Circle Image

مجاہد حسین فانی

@mhkhan505

چاند چہرہ
جب تری دید ہی میسر ہے
پھر بھلا ہم کو اس سے کیا مطلب؟
چاند پورا ہے یا ادھورا ہے!

0
‏بعد از اجتناب ہیں اب بھی
میری آنکھوں میں خواب ہیں اب بھی
وہ کبھی تو کتاب کھولے گا
منتظر کچھ گلاب ہیں اب بھی
تو ہی مجبوریوں کو روتا تھا
ہم تو حاضر جناب ہیں اب بھی

2
127
دشمن دوست کا وکھرا کھاتا رکھا ہے
لیکن ہر اک شخص سے رشتہ رکھا ہے
جو کرنا ہے کر لے، لے میں حاضر ہوں
بول تری زنبیل میں کیا کیا رکھا ہے
میری خوشیاں بیچیں حرص کے بھاؤ پر
تم نے پیار کو کتنا سستا رکھا ہے

0
3
یہ نہ سوچو کبھی اس راہ میں صدمات نہیں
عشق ہے، دان میں ملتی ہوئی سوغات نہیں
زندگی ریت سے تعمیر ہوا ایک محل
اس سے بڑھ کر تو کسی کی کوئی اوقات نہیں
تیرے ہوتے ہوئے تنہائی مقدر میں رہی
تو مجھے چھوڑ بھی جائے تو کوئی بات نہیں

2
‏کالی شب میں دور فلک پر
وہ جو تارا چمک رہا ہے
یاد ہے تم کو تم نے اک دن
اس کو دیکھ کے یہ بولا تھا
فانی جب تک یہ چمکے گا
تب تک ہم تم ساتھ رہیں گے

5
‏میں تری یاد کو عادت نہیں ہونے دیتا
درد کو اپنے اذیت نہیں ہونے دیتا
چوٹ کھایا ہوا، ٹوٹا ہوا، بکھرا ہوا دل
اب کسی طور محبت نہیں ہونے دیتا
ایسا ظالم ہے خیالوں سے نکلتا ہی نہیں
میرے سجدوں کو عبادت نہیں ہونے دیتا

4
‏سفر چاہت کا تم نےسہل جانا
مگریہ اس قدر آساں نہیں ہے
ابھی تودو قدم آگے بڑھےہیں
ابھی گرلوٹنا ہے لوٹ جاؤ
مگرجب کل کو یہ سارازمانہ
ہماری جان کا دشمن بنےتو

4
‏غیر واجب اذیتیں لے کے
عشق جھیلا مصیبتیں لے کے
درد میرا ہے دل بھی میرا ہے
آپ جائیں نصیحتیں لے کے
باپ مرنے لگا تو سب بیٹے
آ گئے ہیں وصیتیں لے کے

0
4
‏پیار کا حق ادا کرے کوئی
مجھ سے میرے لئے لڑے کوئی
تیرا لہجہ ہے دشمنوں جیسا
تجھ پہ کیسے یقیں کرے کوئی
جب یہ طے ہے کہ ان سے ملنا ہے
کیوں بھلا موت سے ڈرے کوئی

6
‏تمہارے بعد
یہ بارشیں ہی تو خیر خواہ ہیں
کہ جب بھی ساون
تمہاری یادوں کو لے کے برسے
یہ میرے آنسو بھی پونچھتی ہیں۔

0
5
‏اگر تم کو یہ لگتا ہے
میں تم کو بھول جاؤں گا
نئی دنیا بساؤں گا
تو پھر یہ بھول ہے جاناں
کہ جب تک چاند نکلے گا
مرے آنگن کے پھولوں سے

0
7
غیر واجب اذیتیں لے کے
عشق جھیلا مصیبتیں لے کے
درد میرا ہے دل بھی میرا ہے
آپ جائیں نصیحتیں لے کے
باپ مرنے لگا تو سب بیٹے
آ گئے ہیں وصیتیں لے کے

6
‏میرا آنسو کسی صحرہ میں بکھر جائے گا
کچھ دنوں تک تو یہ دریا بھی اتر جائے گا
اتنا معلوم ہے وہ دل سے مجھے چاہتا ہے
اس سے پوچھو گے تو فی الفور مکر جائے گا
وہ نظر آئے تو دکھ درد بھلا دیتا ہوں
وہ جو مل جائے تو جیون ہی سنور جائے گا

0
7
کیا حسیں ہیں جناب آنکھیں
کر گئیں لا جواب آنکھیں
عشق پیاسا ہی مر نہ جائے
لے کے آؤ شراب آنکھیں
کاش تو نے بھی سمجھی ہوتیں
میری روتی کتاب آنکھیں

