Circle Image

محمد جنید حسان تنہاؔ لائلپوری

@Tanha5555

دن ہیں جو زندگی کے چار
گزر جائیں
نہ ہونے کا مزہ خوب ہے
معلوم ہوا ہے جب سے
تب سے ہر دم یہی رہتی ہے دعا ہونٹوں پر
کچھ نہیں چاہیے

0
15
لتّاں بانہواں سُکّا بالن
وچ چُل سینے دی پیا بَلّے
اُتّاں دَھریا ٹِین لہو دا
دل دا بَھکھدا کولا تھلّے
محمد جنید حسان تنہاؔ لائلپوری
Legs and arms are dry woods;

0
36
شرماؤ نہ دیتے ہوئے رخسار کا بوسہ
پھٹ جائے گا دانتوں میں دبایا جو دوپٹّہ
گنجائشِ حسرت نہیں خلوت میں شبِ وصل
ایک ایک مزہ محفلِ عشرت کا ہے تحفہ
سوتے ہیں چلو تان کے شب چادرِ مہتاب
کیا شرم، جھجک وصل میں، کس بات کا پردہ

0
25
ہنسنے والے شخص کا اپنے دل پر قابو ہو گا نا
آنسو ہو گا یا پھر اس کی آنکھ میں جادو ہو گا نا
شور مچانے والے بچّے یوں جو خاموش ہوئے ہیں
تتلی ہو گی باغ میں یا پھر کوئی جگنو ہو گا نا
وصل کی شب ہم نزع میں کیا آرام سے سوئیں گے بیمار
اوپر سر کے یار کا بازو، نیچے زانو ہو گا نا

0
15
تیرے لب کی مثال ہو جائے
لعل غصّے میں لال ہو جائے
منہ تکیں کوہ قاف کی پریاں
تیرا ظاہر جمال ہو جائے
آ مرے یار کی کمر کی لچک
شاخِ گل پر سوال ہو جائے

0
14
سن سن کے وعظ شیخ! مرے کان پک گئے
ہوتا نہیں ہے تیری گراری کا تیل ختم
ایسا کر اب کی بار گلا گھونٹ دے مرا
ہو جائے ایک بار ہی میرا تو کھیل ختم

0
25
ایک مدّت سے منتظر ہوں میں
میرے ہی کیوں معاملے میں ڈھیل
کب سے آواز دے رہا ہوں تمھیں
راہ میں سو گئے ہو عزرائیلؑ!

0
12
نظر کمزور ہوتی جا رہی ہے
چبھن رہتی ہے کانوں میں ذرا سی
مکمّل سر پیالہ تو نہیں، پر
کمی بالوں کی بالوں میں ذرا سی
بڑھاپا گھیرنے کو ہے، لپٹ جائیں
ابھی طاقت ہے بانہوں میں ذرا سی

0
12
شام ہونے کو آ گئی جیسے
آنکھ رونے کو آ گئی جیسے
وصل کے دن گزر گئے، شبِ ہجر
ساتھ سونے کو آ گئی جیسے

0
14
چھوڑ کر آسانیاں الفت میں دشمن کے لیے
ہم نے اپنے واسطے مشکل پسندی کو چنا
دل کے ارمانوں کا اپنے، اپنے ہاتھوں خون تھا
خوش ہیں لیکن ہم کہ تیری دل پسندی کو چنا

0
12
سخن شناس کریں گے ہمیشہ رو رو یاد
کہاں جہان میں اب کوئی میرؔ سا استاد

0
17
شور مچا، ہنگامہ اٹھا، پاؤں رگڑ، سینہ چھیل، پٹخا سر
یار کی چوکھٹ پر خاموشی سے بیٹھنے والے کچھ تو کر

0
9
مرنے والے کی عیادت کی ہے
آپ نے یوں ہی مشقّت کی ہے
دل محلّے میں جو ہے شور بپا
حسرتِ وصل نے ہجرت کی ہے
شہر میں کون تجھے جانتا تھا
ہم نے ہی تو تری شہرت کی ہے

0
17
جھلسے ہیں کبھی ہاتھ کبھی پاؤں جلے ہیں
آغوش میں ہم آتشِ سوزاں کی پلے ہیں
کیا نرم طبیعت جگر و دل، تنِ نازک
پوچھو نہ کہ سب یار کی تلوار تلے ہیں
کہتا ہے تو کہنے دے، نہ کر شیخ کی پرواہ
میکش ترے آگے کبھی پینے سے ٹلے ہیں

0
13
ڈبو تو ایسا ڈبو، یاد گار بھی نہ رہے
ہماری لاش سمندر میں تیرتی نہ رہے
وہ آندھیاں، وہ بگولے چلا کہ اس کے بعد
شبِ فراق رہے، میری جھونپڑی نہ رہے
ٹٹول سینہ مرا خوب، کوئی چنگاری
جلے ہوئے مرے دل کی کہیں دبی نہ رہے

0
13
منہ طمانچوں سے ٹماٹر ہو گیا
عشق کے ہاتھوں کچومر ہو گیا
عشق میں بیباک تھے پہلے پر اب
برہمی کا یار کی ڈر ہو گیا
مفلسی کی اک علامت تھی کبھی
اب پھٹے کپڑوں کا کلچر ہو گیا

