Circle Image

محمد جنید حسان تنہاؔ

@Tanha5555

بس اتنی بات تھی
اک دن
اسے اس کے کسی اک آشنا نے
دور سے آواز دی تھی اور
وگرنہ وہ تو مجھ سے ملنے والی تھی
اسے میں نے بلایا تھا

0
3
”ہم ایسے فحاش لوگ ہیں کہ اگر بہن بھائی کو بھی بازار میں ایک ساتھ دیکھ لیں تو اپنی دماغی لیبارٹری سے زنا کی ریپورٹ مثبت نکال دیتے ہیں“

0
4
40
اندھیری سیاہی
میں تنہاؔ رہوں گا
تباہی سہوں گا
نہ آئے گا کوئی
مرے غم کدے میں
پرانی کتابیں

0
6
شبِ ہوس کبھی تنہاؔ کہیں گزار کے دیکھ
بدن سے پیرہن اپنا ذرا اتار کے دیکھ

0
3
تمھارے بوسے مچھر لے رہے ہیں
ہمارے حق پہ ڈاکا ڈل رہا ہے

0
1
ایپی لپسی (Epilepsy) نے بیج بونا تھا
تم سے بچھڑے تھے، کچھ تو ہونا تھا

0
3
اک صورتِ خانہ جنگی ہے
میں ننگا ہوں، تُو ننگی ہے

0
3
پیلے پیلے زرد پھول
بن گئے ہیں درد پھول

0
جستجو سے خدا ملے گا کیا
مجھ پہ در ساتواں کھلے گا کیا
کیا کِھسانے پڑیں گے پاؤں مجھے
سوچ کا گُھڑ سفر کرے گا کیا
کیا ہمارے بدن جلانے سے
آپ کا یہ دیا جلے گا کیا

0
1
سانس لیتے ہیں اور جیتے ہیں
داغ کھاتے ہیں، اشک پیتے ہیں

0
1
میں اپنا آپ ڈبو بیٹھا
میں عاشق یار کا ہو بیٹھا
میں ساری سُدھ بُدھ کھو بیٹھا
میں آنسو آنسو رو بیٹھا
مجھے آئی شرم گناہوں پر
میں پھرتا رہا درگاہوں پر

0
8
وصل میں کچھ نہ بنا، رخ پہ لیے بال ہی ڈال
بے لباسی میں بھی اس کو رہا پردے کا خیال
مان اگر بات تو اس زلف کو بس کاٹ ہی ڈال
ایسا زہریلا، کہیں کاٹ نہ لے، سانپ نہ پال
داغدار اس کا ہے چہرہ، ترا چہرہ بے داغ
سو مناسب ہی نہیں چاند کو دیں تجھ سے مثال

0
19
گل قند کیا دوا ہے، میں قربان پھول پر
رس بھر دے رکھ کے رس بھرے پستان پھول پر
کانٹا ہوئے ہیں سوکھ کر اس گل کے غم میں ہم
طاقت نہیں کہ باندھیے عنوان پھول پر
کیا آئینہ سا باغ کو نکلا جفا شعار
حیران ہوں میں، پھول بھی حیران پھول پر

0
4
میرا رونا ہے زندگی بھر کا
حشر طاری ہے مجھ پہ محشر کا
سخت ناداں تھے جو خدا سمجھے
کافر اک بت تھا، بت بھی پتھر کا
آنکھ اٹھتی نہیں ہے ظالم کی
وار چلتا ہے دل پہ خنجر کا

0
4
ساقی! ترے مے خانے کی ہے بات ہی اب اور
چلتے ہیں، گزاریں گے کہیں رات ہی اب اور
”جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے“
”کیا خوب“ کہیں ہو گی ملاقات ہی اب اور
جانے کو ہے تیار ہمارا تو جنازہ
لائے گا تری پھر کوئی بارات ہی اب اور

0
8
تیری مہندی نکھار لاتی ہے
روز دو چار مار لاتی ہے
اتنا نزدیک بھی نہ آیا کر
تیری قربت بخار لاتی ہے
اور الزام ہے شراب کے سر
ِچشمِ ساقی خمار لاتی ہے

0
59