”جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے تو میں ان سے کہتا ہوں کہ اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں ہے۔ بڑے دھماکے سے پہلے وقت موجود نہیں تھا، لہذا خدا کے لئے کائنات کو بنانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ یہ زمین کے کنارے کی سمت پوچھنے کی طرح ہے۔ زمین ایک دائرہ ہے۔ اس کے کنارے نہیں ہیں۔ لہذا اس کی تلاش کرنا ایک بیکار مشق ہے۔ ہم ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق ماننے کے لئے آزاد ہیں اور یہ میرا نظریہ ہے کہ آسان وضاحت ہے۔ کوئی خدا نہیں ہے۔ کسی نے بھی ہماری کائنات کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہماری قسمت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس سے مجھے ایک گہرا احساس حاصل ہوتا ہے۔ شائد کوئی جنت نہیں اور نہ ہی کوئی آخرت۔ ہمارے پاس کائنات کے عظیم الشان ڈیزائن کی تعریف کرنے کے لئے یہ ایک زندگی ہے اور اس کے لئے میں بہت شکر گزار ہوں۔“

سٹیفن ہاکنگ


معزز احباب! آئیے سٹیفن ہاکنگ کی اس تحریر کو مذہبی و معاشرتی بنیادوں سے ہٹ کر خالص عقل کی کسوٹی پر پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پہلا سوال: کیا کسی خدا نے کائنات کی تخلیق کی ہے؟

ممکنہ جوابات:

(1) ہاں

(2) نہیں

(3) ہو سکتا اور نہیں بھی

(4) ”اس سوال کا خود کوئی معنی نہیں“


(1) کائنات کی وسعت اور پیچیدگیاں ظاہر کرتی ہیں کہ اتنا منظم انتظامی ڈھانچہ بغیر کسی سوچ کے وجود میں نہیں آ سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی کوششوں نے زندگی کو آسان بنانے میں اہم خدمت سرانجام دی ہے لیکن کوئی بھی کوشش فرداً فرداً اس قابل نہیں کہ مکمل خدمت کا اظہار کر سکے۔ اب اگر اتنی خدمت کو محض ایک فرد کی حد تک تسلیم کیا جائے تو یہ ایک حماقت ہو گی۔ لیکن دوسری طرف اگر خدمت کو کُل نسل کیلئے تسلیم کیا جائے تو فرد کی وجہِ خدمت بے حیثیت و بے وقعت ہوتی معلوم ہو گی۔ کیا یہاں یہ قیاس کر لینا کافی ہو گا کہ خدمت بے لوث جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گی؟ جبکہ فرد کیلئے تمنا کے بغیر خدمت اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتی اور فرد کے بغیر مکمل خدمت کا ہونا ناممکن ہے۔ تو معلوم ہوا کہ خدمت کا وجود اگر انسانی زندگی کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوا ہے تو یہ کُل کوششوں کا ثمر ہے جس میں تمنا فرد کی حد تک شامل ہو سکتی۔

یہاں تک تو انسانی خدمت کی بحث ہوئی جو کہ کُل کوششوں کا ثمر ثابت ہوئی۔ اب ہم کوشش پر بحث کرتے ہیں کہ آیا کوشش سوچ کے تابع ہے یا بغیر سوچ کے وجود قائم رکھ سکتی؟

اگر انسان کی بات کی جائے تو کوشش اکثر اوقات بلکہ ہمیشہ کی حد تک سوچ کے تابع ہے پھر چاہے وہ شعوری ہو یا لاشعوری اور اگر انسان سے بڑھ کر بات کی جائے تو کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی کہ کوئی کوشش بغیر سوچ کے واقع ہو۔

مثال کے طور پر اپنے جیسا ایک بچہ پیدا کرنے کی انسانی کوشش اگر مناسب سوچ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی جو زندگی کی بالکل ہی چھوٹی سی اکائی سے آغاز کرتی ہے تو کائنات کی زندگی کا اس قدر وسیع سلسلہ بغیر منظم سوچ کے کس طرح وقوع پزیر ہو سکتا؟

چونکہ یہ کائنات انسانی کوشش سے وجود میں نہیں آئی اور سوچ کے بغیر کوئی کوشش معنی نہیں رکھتی تو پھر وہ کون سی سوچ ہے جس نے اس کوشش کو جنم دیا جو کائنات کے وجود کا سبب بنی؟ اس نقطہ پر آ کر سوال کا پہلا جواب ملتا ہے کہ ”ہاں“ کائنات خدا کی تخلیق ہے۔


(2) کائنات کا وسیع ہونا اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ اس کے بنانے والے کو تسلیم کیا جائے۔ مظاہر کے وقوع ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ تنظیم خود حیثیت سے مبرا ہے۔ اور اگر سوچ ہی ہر تنظیم میں کارفرما ہے تو برخلافِ سوچ وقوع کا امکان کیوں ہے؟