22
”20 نومبر“
”یومِ پیدائشِ حضرتِ تنہاؔ“
”تنہاؔ جی کے نام“
میں چاہتا ہوں نومبر کی سرد راتوں میں
قریب لاؤں تمھیں اپنے، باتوں باتوں میں
کشش کی فورس زیادہ ہو، فاصلہ کم ہو

0
28
تمھاری یاد کے کتاب خانے میں تمھارا فلسفی نئے نئے تخیّلات کو فروغ دے رہا ہے
نفسیات کو فروغ دے رہا ہے

0
13
او منبعِ جمال! زمانے سے احتیاط
بے پردہ پشتِ بام پہ جانے سے احتیاط
اظہار تک نہ لائیے پوشیدہ دل کی بات
خوابیدہ جنسِ شوق جگانے سے احتیاط
ہنگامۂ جہان سے چھوٹا ہوں دیر میں
تربت پہ میری شور مچانے سے احتیاط

0
11
سخن شناس کریں گے ہمیشہ رو رو یاد
کہاں جہان میں اب کوئی میرؔ سا استاد

0
16
شور مچا، ہنگامہ اٹھا، پاؤں رگڑ، سینہ چھیل، پٹخا سر
یار کی چوکھٹ پر خاموشی سے بیٹھنے والے کچھ تو کر

0
21
ہم نے موقع ہزار بار دیا
وہ ہمیں چھوڑ کر گیا ہی نہیں
با وفا یار تھا کوئی یارو!
وہ پرندہ پرندہ تھا ہی نہیں

0
32
مصیبتیں ہیں ابھی میری زندگی میں کئی
او مہرباں مرے، مت مانگ میرا ساتھ ابھی
خدا نے چاہا تو وعدہ رہا ملیں گے ضرور
مگر ابھی کے لیے معذرت کہ ہوں مجبور

0
9
ہول، وحشت، سکوت، سنّاٹا
اب کہاں ساز، رقص، سُر، سنگیت
جنگلوں کو نکل چلو تنہاؔ
شہر میں گھومتے ہیں بھوت پریت

0
11
لیے پھرتا ہے ساتھ ساتھ مجھے
تھام کر جیسے میرا ہاتھ مجھے

0
31
میرے اشعار ہیں شراب ملے
اتنا مت پڑھ کہ کل عذاب ملے

0
21
غیر کا کیا سوال رکھتا ہے
یار کتّے بھی پال رکھتا ہے

0
21
کوئی کیا جانے کیا ہے جھیل
چاند کا آئینہ ہے جھیل

0
10
وقتِ غروب ہے، کہیں سورج مچل نہ جائے
انگڑائی سے تمھاری زمانہ بدل نہ جائے

0
15
زلفیں تمھاری قد سے تمھارے ہی بڑھ گئیں
سر پر چڑھا رکھا تھا بہت، سر ہی چڑھ گئیں

0
20
بادہ و جام کو برا جانے
شیخ بیچارہ خیر کیا جانے

0
14
اللّٰه! والدین کی خدمت نصیب کر
رحمت سے تیری دُور ہوں، مولا! قریب کر

0
28
بیٹھا ہوں زیرِ سایۂ زلفِ درازِ یار
کر لو شبِ وصال خوشی کا مری شمار

0
12
کہہ دیا ہم نے کبھی اور کبھی شرماتے رہے
اور ہنس ہنس کے کبھی پھیپھڑے گرماتے رہے
شعر گوئی میں کبھی قبض رہا غالبؔ کو
اور کبھی یوں بھی ہُوا خط میں جلاب آتے رہے

0
78
اقبالؔ فلسفی کو سخنور نہ جانیے
دو بندشوں کو میرؔ کا دفتر نہ جانیے

0
11
ہُوا ہوں جو گدا اس کی گلی کا
ٹھکانہ ہی نہیں میری خوشی کا
ملائے خاک میں دل ہر کسی کا
پتا ہی کیا اسے شے قیمتی کا
پڑی ہے ایک کے بعد اک مصیبت
نہیں امکان کچھ آسودگی کا

0
16
زخم جھیلے ہیں، رنج اٹھائے ہیں
سینہ و دل پہ داغ کھائے ہیں
سر پہ درد و الم کے سائے ہیں
زندگی! اور چاہتی ہے تُو کیا ؟
بوجھ سے جھک گئی ہے کمر
غم کی شدّت سے پھٹ گیا ہے جگر

0
9
بوسہ نہیں تو لمسِ عنایت کبھی کبھی
کچھ تو خیال و خواب میں رغبت کبھی کبھی
پوچھا جو ہم نے بوسے کا، شرمائے اور پھر
کہنے لگے کہ ایسی شرارت کبھی کبھی
وعدہ رہا پئیں گے نہ ہم روز روز جام
لیکن جنابِ شیخ! اجازت کبھی کبھی

0
14
کچھ اور ذکر بھی شاید زبان سے نکلے
جو تیرا جلوۂ رخسار دھیان سے نکلے
تری نگاہ مری جانب ایسے اٹھتی ہے
کہ جیسے تیر ہدف پر کمان سے نکلے
ہمارا دل ہے، کسی کی قیام گاہ نہیں
کرایہ دار بھی ہے تو مکان سے نکلے

