

30
‏سفر چاہت کا تم نےسہل جانا
مگریہ اس قدر آساں نہیں ہے
ابھی تودو قدم آگے بڑھےہیں
ابھی گرلوٹنا ہے لوٹ جاؤ
مگرجب کل کو یہ سارازمانہ
ہماری جان کا دشمن بنےتو

33
‏غیر واجب اذیتیں لے کے
عشق جھیلا مصیبتیں لے کے
درد میرا ہے دل بھی میرا ہے
آپ جائیں نصیحتیں لے کے
باپ مرنے لگا تو سب بیٹے
آ گئے ہیں وصیتیں لے کے

0
18
‏پیار کا حق ادا کرے کوئی
مجھ سے میرے لئے لڑے کوئی
تیرا لہجہ ہے دشمنوں جیسا
تجھ پہ کیسے یقیں کرے کوئی
جب یہ طے ہے کہ ان سے ملنا ہے
کیوں بھلا موت سے ڈرے کوئی

41
‏تمہارے بعد
یہ بارشیں ہی تو خیر خواہ ہیں
کہ جب بھی ساون
تمہاری یادوں کو لے کے برسے
یہ میرے آنسو بھی پونچھتی ہیں۔

0
14
‏اگر تم کو یہ لگتا ہے
میں تم کو بھول جاؤں گا
نئی دنیا بساؤں گا
تو پھر یہ بھول ہے جاناں
کہ جب تک چاند نکلے گا
مرے آنگن کے پھولوں سے

0
19
غیر واجب اذیتیں لے کے
عشق جھیلا مصیبتیں لے کے
درد میرا ہے دل بھی میرا ہے
آپ جائیں نصیحتیں لے کے
باپ مرنے لگا تو سب بیٹے
آ گئے ہیں وصیتیں لے کے

11
‏میرا آنسو کسی صحرہ میں بکھر جائے گا
کچھ دنوں تک تو یہ دریا بھی اتر جائے گا
اتنا معلوم ہے وہ دل سے مجھے چاہتا ہے
اس سے پوچھو گے تو فی الفور مکر جائے گا
وہ نظر آئے تو دکھ درد بھلا دیتا ہوں
وہ جو مل جائے تو جیون ہی سنور جائے گا

0
57
کیا حسیں ہیں جناب آنکھیں
کر گئیں لا جواب آنکھیں
عشق پیاسا ہی مر نہ جائے
لے کے آؤ شراب آنکھیں
کاش تو نے بھی سمجھی ہوتیں
میری روتی کتاب آنکھیں

43
ہزاروں طنز سننا، سن کے بھی ہنستے ہوئے رہنا
تمہاری لاج کی خاطر یہ سب سہتے ہوئے رہنا
تمہیں معلوم بھی ہے ہجر کا احساس کیسا ہے
کبھی دیکھا ہے تم نے سانس کا اٹکے ہوئے رہنا
مری الفت مری چاہت مجھے کس موڑ پر لائی
کسی کو جوڑتے رہنا مگر بکھرے ہوئے رہنا

0
44
بحر آزار پار کر آیا
ایسا جیون گزار کر آیا
میں تری ایک بوند کی خاطر
اک سمندر نثار کر آیا
کیسے جھپکے وہ اپنی پلکوں کو
تجھ سے آنکھیں جو چار کر آیا

0
39
‏تم میرے لئے ایسے ہو
جیسے تپتے صحرا میں
تھکے ماندے مسافر پر
کوئی بادل،
جیسے کسی قحط زدہ زمین پر
زمانے بعد

0
130
تو بھی ہے تو اداس میں بھی ہوں
بن ترے بد حواس میں بھی ہوں
ہونٹ آنکھوں سے منطبق کر لو
اتنا چہرہ شناس میں بھی ہوں
دان ملتی نہیں ردائے وفا
عمر سے بے لباس میں بھی ہوں