یعنی اگر کائنات بنانے والے کی سوچ نے سب درست بنایا تو اغلاط کہاں سے آئیں؟ یا پھر بنانے والے نے جان بوجھ کر مثبت اور منفی سوچ کارفرما رکھی؟

کائنات بنانے والے کی حیثیت تسلیم کرنا ناممکن ہو جاتا ہے جب سوچ کو مثبت اور منفی دو مخالف قوتوں میں تقسیم کرنا پڑتا ہے۔ پھر کیا کائنات کے بنانے والے دو مخالف خدا ہوئے ہیں؟

اس نقطہ پر آ کر سوال کا دوسرا جواب ملتا ہے کہ ”نہیں“ کائنات خدا کی تخلیق نہیں ہے۔


(3) کائنات پر بحث کرنے کی بجائے ہم کائنات بنانے والے پر بحث کیوں کرتے ہیں؟ کیا اس بحث کا حاصل فساد و شر کے سوا کچھ اور ہے؟

ہم فرض کرتے ہیں یہ کائنات خدا نے بنائی ہے تو کیا کائنات پر اس کا اثر ہو گا؟ یا اگر فرض کرتے ہیں کہ کائنات خدا نے نہیں بنائی تب کائنات پر کوئی اثر پڑے گا؟

یہ ایک لایعنی بحث ہے جس سے انسانی زندگی کو متاثر ہونا چھوڑ دینا چاہیے۔ انسان نے عقلیت کی بنیاد پر ضوابط قائم کیے ہیں اور آئندہ بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق نئے اصول وضع کرتا رہے گا۔

اس نقطہ پر آ کر سوال کا تیسرا جواب ملتا ہے کہ ”ہو سکتا اور نہیں بھی“۔


(4) کائنات کا خدا کی تخلیق ہونے کا سوال خود کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ سٹیفن ہاکنگ مثال پیش کرتا کہ بڑے دھماکے سے پہلے وقت موجود نہیں تھا، لہذا خدا کے لئے کائنات کو بنانے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ اب اگر وقت کو دیکھا جائے تو زمینی وقت دوسرے سیاروں کے اوقات سے کہیں مختلف ہے اور اسی طرح کائنات میں ہر جگہ وقت کا اختلاف ہے۔ ہم ہر جگہ ایک وقت کا صحیح تعین کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہی وقت کو گردش کا مرہون قرار دے سکتے ہیں بلکہ اگر وقت کو گردش ماپنے کا آلہ سمجھ لیں تو زیادہ حد تک ممکنات کے قریب ہوا جا سکتا۔ ہم ہمیشہ یہ خیال کیوں کر لیتے ہیں کہ گردشی نظام کے ساتھ ہی وقت کا وقوع عمل میں آیا؟ کیا ایسا تو نہیں کہ ہم نے گردش کو وقت ماپنے کا آلہ سمجھ رکھا ہے؟

اگر ان سوالات پر مباحث کا آغاز کیا جائے تو ہاکنگ کا یہ نظریہ کہ بڑے دھماکے سے پہلے وقت موجود نہیں تھا، دم توڑتا نظر آتا ہے اور پھر خدا کیلئے کائنات بنانے کا وقت ہونا یا نہ ہونا تو بہت بعد کا مسئلہ ہے۔ یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ کسی بھی سوال کے جواب میں یہ کہنا کہ سوال کا خود کوئی معنی نہیں ہے، عقلیت کے خلاف ہے کیونکہ عقلیت ہر سوال کا جواب ممکن سمجھتی یہ الگ بات ہے کہ جواب دینے والے کو سوال کی سمجھ نہ ہو یا جواب کا علم نہ ہو۔ ہاکنگ سے اس قسم کی حماقت کی قطعی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔


دوسرا سوال: کیا زمین کے کنارے نہیں ہیں؟

اس سے کہیں زیادہ اچھا سوال ہو سکتا کہ کیا کائنات کے کنارے نہیں ہیں؟

ہم جب بھی لفظ ”کنارہ“ پر سوچنے لگتے تو ظاہری معانی قیاس کرتے اور کہہ دیتے کہ چونکہ شے گول ہے تو کنارہ کا لفظ استعمال کرنا درست ہی نہیں۔ کیا کوئی ایسی شے کائنات میں موجود ہے جو گول نہیں؟ چلیں ہم ہموار اور دو سطحی شے کو ہی لے لیتے جو کہ ان گنت ایٹمز سے مل کر بنی ہے جو تمام کے تمام گول ہیں یا ہاکنگ کوئی چوکور ایٹم کو بھی جانتے تھے جس کے کنارے ہوں؟ اب جبکہ کائنات ایٹمز کے ملنے سے بنی ہوئی ہے تو اس طرح ہاکنگ کے مطابق نہ تو زمین کے کنارے نہ ہی کائنات کے کنارے تو اس طرح کنارہ کا لفظ ہی لغت سے مٹا دیا جانا چاہیے کیونکہ ہم تو ظاہری آنکھ سے ہی دیکھنے کے قائل ہیں۔ ہماری عقل لفظ کنارہ کے معانی کا احاطہ کرنے سے ہی قاصر ہے۔ انتہائی نادانشمندانہ بحث۔