16
یوں ہی نہیں زمانہ دوانہ بنا رکھا
اس نے جہاں کا حسن بغل میں دبا رکھا

0
12
نہ چھیڑ ذکر صنم کے رسیلے ہونٹوں کا
یہ شہد چاٹ چکا ہوں میں گیلے ہونٹوں کا

0
24
میں نے امکان کی سرحد سے پرے تک دیکھا
زندگی! حد ہے کہ ہر حد سے پرے تک دیکھا

0
35
معصوم سے چہرے کی ادا دیکھ رہا ہوں
بندہ ہوں مگر بن کے خدا دیکھ رہا ہوں

0
20
کون سنتا ہے مری شامِ خموشاں کی پکار
بیٹھتے تک نہیں آ پاس پرندے دو چار

0
21
اگرچہ خوب ہے غالبؔ بیان میں لیکن
نہیں یگانہؔ سا شاعر جہان میں لیکن

0
16
نہ پوچھ یار مرے کا جمال کیسا ہے
مجھے تو یاد ہے ایک ایک بال کیسا ہے
سوالِ بوسہ شبِ وصل ابھی کیا بھی نہیں
رخ ان جناب کا غصّے میں لال کیسا ہے
سنا ہے آپ کا بازارِ حسن میں بڑا نام
لگا کے ہاتھ بھی دیکھیں تو مال کیسا ہے

0
19
طغیانیِ شباب ہے میری نگاہ میں
ہر لطف بے حساب ہے میری نگاہ میں
خاطر نشین کیا ہو رخِ داغدارِ ماہ
رخسارِ آفتاب ہے میری نگاہ میں
زم زم سے اور حرم سے غرض ہو تو شیخ کو
میکش ہوں میں، شراب ہے میری نگاہ میں

0
22
رات کیا لطف میں بسر ہوتی
ریشمی ریشمی سحر ہوتی
تیرے بازو پہ رکھ کے سر سوتے
زلف تیری اِدھر اُدھر ہوتی
میری صدیوں کی خشک پیشانی
تیرے ہونٹوں سے لگ کے تر ہوتی

0
17
ریختہ سہل نہیں آپ نے ارشاد کیا
ہم نے پھر میر تقی میرؔ کو استاد کیا
”یوں تو دس گز کی زباں“ میرؔ بھی رکھتے تھے مگر
”بات کو طول نہیں دیتے“ ہم، آزاد کیا
”سینہ ہے چاک، جگر پارہ ہے، دل سب خوں ہے“
مصرعِ میرؔ نے آزردہ و ناشاد کیا

0
13
صنم کو چیر کے سینہ دِکھا نہیں ہوتا
حقِ وفا ہے کہ ہم سے ادا نہیں ہوتا
پڑا ہُوا ہمیں چوکھٹ پر اپنی دیکھتا ہے
ہمارا یار مگر سیخ پا نہیں ہوتا
تمام لوگ برابر ہیں شان و عزّت میں
جہان میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا

0
16
مکتبِ شیخ سے بری ہیں ہم
پارسائی کی ہم پہ تہمت ہے
جُوا خانہ ہمارا اڈّا ہے
اور ہمیں تو شراب کی لت ہے

0
24
دنیا قسم خدا کی جہنم سے کم نہیں
ناپائيدار زندگی ماتم سے کم نہیں
سو سو طرح کے پھول کِھلیں صحنِ دل کے بیچ
آنا ترا بہار کے موسم سے کم نہیں
قہر و غضب کے آپ کلہاڑے چلائیے
سینہ ہمارا ہیزمِ شیشم سے کم نہیں

0
15
آقائے دو جہاں ہیں محمدﷺ پیام بر
رشکِ پیمبراں ہیں محمدﷺ پیام بر
حاصل ہے جاہ و شانِ بزرگی حضورؐ کو
غزوات کے جواں ہیں محمدﷺ پیام بر
ہیں پیشوائے اہلِ خرد خاتم الرسلؐ
استاذِ عاقلاں ہیں محمدﷺ پیام بر

0
25
شراب خانے کے لڑکے ہیں شیخ جی! نٹ کھٹ
یہاں سے بھاگیے تہبند تھام کر جھٹ پٹ
ہے بار بار کی تکلیف ناخنوں کے لیے
رفو گروں! نہ سلائی کرو ہمارے پھٹ
ہمارا گھر نہیں، ویرانہ ہے خدا کی قسم
نہ کوئی چاپ، نہ دستک، نہ ہی کوئی آہٹ

0
16
فریادؔ کی غزل کی اچھی زمین ہے
شاگرد میرا مجھ سے خاصا ذہین ہے
شاید کہ وصل کی شب چُپ بہترین ہے
گھونگھٹ اٹھائیں کیا، وہ پردہ نشین ہے
ہم مے کشوں کا کامل مے پر یقین ہے
اسلام کیا ہے واعظ! کیا تیرا دین ہے

0
31
ہم تمھارے بغیر تنہاؔ ہیں
تم ہمارے بنا ادھوری ہو
آدھے آدھے سے جسم ہیں دونوں
ہم بھی پورے ہیں، تم بھی پوری ہو
نہ تو کالی سیاہ ہو نہ سفید
بس ہماری طرح کی بھوری ہو