0
51
‏یاد تیری ابھی گئی ہی نہیں
نیند آنکھوں میں آ سکی ہی نہیں
ہائے وہ عشق جو ہوا ہی نہیں
ہائے وہ آگ جو لگی ہی نہیں
تیرے جانے کے بعد لگتا ہے
زندگی اب تو زندگی ہی نہیں

31
‏تب ہی ممکن نہ تھی وفا شاید
بیچ میں آ گئی انا شاید
وہ بھی مل کر نہیں گیا شاید
میں نے بھی دی نہیں صدا شاید
وہ جو عہدِنباہ تھا ہم میں
آپ کو یاد نا رہا شاید

0
35
تمہاری عادت نہ تھی محبت پتا چلا ہے
تمہاری باتوں سے در حقیقت پتا چلا ہے
گو اتنا آساں فراق ہم نے سمجھ رکھا تھا
جدائی تو ہے بڑی اذیت پتا چلا ہے
وہ جس کے ہاتھوں پہ چاہتوں کا ہے خون اب بھی
وہ کر رہا ہے ہمیں نصیحت پتا چلا ہے

38
اب کے جب تجھ سے سامنا ہو گا
تو بھی حیران ہی کھڑا ہو گا
تیرے جانے پہ جو نہ بہہ پایا
اشک آنکھوں میں جم گیا ہو گا
ٹہنیاں رو رہی تھیں پانی کو
گل نے شاید یہ سن لیا ہو گا

0
25
ہماری آنکھ سے جو بہہ گیا ہے
وہ آنسو اک کہانی کہہ گیا ہے
سہے کب تک یہ دل بھی کج ادائی
یہی کافی ہے جتنا سہہ گیا ہے
فراوانیِ غم سے دیکھ فانی
مرا قالب تو آدھا رہ گیا ہے

0
25
جیسا بھی وقت رہے تم یہ کہو اچھا ہے
اور بری سوچ بھٹکنے بھی نہ دو اچھا ہے
جا بجا بغض کے کیچڑ سے بھری ہیں راہیں
اپنے دامن کو بچا کر ہی رکھو اچھا ہے
یہ نہ سمجھے کہیں دشمن کہ ڈرے بیٹھے ہو
تیغ و بھالا نہ سہی آگے بڑھو اچھا ہے

31
‏دردِ دل کی دوا ہے تیرے پاس
مر رہا ہوں شفا ہے تیرے پاس
اتنی جلدی بھلا دیا تو نے
کون سا ٹوٹکا ہے تیرے پاس؟
میں ترا منتظر ہوں لوٹ آنا
میرے گھر کا پتا ہے تیرے پاس

0
59
کیسے کہہ دوں فقط ہمارا ہے
عشق ہے اس سے، کب اجارہ ہے
کتنی مشکل سے تجھ کو پایا تھا
کتنی آسانیوں سے ہارا ہے
پھر سے وہ طالبِ تماشہ ہیں
پھر سے میری طرف اشارہ ہے

36
وہ مشورہ بھی ہمیں آج کل نہیں دیتا
وہ مسئلہ تو بتاتا ہے حل نہیں دیتا
جڑیں ہی کاٹ دیں جن لوگوں نے درختوں کی
انہیں گلہ ہے چمن سے کہ پھل نہیں دیتا
یہ کل کی بات ہے مجھ سے تھی دوستی جس کی
وہ اپنے وقت سے دو چار پل نہیں دیتا

20
تمہیں گر ایسا لگتا ہے
مجھے یوں چھوڑ جانے سے
مرا دل توڑ جانے سے
مرے دل سے محبت کے
نشاں سارے مٹا دو گے
محبت کی سزا دو گے

0
35
‏آج میں نےدیکھاہے
پھرسےآسماں میں بھی
چاند لوٹ آیاہے
میرےگھرکےآنگن میں
روشنی بھی لوٹ آئی
تم نےہی کہاتھانا

0
20
‏تمہیں آسان لگتا ہے
ہمیشہ منتظر رہنا؟
کہ جب ہم کو پتا بھی ہو
ہیں جس کی منتظر آنکھیں
یہ راہیں چھوڑ بیٹھا ہے
وہ ناتا توڑ بیٹھا ہے

