غزل۔۔
ساون رت کی پہلی بارش تو اور میں
رم جھم میں جلنے کی خواہش تو اور میں
بادل برکھا ساون رت کا بھیگا گیت
موسم کی یہ گہری سازش تو اور میں
رات کے پچھلے پہر اک بادل کی چنگھاڑ
اس پر تیز ہوا کی پرسش تو اور میں
اسکے گال پہ رقصاں بوندیں کتنی خوش
میرا دل اور ہجر کی رنجش تو اور میں
بارش کی مدھم خوشبو رخساروں کے پھول
ہونٹوں سے ہونٹوں کی بندش تو اور میں
ان آ نکھوں میں کاجل سے اک بھیگی شام
پہلے ہجر کی پہلی کاوش تو اور میں
بارش میں ان ہونٹوں پر اک بھیگا گیت
رک سی گئی تھی خون کی گردش تو اور میں
چھتری میں بارش سے بچنے کی خواہش
ٹپ ٹپ بوندیں ہونٹوں کی لرزش تو اور میں
بارش میں تصویر ہوا دیوانہ پن
وصل کی پہلی پہلی لغزش تو اور میں

0
42