0
97
دیکھنے والے کیا نہ دیکھیں گے
تیرے اندر وفا نہ دیکھیں گے
ہجر میں تیرے عاشقِ بیمار
کبھی شکلِ دوا نہ دیکھیں گے
مئے دو آتشہ پئیں گے خوب
اپنا اچھا، برا نہ دیکھیں گے

0
30
جسم محسوس کرے دن کا اثر شام کے بعد
روح پھر ڈھونڈتی پھرتی رہے گھر شام کے بعد
دن میں خورشید کے پرتَو سے تو گھبراتے ہیں
تیرے پروانوں کو لگتا نہیں ڈر شام کے بعد
میرؔ صاحب سے ملاقات کا کہہ کر تنہاؔ!
روز جاتے ہو خدا جانے کدھر شام کے بعد

0
28
نہ وضعِ حرف ہی بدلی نہ اندازِ بیاں بدلا
زمیں بدلی نہ ہم بدلے نہ رنگِ آسماں بدلا
عتاب و خشم و جوش و غصّہ و طیش اب بھی ہے یا کچھ
عتاب و خشم و جوش و غصّہ و طیشِ بتاں بدلا؟
سیاست سے ہمیں وابستگی ہے اس قدر یعنی
کسی نے شور ڈالا، سُن گیا، اک حکمراں بدلا

0
87
کوچۂ دلربا کے چکّر کاٹ
چیر صحرا کا دل، سمندر کاٹ
بلبلِ جان اُڑنے والی ہے
لاکھ پنجرے میں قید کر، پَر کاٹ
قصّۂ رنجِ ہجرِ دوست ہو ختم
کاغذی پیرہن کا دفتر کاٹ

0
31
مغ بچوں! لاؤ یہاں کھینچ کے دستار کے ساتھ
باندھ دو شیخ کو میخانے کی دیوار کے ساتھ
ضعف میں چاہیے اک نیند کی گولی شب کو
صبح اک چائے کا کپ چاہیے اخبار کے ساتھ
بد سلوکی کا کریں آپ کی ہم کس سے گلہ
کون لڑ پائے گا شیرینیِ گفتار کے ساتھ

0
48
لوٹ تو آؤ گے، لوٹاؤ گے دن رات کسے
پھر میسر بھلا آئیں گے یہ لمحات کسے
خوب لگتا ہے ابھی دیس سے پردیس تمھیں
کام ہے خوب یہاں، آتے ہیں سندیس تمھیں
ایک دن دیکھنا پہنچے گی بہت ٹھیس تمھیں
فیصلہ کر جو چکے ہو تو اجازت کیسی

0
36
اُس سے آنکھیں مِلاؤں تو کیسے
بات آگے بڑھاؤں تو کیسے
اُسے سو سو طرح کے شکوے ہیں
اُسے اپنا بناؤں تو کیسے
جانِ جاں! میں کسی کو تیرے سِوا
اپنے دل میں بساؤں تو کیسے

0
24
باریک گردن ایک صراحی ہے گھر پہ کیا
مصرع اب اور باندھیے اُس کی کمر پہ کیا

0
29
ہے خاندان، ذات، قبیلہ بھی اور اور
اوپر سے تیرا، میرا عقیدہ بھی اور اور

0
33
باپ داداؤں کے مذہب سے بغاوت کرو گی؟
ہو کے عیسائی مسلماں سے محبت کرو گی؟

0
153
میرے پہلو میں لیٹنے والی
گوری چٹّی ہے، تُو تو تھی کالی

0
54
تم نے مہندی جو لگائی تو دِکھائی کیسے
ہاتھ رکھ منہ پہ ہے تصویر بنائی کیسے

0
79
میری یادیں تمھیں کریں گی تنگ
آئینے سے کیا کرو گی جنگ

0
58
دنیا میں اسلام اور نصرانیّت کا دستور چلے
ہم مسلم، وہ نصرانی مل کر دنیا سے دُور چلے

0
44
اس کی، میری محبت کا معاملہ بڑا ہی عجیب ہے
میری زبان پہ ہے لا الہٰ، اس کے گلے میں صلیب ہے

0
50
گو شہر میں عیسائی سیہ فام بہت ہیں
ایک آپ ہیں، سیم و شفق اندام بہت ہیں

0
33
مجھے میری مسلمانی نے مروایا
دل اک عیسائی لڑکی کو ہوں دے آیا

0
35
مسلماں ہوں میں، وہ عیسائی لڑکی
میں بے ایمان، وہ شیدائی لڑکی

0
24
تنہاؔ! غمِ تنہائی کا آزار ملا ہے
پہلو میں مگر دل، دلِ غمخوار ملا ہے

0
22
خاموشی سے قسمت ساتھ نبھائی جائے
آئینے پر لعنت کیوں برسائی جائے

0
24
میں ہی تنہاؔ نہیں، دنیا ہے طلبگار کہ بس
لائقِ بوسہ ہیں اس کے لب و رخسار کہ بس