11
ہزاروں طنز سننا، سن کے بھی ہنستے ہوئے رہنا
تمہاری لاج کی خاطر یہ سب سہتے ہوئے رہنا
تمہیں معلوم بھی ہے ہجر کا احساس کیسا ہے
کبھی دیکھا ہے تم نے سانس کا اٹکے ہوئے رہنا
مری الفت مری چاہت مجھے کس موڑ پر لائی
کسی کو جوڑتے رہنا مگر بکھرے ہوئے رہنا

0
13
بحر آزار پار کر آیا
ایسا جیون گزار کر آیا
میں تری ایک بوند کی خاطر
اک سمندر نثار کر آیا
کیسے جھپکے وہ اپنی پلکوں کو
تجھ سے آنکھیں جو چار کر آیا

0
9
‏تم میرے لئے ایسے ہو
جیسے تپتے صحرا میں
تھکے ماندے مسافر پر
کوئی بادل،
جیسے کسی قحط زدہ زمین پر
زمانے بعد

0
35
تو بھی ہے تو اداس میں بھی ہوں
بن ترے بد حواس میں بھی ہوں
ہونٹ آنکھوں سے منطبق کر لو
اتنا چہرہ شناس میں بھی ہوں
دان ملتی نہیں ردائے وفا
عمر سے بے لباس میں بھی ہوں

0
20
‏یاد تیری ابھی گئی ہی نہیں
نیند آنکھوں میں آ سکی ہی نہیں
ہائے وہ عشق جو ہوا ہی نہیں
ہائے وہ آگ جو لگی ہی نہیں
تیرے جانے کے بعد لگتا ہے
زندگی اب تو زندگی ہی نہیں

14
‏وہ بھی مل کر نہیں گیا شاید
میں نے بھی دی نہیں صدا شاید
میں نے پوچھا کہ جانتے ہو مجھے
اس نے کچھ سوچ کر کہا، شاید
آپ شاید کسی خیال میں تھے
یا مجھے سچ میں کچھ کہا شاید

0
17
تمہاری عادت نہ تھی محبت پتا چلا ہے
تمہاری باتوں سے در حقیقت پتا چلا ہے
گو اتنا آساں فراق ہم نے سمجھ رکھا تھا
جدائی تو ہے بڑی اذیت پتا چلا ہے
وہ جس کے ہاتھوں پہ چاہتوں کا ہے خون اب بھی
وہ کر رہا ہے ہمیں نصیحت پتا چلا ہے

17
اب کے جب تجھ سے سامنا ہو گا
تو بھی حیران ہی کھڑا ہو گا
تیرے جانے پہ جو نہ بہہ پایا
اشک آنکھوں میں جم گیا ہو گا
ٹہنیاں رو رہی تھیں پانی کو
گل نے شاید یہ سن لیا ہو گا

0
15
ہماری آنکھ سے جو بہہ گیا ہے
وہ آنسو اک کہانی کہہ گیا ہے
سہے کب تک یہ دل بھی کج ادائی
یہی کافی ہے جتنا سہہ گیا ہے
فراوانیِ غم سے دیکھ فانی
مرا قالب تو آدھا رہ گیا ہے

0
17
جیسا بھی وقت رہے تم یہ کہو اچھا ہے
اور بری سوچ بھٹکنے بھی نہ دو اچھا ہے
جا بجا بغض کے کیچڑ سے بھری ہیں راہیں
اپنے دامن کو بچا کر ہی رکھو اچھا ہے
یہ نہ سمجھے کہیں دشمن کہ ڈرے بیٹھے ہو
تیغ و بھالا نہ سہی آگے بڑھو اچھا ہے

18
‏دردِ دل کی دوا ہے تیرے پاس
مر رہا ہوں شفا ہے تیرے پاس
اتنی جلدی بھلا دیا تو نے
کون سا ٹوٹکا ہے تیرے پاس؟
میں ترا منتظر ہوں لوٹ آنا
میرے گھر کا پتا ہے تیرے پاس

0
19
کیسے کہہ دوں فقط ہمارا ہے
عشق ہے اس سے، کب اجارہ ہے
کتنی مشکل سے تجھ کو پایا تھا
کتنی آسانیوں سے ہارا ہے
پھر سے وہ طالبِ تماشہ ہیں
پھر سے میری طرف اشارہ ہے

24
وہ مشورہ بھی ہمیں آج کل نہیں دیتا
وہ مسئلہ تو بتاتا ہے حل نہیں دیتا
جڑیں ہی کاٹ دیں جن لوگوں نے درختوں کی
انہیں گلہ ہے چمن سے کہ پھل نہیں دیتا
یہ کل کی بات ہے مجھ سے تھی دوستی جس کی
وہ اپنے وقت سے دو چار پل نہیں دیتا

