اب جو بچھڑے ہیں تو ملنے کا گماں باقی ہے
جیسے مٹ جانے کے بعد اگلا جہاں باقی ہے
خواہشیں مرتی نہیں شکل بدل لیتی ہیں
جل بجھا شعلۂ جاں کب کا، دھواں باقی ہے
کس کی منزل تھی کہاں، کس کو کہاں رکنا تھا
دید وا دید گئی، عمرِ رواں باقی ہے
کتنے ساون مری آنکھوں میں اتر آتے ہیں
سوچتا رہتاہوں کیا اور کہاں باقی ہے
کتنے تاریک گھروندے ہیں مگر سوچو تو
ایک اک ذرہ چمک سکتا ہے، جاں باقی ہے
ہم وہ خوش فہم کہ پھر ملنے کی امید لیے
سوچتے رہتے ہیں بس ایک ہی ’’ہاں‘‘ باقی ہے

0
54