0
21
آگہی کا دریچہ کُھلتا ہے
تب جہالت کا داغ دُھلتا ہے

0
40
مے، تلخئ حیات کو پیتا ہوں گھونٹ گھونٹ
مرتا ہوں گھونٹ گھونٹ میں جیتا ہوں گھونٹ گھونٹ

0
47
شعر و سخن میں سب سے جدا نام آتا ہے میراجیؔ کا
اک دنیا سے ما وراء مقام آتا ہے میراجیؔ کا
آہ و نالہ، گریہ و زاری، میر تقی کے واویلے
معمولی ہیں، آگے کہرام آتا ہے میراجیؔ کا
شور، آشوب اکٹھے کر لو ذوقؔ و سوداؔ و غالبؔ کے
ایک طرف ان سب کے آرام آتا میراجیؔ کا

0
27
اندھیری سیاہی
میں تنہاؔ رہوں گا
تباہی سہوں گا
نہ آئے گا کوئی
مرے غم کدے میں
پرانی کتابیں

0
2
59
دل کے ہاتھوں آدمی مجبور ہے
شاعری ہی اپنا اب دستور ہے
بات مَیں ایسے بھلا کس سے کروں
خود میں ہر ہر شخص تو مغرور ہے
چاہیے ہے حوصلہ دلجوئی کو
بے وفائی میں تو وہ مسرور ہے

4
516
سنو! اے اجنبی! پردیس کو ہی لوٹ چلو
تم جسے ڈھونڈتے آئے ہو وہ یہ گاؤں نہیں
جو بتاتے ہو تم اس گاؤں کا نقشہ، ہے غلط
ٹھنڈے پانی کی یہاں نہر نہیں بہتی کوئی
دھوپ ہی دھوپ ہے، پیڑوں کی گھنی چھاؤں نہیں
جن درختوں تلے کہتے ہو کہ تم کھیلتے تھے

40
دشتِ جنوں سے دُور نکل کر بھی دیکھ لیں
قیس! آؤ، عید ہے تو ذرا گھر بھی دیکھ لیں

82
بچھڑے ہیں تجھ سے جب سے، بہت بے یقین ہیں
معلوم کچھ نہیں کہاں ایمان و دین ہیں

0
45
اک معالج مجھے تجویز دوا کرتا ہے
ایک محسن ہے، مرے حق میں دعا کرتا ہے
دیکھئے ہوتا ہے اب کس کا اثر صحت پر
کس کا اخلاص قبول آج خدا کرتا ہے

28
خدا کسی کو کسی سے اگر جدا بھی کرے
تو لذتِ غمِ فرقت سے آشنا بھی کرے

0
34
آشنائی ہوئی نصیب، نصیب
کر لیا یار نے قریب، نصیب
مرضِ عاشقی کے مشکل وقت
مر گئے شہر کے طبیب، نصیب
میں تو عیسیٰؑ مسیح تھا اس کا
کھا گیا گُھن مری صلیب، نصیب

53
داغ چہرے سے زمانے کے مٹا آئے گی
بیچ کر جسم وہ کم بخت نہا آئے گی

0
73
دیکھنا باقی رہے نہ میری تربت کا نشاں بھی
چین سے رہنے نہ دیں گے آدمی تنہاؔ یہاں بھی

0
77
تنہاؔ دوستا! دھیان رکھیں، تُو ایں جھلّا کملا
ہو سکدا اے کسے ویلے دشمن نفس دا حملہ

0
33
خدا نصیب کرے شیخ! تجھ کو خلدِ بریں
ہماری دوزخِ دنیا سے ہو گئی تسکیں

80
نہ کرنا غور میرے خط پہ، بس مجھ کو سزا دینا
مرے جرمِ محبت پر مری گردن اڑا دینا
مرا ہر نقش چاہو ذہن سے اپنے مٹا دینا
تمھارے پاس جتنے خط ہیں میرے سب جلا دینا
اگر بولے زیادہ تو گلا ہلکا دبا دینا
مرے نامہرباں کو بھی نہ آیا فیصلہ دینا

0
159
مرے سنگ سنگ نباہ کر، مرا انگ انگ تباہ کر
مرا جسم جسم نچوڑ دے، مری روح روح گناہ کر
شبِ وصل روک نہ جسم کو، شبِ وصل ٹوک نہ جسم کو
ہے جنوں لباس لباس میں، ذرا دیکھ دیکھ نگاہ کر
تجھے کیا سے کیا نہ دِکھا دیا، تجھے کیا سے کیا نہ تھما دیا
میں لذیذ ذائقہ ذائقہ، تجھے فائدہ مجھے بیاہ کر

0
59
یار کھڑاتا لبھ لبھ ہارا، سو سو کیتا چارہ
آخر ٹٹّے دل نوں جگ توں کرنا پیا کنارہ
شکر خدا دا مرشدا تنہاؔ! اندر جھات پوائی
زندہ ہو گیا مر کے جیویں میں ہک وار دوبارہ

0
60
ٹانکے اُدھیڑ دے مری مشکل کے کھینچ کھینچ
میں تھک گیا ہوں فاصلے منزل کے کھینچ کھینچ

