تیرے لب کی مثال ہو جائے
لعل غصّے میں لال ہو جائے
منہ تکیں کوہ قاف کی پریاں
تیرا ظاہر جمال ہو جائے
آ مرے یار کی کمر کی لچک
شاخِ گل پر سوال ہو جائے
تیری جوبن بھری جوانی مرے
بازوؤں میں نڈھال ہو جائے
یا خدا میکشوں کا فیصلہ کر
شیخ کو مے حلال ہو جائے
دورِ حاضر میں ایک اچھا شعر
کوئی کہہ دے، کمال ہو جائے
چل نکل راہِ زیست میں تنہاؔ
جب بچھڑنا محال ہو جائے

0
1
118
موسمِ رنگ و بو آئے
رو برو جب بھی تو آئے
کون ہے تجھ سا مری جاں
اور جتنے خوب رو آئے
میکدے میں تیرے ساقی
ایک ہم ہی با وضو آئے
تشنگی کا ہو یہ عالم
خود ہی چل کے آبِ جو آئے
کر سکوں تم کو میں قائل
وہ سلیقہ گفتگو آئے
پھول کی ہر اک کلی سے
مجھ کو تیری خوشبو آئے
وجہ غم کیا ہے مبشّر
آنکھ سے کیوں لہو آئے

0