9
تمہیں گر ایسا لگتا ہے
مجھے یوں چھوڑ جانے سے
مرا دل توڑ جانے سے
مرے دل سے محبت کے
نشاں سارے مٹا دو گے
محبت کی سزا دو گے

0
23
‏آج میں نےدیکھاہے
پھرسےآسماں میں بھی
چاند لوٹ آیاہے
میرےگھرکےآنگن میں
روشنی بھی لوٹ آئی
تم نےہی کہاتھانا

0
11
‏تمہیں آسان لگتا ہے
ہمیشہ منتظر رہنا؟
کہ جب ہم کو پتا بھی ہو
ہیں جس کی منتظر آنکھیں
یہ راہیں چھوڑ بیٹھا ہے
وہ ناتا توڑ بیٹھا ہے

0
19
ہمیں زخموں کو سینا آ گیا ہے
بچھڑ کر تجھ سے جینا آ گیا ہے
تڑپ دل کی اچانک بڑھ گئی ہے
دسمبر کا مہینہ آ گیا ہے
بری دنیا بھلی لگنے لگی یا
ہمیں شاید قرینہ آ گیا ہے

0
23
آپ جوں ہی آئیں گے
درد بھول جائیں گے
آپ کی خدا جانے
ہم وفا نبھائیں گے
ٹہنیوں سے ٹوٹے تو
پھول سوکھ جائیں گے

0
23
اپنا سب کچھ لٹا کے لے آیا
میں محبت اٹھا کے لے آیا
کچھ دنوں سے بہت اداسی تھی
تیری یادیں چُرا کے لے آیا
روٹھ کر اس کی بزم سے نکلا
خود ہی خود کو منا کے لے آیا

0
34
درد ملتا ہے چار سو سائیں
کون کرتا ہے آرزو سائیں
تیری باتیں جو یاد آئیں تو
خود سے کرتا ہوں گفتگو سائیں
جن سے مل کر قرار آنا ہے
آپ ویسے ہیں ہو بہو سائیں

0
24
مجھے ایسی محبت چاہیے ہے
جہاں گر درد ہو، درمان بھی ہو
جہاں رشتوں کی کچھ پہچان بھی ہو
مرے آنسو کسی کے لب پہ ٹپکیں
مری خوشیوں سے چہرہ کوئی چمکے
مرے خوابوں میں ہو جس کا بسیرا

0
42
ترے غم سے رہائی چاہتا ہے
یہ دل اب کے جدائی چاہتا ہے
مجھے تو صرف تُو ہی چاہیے تھا
مگر تُو تو خدائی چاہتا ہے
تعلق میں وہ سچائی نہیں ہے
کہ خوں بھائی کا بھائی چاہتا ہے

0
37
یاد تیری ابھی گئی ہی نہیں
نیند آنکھوں میں آ سکی ہی نہیں
ہائے وہ عشق جو ہوا ہی نہیں
ہائے وہ آگ جو لگی ہی نہیں
تیرے جانے کے بعد لگتا ہے
زندگی اب تو زندگی ہی نہیں

0
31
یہی تو غم ہے محبت شناس لوگوں کا
کہ درد رکھتے ہیں سارے اداس لوگوں کا
مجھے تو خود سے بھی بڑھ کر تھی آبرو اس کی
اسے تو مجھ سے بھی بڑھ کر تھا پاس لوگوں گا
جو سادہ دل تھے محبت کا کھیل ہارے ہیں
ابھی کھلا کہ یہ کرتب تھا خاص لوگوں کا

0
45
یہ کیسا تم نے سوال پوچھا
بچھڑ کے تم سے کہاں گیا تھا
اگر میں کہہ دوں بچھڑ کے تم سے
میں مر رہا تھا نہ جی رہا تھا
ہمیشہ تم کو ہی ڈھونڈتا تھا
کبھی یہ جگنو کبھی یہ گلشن

0
21
جو مل کے دیکھے تھے خواب مانگوں تو دے سکو گے؟
محبتوں کا حساب مانگوں تو دے سکو گے؟
کیا کہا ہے کہ جان حاضر ہے میری خاطر؟
تو کیا یہ سچ ہے جناب، مانگوں تو دے سکو گے؟
اگر یہ سچ ہے کہ اب تعلق نہیں رہا ہے
تو پھر وہ تحفہ، کتاب، مانگوں تو دے سکو گے؟

0
40
یہ جو اک یاد کا دریا ہے مرے چاروں طرف
یہ جو ہے سوچ سمندر میں بھنور کے جیسی
یہ جو ہر سمت مجھے تو ہی نظر آتا ہے
تجھ کو لگتا ہے کہ خط میں ترا یہ لکھ دینا
آج کے بعد ملاقات نہیں ہو سکتی
آپ سے اب تو کوئی بات نہیں ہو سکتی

0
36