0
44
کیا ذکرِ خیر، چہرہ و زلف و نگاہ کا
عالم ہے ایک جیسے سپید و سیاہ کا

0
151
پیالۂ زہر گراتا نہیں، پیتا بھی نہیں
تیرا سقراط ہوں، مرتا نہیں، جیتا بھی نہیں

0
106
سنتے ہیں، کچھ پسند نہیں آنجناب کو
چھوڑو جی، اب سے آگ لگے اس شراب کو

0
64
داستانِ گزر بسر کی نہ پوچھ
درہمی کا ہمارے گھر کی نہ پوچھ

0
18
آپ سے تم، تم سے تُو ہونے لگے
دوست تھے اچھے، عدو ہونے لگے
جب کبھی برسات میں چھائے گھٹا
دل میں پیدا آرزو ہونے لگے
کیا خبر اِس خاک کے ذرّے کی بھی
آسماں سے گفتگو ہونے لگے

0
139
مصرعے مصرعے میں مَیں اکیلا ہوں
شعر پورا کرو میں تنہاؔ ہوں

0
45
بارے سیاست اپنی زباں بند ہے مکمل
پڑتے نہیں ہم اس میں، اجی! گند ہے مکمل

0
21
کون حافی؟ کہاں کے ہیں زریون؟
میرؔ و ساغرؔ تو ہیں محلّہ دار

0
34
درد آنکھوں سے بہہ گئے کیا کیا
غم ہم اک دل میں سہہ گئے کیا کیا
عکسِ آئینہ سے ہوا معلوم
داغ چہرے پہ رہ گئے کیا کیا
سینہ جیسے کھنڈر کی صورت ہے
دل محلّات ڈھ گئے کیا کیا

0
48
مٹی، مٹی رہی، مٹی سے بنا کچھ بھی نہیں
میرے تابوت میں مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں

0
47
تم کیا جانو درد ہمارے
واہ کرو تم، واہ تمھارے

0
29
زندگی تلخ نہ ہوتی، یہ ہنر ہی جاتے
بے وفا یار کے ملنے سے تو مر ہی جاتے

0
46
اک ہنر کر گئے ہم چاہنے والے تیرے
جیتے جی مر گئے ہم چاہنے والے تیرے

0
76
رہے ہیں زندگی بھر ہمسفر کانٹے
چڑھائے جائیں مری قبر پر کانٹے

0
25
رنگ رنگ اس کی کلائی، کھنکھناتیں چوڑیاں
وہ جو شرماتی تو اس کی مسراتیں چوڑیاں

0
36
اُجڑی ہوئی بستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
سرشاری و مستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
ہنگامۂ ہستی میں آتے نہ تو اچھا تھا
محشر طلباں آئے
افسوس! کہاں آئے
افسوس! یہاں آئے

0
32
”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں“
ملال و غمِ بیکراں اور بھی ہیں
بہت ہیں ابھی اور منصور حلّاج
”اناالحق“ کہیں، سولیاں اور بھی ہیں
نہیں محض دیر و حرم، مے کدہ ہی
فقیروں کے سو آستاں اور بھی ہیں

0
44
دیارِ غیر میں گزرے دن اکثر یاد آتے ہیں
تری چاہت میں کھائے سر میں پتھر یاد آتے ہیں
کہاں وہ جنگ کا میدان، گھوڑے ہنہناتے تھے
مقابل آئے وہ خوبانِ خود سر یاد آتے ہیں
گئے برسات کے دن، وصل کی راتیں گئیں کب کی
لہو روتے ہیں، تیرے گیسوئے تر یاد آتے ہیں

0
59
پھر نہیں آئیں گے ہم تیرے جہاں میں جاناں!
ہمیں سوگند ہے ماہِ رمضاں میں جاناں!

0
49
زندگی یا موت ابھی تک فیصلہ کچھ بھی نہیں
مجھ سے بیمارِ محبت کی دوا کچھ بھی نہیں
ان سے بچھڑے ہیں مگر زندہ ہیں پہلے کی طرح
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اب تک ہُوا کچھ بھی نہیں
عشق صادق ہے ہمارا، ہم کہاں گھبرائیں گے
آپ کا غصہ، غضب، جور و جفا، کچھ بھی نہیں

0
76
حسابِ حشر کا عالم جہاں میں ہو تو چکا
ہمیں عذابِ جہنم جہاں میں ہو تو چکا

0
63
میں تو مردہ ہوں، مجھے سانس کہاں آتی ہے
اُس کے چُھونے سے مرے جسم میں جاں آتی ہے

0
2
107
مالی کو فکر باغ کی، دہقاں کو کھیت کی
ساحل پہ گھر ہے میرا، مجھے فکر ریت کی

0
6
138
کیسی فکرِ قبرستان، کہیں بھی ڈال آؤ
ہم کھٹارا سے ہیں انسان، کہیں بھی ڈال آؤ

0
33
رہتی ہے بہت زلفِ گرہ گیر، گرہ گیر
تدبیرگر اس کا کوئی ہے، کرے تدبیر

0
68
میں نے اتار پھینک دیا سو لباسِ جسم
دنیا نئی نئی تھی، پرانی تھی میری ذات

42
ہم تمھارے بغیر تنہاؔ ہیں
تم ہمارے بنا ادھوری ہو

0
51
ہمیں تو ہر دم خیال تیرا، گمان تیرا ہے خواب تیرا
خدا ہی جانے کب آئے قاصد، خدا ہی جانے جواب تیرا