سٹیفن ہاکنگ اپنے نظریہ کے مطابق آسان وضاحت دیتا ہے کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ کسی نے بھی ہماری کائنات کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی کوئی ہماری قسمت کی ہدایت کرتا ہے۔ اس سے اسے ایک گہرا احساس حاصل ہوتا ہے۔ شائد کوئی جنت نہیں اور نہ ہی کوئی آخرت۔

یہ وضاحت سمجھنا اور تسلیم کرنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ خدا موجود ہے۔ ہاکنگ کا نظریہ ان گنت سوالات پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کائنات کا وجود کیسے اور کیوں قائم ہوا اور اس میں زمین اور پھر محض زمین پر مخلوقات کا وجود اور مخلوقات میں صرف انسان کے پاس شعور و ادراک کی صلاحیت، زندگی اور موت کا حقیقی تصور، نفع و نقصان، غلط اور صحیح کی پہچان، قواعد و ضوابط کا اطلاق وغیرہ۔ یہ سب کچھ بے معنی ہو جاتا جب آخرت کا تصور ختم کر دیا جائے۔ اندھیر نگری چوپٹ راجا۔


سٹیفن ہاکنگ کہتا ہے کہ ہمارے پاس کائنات کے عظیم الشان ڈیزائن کی تعریف کرنے کے لئے یہ ایک زندگی ہے۔ کائنات کا عظیم الشان ڈیزائن، ہاکنگ ایک طرف تو کائنات کو ڈیزائن مان رہا اور ساتھ کہہ رہا کہ یہ بنایا بھی کسی نے نہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ڈیزائن ہو اور ڈیزائنر نہیں۔ یہ ایسا ہی عجیب ہے کہ کوئی شخص کہے کہ میں تو تولد ہوں لیکن میرے والدین کا وجود ہی نہیں۔ احمقانہ حد تک مذاق کیا گیا ہے اس بات میں۔ ہاکنگ کا ذہنی توازن درست نہیں لگتا۔

عبارت کے آخر میں ہاکنگ ایک اور اعتراف کرتا نظر آتا ہے۔ ہاکنگ کہتا ہے اس (زندگی) کے لئے میں بہت شکر گزار ہوں۔ جب خدا کے وجود کا انکار ہو چکا اور عقلیت سے یہ معلوم بھی نہیں کہ زندگی کس کی عطا ہے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہاکنگ شکر گزاری کے کلمات کس ہستی کیلئے ادا کر رہا۔ فرض کیجئے کہ وہ اپنی زندگی کا شکر گزار اپنے والدین کو سمجھتا تھا لیکن عقلیت یہ ماننے سے انکار کر دے گی کہ والدین اولاد کو زندگی عطا کرتے ہیں اور اولاد کو اس زندگی کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ شکر گزاری کا جذبہ عقلیت سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی۔ عقلیت کے مطابق ہر انسان کامل فرد ہے اور خود وجود رکھتا ہے، کسی کا تخلیق شدہ یا احسان شدہ ہے ہی نہیں تو شکر گزاری اختیار کرنا عقلیت کے منافی ہوا۔ عقلیت والدین کو وجودیت کے وسیلے سے آگے کچھ بھی سمجھنے کی قائل ہی نہیں ہوتی۔


محترم و مکرم احباب! اوپر کی گئی تمام بحث کا مقصد اس انسان کے نظریات کا تنقیدی مطالعہ کرنا تھا جسے آج نصف سے زیادہ دنیا عظیم مفکر و فلاسفر خیال کرتی ہے۔ آخر میں گزارش ہے کہ تمام تر تصورات کو عقلیت پر جانچتے ہوئے آپ احباب اپنی اپنی آراء کا اظہار ضرور کریں۔


والسلام!

خاکسار و کم ترین

محمد جنید حسان تنہاؔ


0
1
77
"When people ask me if a god created the universe, I tell them that the question itself makes no sense. Time didn’t exist before the big bang, so there is no time for god to make the universe in. It’s like asking directions to the edge of the earth; The Earth is a sphere; it doesn’t have an edge; so looking for it is a futile exercise. We are each free to believe what we want, and it’s my view that the simplest explanation is; there is no god. No one created our universe,and no one directs our fate. This leads me to a profound realization; There is probably no heaven, and no afterlife either. We have this one life to appreciate the grand design of the universe, and for that I am extremely grateful."

Stephen Hawking

0