0
29
ہمیں زخموں کو سینا آ گیا ہے
بچھڑ کر تجھ سے جینا آ گیا ہے
تڑپ دل کی اچانک بڑھ گئی ہے
دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے
بری دنیا بھلی لگنے لگی یا
ہمیں شاید قرینہ آ گیا ہے

0
33
آپ جوں ہی آئیں گے
درد بھول جائیں گے
آپ کی خدا جانے
ہم وفا نبھائیں گے
ٹہنیوں سے ٹوٹے تو
پھول سوکھ جائیں گے

0
33
اپنا سب کچھ لٹا کے لے آیا
میں محبت اٹھا کے لے آیا
کچھ دنوں سے بہت اداسی تھی
تیری یادیں چُرا کے لے آیا
روٹھ کر اس کی بزم سے نکلا
خود ہی خود کو منا کے لے آیا

0
56
درد ملتا ہے چار سو سائیں
کون کرتا ہے آرزو سائیں
تیری باتیں جو یاد آئیں تو
خود سے کرتا ہوں گفتگو سائیں
جن سے مل کر قرار آنا ہے
آپ ویسے ہیں ہو بہو سائیں

0
62
مجھے ایسی محبت چاہیے ہے
جہاں گر درد ہو، درمان بھی ہو
جہاں رشتوں کی کچھ پہچان بھی ہو
مرے آنسو کسی کے لب پہ ٹپکیں
مری خوشیوں سے چہرہ کوئی چمکے
مرے خوابوں میں ہو جس کا بسیرا

0
62
ترے غم سے رہائی چاہتا ہے
یہ دل اب کے جدائی چاہتا ہے
مجھے تو صرف تُو ہی چاہیے تھا
مگر تُو تو خدائی چاہتا ہے
تعلق میں وہ سچائی نہیں ہے
کہ خوں بھائی کا بھائی چاہتا ہے

0
50
یاد تیری ابھی گئی ہی نہیں
نیند آنکھوں میں آ سکی ہی نہیں
ہائے وہ عشق جو ہوا ہی نہیں
ہائے وہ آگ جو لگی ہی نہیں
تیرے جانے کے بعد لگتا ہے
زندگی اب تو زندگی ہی نہیں

0
40
یہی تو غم ہے محبت شناس لوگوں کا
کہ درد رکھتے ہیں سارے اداس لوگوں کا
مجھے تو خود سے بھی بڑھ کر تھی آبرو اس کی
اسے تو مجھ سے بھی بڑھ کر تھا پاس لوگوں گا
جو سادہ دل تھے محبت کا کھیل ہارے ہیں
ابھی کھلا کہ یہ کرتب تھا خاص لوگوں کا

0
57
یہ کیسا تم نے سوال پوچھا
بچھڑ کے تم سے کہاں گیا تھا
اگر میں کہہ دوں بچھڑ کے تم سے
میں مر رہا تھا نہ جی رہا تھا
ہمیشہ تم کو ہی ڈھونڈتا تھا
کبھی یہ جگنو کبھی یہ گلشن

0
31
جو مل کے دیکھے تھے خواب مانگوں تو دے سکو گے؟
محبتوں کا حساب مانگوں تو دے سکو گے؟
کیا کہا ہے کہ جان حاضر ہے میری خاطر؟
تو کیا یہ سچ ہے جناب، مانگوں تو دے سکو گے؟
اگر یہ سچ ہے کہ اب تعلق نہیں رہا ہے
تو پھر وہ تحفہ، کتاب، مانگوں تو دے سکو گے؟

0
53
یہ جو اک یاد کا دریا ہے مرے چاروں طرف
یہ جو ہے سوچ سمندر میں بھنور کے جیسی
یہ جو ہر سمت مجھے تو ہی نظر آتا ہے
تجھ کو لگتا ہے کہ خط میں ترا یہ لکھ دینا
آج کے بعد ملاقات نہیں ہو سکتی
آپ سے اب تو کوئی بات نہیں ہو سکتی

0
49