0
51
کچی کلیاں کچل نہیں سکتا
کیا کروں میں مچل نہیں سکتا

0
40
ایک دیکھی ہے بے حسی میں نے
چھوڑ دی آپ کی گلی میں نے

0
51
ترچھی نگاہ اس مرے غفلت شعار کی
چبھتی ہے دل میں زہر زدہ تیر کی طرح

0
47
راہِ عشق میں تنہاؔ! چارہ گر نہیں ہوتے
ہول و وحشت انگیزی، خوف و ڈر نہیں ہوتے

0
86
حسین کہیے اسے یا حسین تر کہیے
کہیں خفا ہی نہ ہو جائے کچھ اگر کہیے
قیام گاہ، تصور کوئی درست نہیں
قیام گاہ کو دو چار روز گھر کہیے
شبِ وصال کہیں وہ مری جھجک کو شرم
جھجک جھجک رہے یا شرم، آپ ڈر کہیے

0
21
مرا شباب ڈھل گیا
مرا گلاب جل گیا
زمانہ ہی بدل گیا
بدل گیا، بدل گیا
وہ میرا آشنا تھا جو
وہ میرا مبتلا تھا جو

0
46
تیری تصویر تک نہیں پہنچے
اپنی تقدیر تک نہیں پہنچے
دل محلے جو کرنے تھے آباد
کبھی تعمیر تک نہیں پہنچے
سینہ محسوس کر رہا ہے چبھن
دل جگر تیر تک نہیں پہنچے

0
44
جو بھی ہے مجھ کو اپنی ذات سے ہے
میرا گھر دُور کائنات سے ہے
واسطہ تو پکڑ کا باعث ہے
چھوٹ اگر ہے تو بس نجات سے ہے
بات میں ورنہ کوئی بات نہیں
بات جو بات ہے سو بات سے ہے

0
41
ہر کوئی راز محبت کا چھپاتا ہے میاں!
چیر کر دل بھی کوئی زخم دِکھاتا ہے میاں!

0
71
دکھ نیا دو، ہجر کو میرے سجاؤ
دل میں رہ کر خواب میں ڈالو پڑاؤ
موسمِ گُل، رحمتِ یزدان ہے
گیسوؤں میں خوب سے گجرے لگاؤ
آنکھیں موندے ہوں، جدائی کا ہے خوف
وصل کی شب ہے، مرا گھونگھٹ اٹھاؤ

0
95
زندہ رہنے کا ہمیں کوئی بہانہ دے دو
گوشۂ زلفِ معطر میں ٹھکانہ دے دو

0
71
تیری تصویر چھپا رکھی ہے آنکھوں کی نظر سے
دیکھنی بھی نہیں اب اور جلانی بھی نہیں

0
101
دیارِ غیر میں رہنے سے ڈر نہیں لگتا
یہ میرا گھر مجھے اب میرا گھر نہیں لگتا

0
58
معاشرے کی روایت حیا سے جیت گئی
جہیز بن نہ سکا اور عمر بیت گئی

0
40
اُس کی یادوں کے مقامات جدھر آتے ہیں
اپنے ٹوٹے ہوئے سپنے وہاں دھر آتے ہیں
جب کبھی لعل لبِ یار کا آتا ہے خیال
اشک خونیں مری آنکھوں میں اتر آتے ہیں
دیکھ لیں ہم بھی ذرا ضبطِ دلِ سخت، دِکھا
دل لبھانے کے تجھے سخت ہنر آتے ہیں

0
61
”جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں ہے۔ بڑے دھماکے سے پہلے وقت موجود نہیں تھا، لہذا خدا کے لئے کائنات کو بنانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ یہ زمین کے کنارے کی سمت پوچھنے کی طرح ہے۔ زمین ایک دائرہ ہے۔ اس کے کنارے نہیں ہیں۔ لہذا اس کی تلاش کرنا ایک بیکار مشق ہے۔ ہم ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق ماننے کے لئے آزاد ہیں اور یہ میرا نظریہ ہے کہ آسان وضاحت ہے۔ کوئی خدا نہیں ہے۔ کسی نے بھی ہماری کائنات کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہماری قسمت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس سے مجھے ایک گہرا احساس حاصل ہوتا ہے۔ شائد کوئی جنت نہیں اور نہ ہی کوئی آخرت۔ ہمارے پاس کائنات کے عظیم الشان ڈیزائن کی تعریف کرنے کے لئے یہ ایک زندگی ہے اور اس کے لئے میں بہت شکر گزار ہوں۔“سٹیفن ہاکنگمعزز احباب! آئیے سٹیفن ہاکنگ کی اس تحریر کو مذہبی و معاشرتی بنیادوں سے ہٹ کر خالص عقل کی کسوٹی پر پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلا سوال: کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے؟ممکنہ جوابات:(1) ہاں(2) نہیں(3) ہو سکتا اور نہیں بھی(4) ”اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں“(1) کائنات کی وسعت

