غزل..
ہزاروں لوگ ملتے ہیں کوئی تم سا نہیں ملتا
کہیں سیرت نہیں ملتی، کہیں چہرہ نہیں ملتا
مکمل ہوں، بہت خوش ہوں کہ اب اس دل میں جھانکوں تو
تمھارے بِن کہیں کوئی بھی نظٌارہ نہیں ملتا
تمھارے وصل نے کتنا مکمل کر دیا مجھ کو
رہِ دنیا میں کوسوں تک پتا اپنا نہیں ملتا
زمانہ ٹھیک سے سمجھا نہیں کارِ محبت کو
محبت میں جو سچے ہیں انھیں کیا کیا نہیں ملتا
تمہارے سامنے جو لوگ اپنے دھیان میں گم ہیں
رہِ الفت میں کوئی اس قدر کھویا نہیں ملتا
کسی پیمانِ الفت کو کبھی آ سان مت لینا
محبت ترک کرنے پر کہیں یارا نہیں ملتا

0
57