غزل۔۔
مسافتوں میں عجب سلسلہ رہا
وہ روبرو تھا مگر فاصلہ رہا
تری طلب مری منزل بنی رہی
مرا عدو مرے اندر چھپا رہا
جو ان کے سامنے میں کہہ نہیں سکا
مرے سخن میں وہی گونجتا رہا
جو زخم دل پہ لگا وہ بھرا نہیں
جو دکھ ملا وہ سدا، لا دوا رہا
میں گھوم گھام اسی در پہ آ گیا
مرے لیے جو ہمیشہ کھلا رہا
تری نگاہ یہ لب اور سخن حبیب!
میں خواب خواب تجھے دیکھتا رہا

0
40