Circle Image

Bashir Ahmed Habib

@Bashirhabib

غزل۔۔
مسافتوں میں عجب سلسلہ رہا
وہ روبرو تھا مگر فاصلہ رہا
تری طلب مری منزل بنی رہی
مرا عدو مرے اندر چھپا رہا
جو ان کے سامنے میں کہہ نہیں سکا

0
3
غزل۔۔
چاہتیں جذبِ دروں مانگتی ہیں
سر پھری ہوں تو جنوں مانگتی ہیں
دھڑکنیں اپنی روانی کے لیے
تیرے لہجے کا سکوں مانگتی ہیں
اس جنم میں تجھے پانے کے لیے

0
2
اب جو بچھڑے ہیں تو ملنے کا گماں باقی ہے
جیسے مٹ جانے کے بعد اگلا جہاں باقی ہے
خواہشیں مرتی نہیں شکل بدل لیتی ہیں
جل بجھا شعلۂ جاں کب کا، دھواں باقی ہے
کس کی منزل تھی کہاں، کس کو کہاں رکنا تھا
دید وا دید گئی، عمرِ رواں باقی ہے

0
6
آ نکھ تو ہے بینائی نہیں ہے
مَن بھیتر تنہائی نہیں ہے
تیری باتیں کیسے جانوں
تجھ تک مری رسائی نہیں ہے
تیری آنکھوں میں جو دیکھی
دریا میں گہرائی نہیں ہے

0
2
سالگرہ
تمہارا یہ جنم دن ہے چلو کچھ پھول چنتے ہیں
ادھوری آ رزو میں کچھ خوشی کے رنگ بھرتے ہیں
چلو یہ بھلا دیتے ہیں کل ہم سب کہاں ہونگے
کتنے فاصلے پھر سے اپنے درمیاں ہونگے
یہ کنگن ہاتھ کا جو کہتا ہے وہ یاد رکھتے ہیں

0
20
سرمئی سی شام میں وہ خواب کے سفر میں تھی
محبتوں کا نور تھا وہ خوشبوؤں کے شہر میں تھی
ہونٹ اس کےلال سےگلاب تھے مہکے ہوے
چراغ اس کی آ نکھ کے تھے دیر سے دھکے ہوے
بزم کی ہر ایک شہ اس وجود کے سحر میں تھی
سرمئی سی شام میں وہ خواب کے سفر میں تھی

0
19
تمہارا ساتھ ہے تو روشنی سے نسبتیں ہیں
تمہارے وصل سے پیدا یہ کیسی رفعتیں ہیں
بنے ہیں جو ستارے استعارہ منزلوں کا
تمہاری وسعتوں میں کچھ یہ میری حیرتیں ہیں
تمہارے نقش پا نے جو مرتب کر دیئے ہیں
وہ رستے ہی ہماری جستجو کی منزلیں ہیں

0
21
امید کے شجر پہ کھلے خشک پھول تھے
جو غم کی آ ندھیوں میں بھی صحرا کی دھول تھے
جب جیتے جی وہ شخص مرا ہو نہیں سکا
اگلے جہاں میں وصل کے وعدے فضول تھے
میرا تو ماہ و سال نے چہرہ بدل دیا
تیری نظر میں تازہ گلابوں کے پھول تھے

0
11
غزل۔۔
وہ چھپ بھی جائے تو مجھ کو دکھائی دیتا ہے
خموشیوں میں مجھے سب سنائی دیتا ہے
وہ اپنے ہونٹوں کی ہلکی سی ایک جنبش سے
گل خیال کو کیا کیا رسائی دیتا ہے
وہ اپنی ادھ کھلی آنکھوں سے میکدوں کے بیچ

0
6
غزل۔۔
یا تو مجھ سے ملا نہیں ہوتا
یا کبھی بھی جدا نہیں ہوتا
تو اگر غیر تھا تو تیرا سخن
نغمہ جاں فزا نہیں ہوتا
تو اگر دیکھتا نہ میری طرف

0
3
غزل۔۔
مری چاہ تجھ پہ یقین تک میری چاہ وہم و گمان تک
مرا فلسفہ میرا مسئلہ ہے تیرے بدن کی کمان تک
ترے جسم و جان کے زاویے راہ پر خطر تھے مرے لئے
میں قدم قدم پہ لٹاہوں یوں کہ لٹا ہےاگلا جہان تک
مرا تیرنا مرا ڈو بنا ہے تری نظر سے جڑا ہوا

0
6
غزل..
ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا
کہیں سیرت نہیں ملتی، کہیں چہرہ نہیں ملتا
مکمل ہوں، بہت خوش ہوں کہ اب اس دل میں جھانکوں تو
تمھارے بِن کہیں کوئی بھی نظٌارہ نہیں ملتا
تمھارے وصل نے کتنا مکمل کر دیا مجھ کو

0
30
غزل۔۔
ساون رت کی پہلی بارش تو اور میں
رم جھم میں جلنے کی خواہش تو اور میں
بادل برکھا ساون رت کا بھیگا گیت
موسم کی یہ گہری سازش تو اور میں
رات کے پچھلے پہر اک بادل کی چنگھاڑ

0
27
غزل۔۔
کبھی جو ملنا حجاب رکھنا
نظر سے جاری خطاب رکھنا
لبوں پہ چپ کے گلاب رکھنا
یہ چہرہ روشن کتاب رکھنا
کبھی نظر سے کبھی سخن سے

0
7