0
1
77
زندگی کا گلا مروڑ دیا
تیرا شکوہ بھی ہم نے چھوڑ دیا
آخری جام تھا ہمارے ہاتھ
ہم نے وہ آخری بھی توڑ دیا
جب بھی آیا سوال بوسے کا
آپ حضرت نے منہ بسوڑ دیا

0
93
خدا نے حشر میں غم کا مرے شمار کیا
کروڑ سال خلائق نے انتظار کیا

0
57
افطاری کی خاطر شربت گھولے ہیں
لبِ شیریں نے اس کے امرت گھولے ہیں

0
62
”شاعر جب اپنے کلام کے جواب میں واہ واہ سنتا ہے تو سمجھتا ہے شاید لوگ مذاق کر رہے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں شاید شاعر مذاق کر رہا ہے“

52
اوّل آخر تنہاؔ
بیچ میں آئی دنیا

0
82
ہکّو چولا خدمت والا جُسّے وانگ ہنڈا
اپنڑے دُکھڑے بُھل ونج تنہاؔ! ہورِیں درد ونڈا

0
47
جانِ جاں دشمنِ جانی نکلی
تُو تو شیطان کی نانی نکلی
میں فلانی کا فلانا نکلا
تُو فلانے کی فلانی نکلی
تجھے ہونٹوں کا تبسم جانا
تُو ذلیل آنکھ کا پانی نکلی

147
بس اتنی بات تھی
اک دن
اسے اس کے کسی اک آشنا نے
دور سے آواز دی تھی اور
وگرنہ وہ تو مجھ سے ملنے والی تھی
اسے میں نے بلایا تھا

0
41
”ہم ایسے فحاش لوگ ہیں کہ اگر بہن بھائی کو بھی بازار میں ایک ساتھ دیکھ لیں تو اپنی دماغی لیبارٹری سے زنا کی ریپورٹ مثبت نکال دیتے ہیں“

0
4
106
شبِ ہوس کبھی تنہاؔ کہیں گزار کے دیکھ
بدن سے پیرہن اپنا ذرا اتار کے دیکھ

0
61
تمھارے بوسے مچھر لے رہے ہیں
ہمارے حق پہ ڈاکا ڈل رہا ہے

0
28
ایپی لپسی (Epilepsy) نے بیج بونا تھا
تم سے بچھڑے تھے، کچھ تو ہونا تھا

0
60
اک صورتِ خانہ جنگی ہے
میں ننگا ہوں، تُو ننگی ہے

0
34
پیلے پیلے زرد پھول
بن گئے ہیں درد پھول

0
48
جستجو سے خدا ملے گا کیا
مجھ پہ در ساتواں کھلے گا کیا
کیا کِھسانے پڑیں گے پاؤں مجھے
سوچ کا گُھڑ سفر کرے گا کیا
کیا ہمارے بدن جلانے سے
آپ کا یہ دیا جلے گا کیا

0
45
سانس لیتے ہیں اور جیتے ہیں
داغ کھاتے ہیں، اشک پیتے ہیں

0
48
میں اپنا آپ ڈبو بیٹھا
میں عاشق یار کا ہو بیٹھا
میں ساری سُدھ بُدھ کھو بیٹھا
میں آنسو آنسو رو بیٹھا
مجھے آئی شرم گناہوں پر
میں پھرتا رہا درگاہوں پر

0
40
وصل میں کچھ نہ بنا، رخ پہ لیے بال ہی ڈال
بے لباسی میں بھی اس کو رہا پردے کا خیال
مان اگر بات تو اس زلف کو بس کاٹ ہی ڈال
ایسا زہریلا، کہیں کاٹ نہ لے، سانپ نہ پال
داغدار اس کا ہے چہرہ، ترا چہرہ بے داغ
سو مناسب ہی نہیں چاند کو دیں تجھ سے مثال

0
60
گل قند کیا دوا ہے، میں قربان پھول پر
رس بھر دے رکھ کے رس بھرے پستان پھول پر
کانٹا ہوئے ہیں سوکھ کر اس گل کے غم میں ہم
طاقت نہیں کہ باندھیے عنوان پھول پر
کیا آئینہ سا باغ کو نکلا جفا شعار
حیران ہوں میں، پھول بھی حیران پھول پر

0
78
میرا رونا ہے زندگی بھر کا
حشر طاری ہے مجھ پہ محشر کا
سخت ناداں تھے جو خدا سمجھے
کافر اک بت تھا، بت بھی پتھر کا
آنکھ اٹھتی نہیں ہے ظالم کی
وار چلتا ہے دل پہ خنجر کا

0
49
ساقی! ترے مے خانے کی ہے بات ہی اب اور
چلتے ہیں، گزاریں گے کہیں رات ہی اب اور
”جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے“
”کیا خوب“ کہیں ہو گی ملاقات ہی اب اور
جانے کو ہے تیار ہمارا تو جنازہ
لائے گا تری پھر کوئی بارات ہی اب اور

0
47
تیری مہندی نکھار لاتی ہے
روز دو چار مار لاتی ہے
اتنا نزدیک بھی نہ آیا کر
تیری قربت بخار لاتی ہے
اور الزام ہے شراب کے سر
ِچشمِ ساقی خمار لاتی ہے

0
144