Circle Image

Tasadduq Ali

@9565006868

میرا رفیق دلبر اِک یار چل دیا ہے
غمگین آج کر کے دلدار چل دیا ہے
تسکین میرے دل کو دیتی تھیں جسکی باتیں
جانے سے اسکے لگتا سنسار چل دیا ہے
آنکھیں برس رہی ہیں ہر سو مچا ہے ماتم
چہرہ تھا جس کا مثلِ گلنار چل دیا ہے

0
3
کس طرح ہوتی رقم مجھ سے بڑائی تیری
جن و انساں ہی نہیں ساری خدائی تیری
ناز تقویٰ پہ عبادت پہ نہ سجدے پہ مِرا
مجھ سیہ کار کو کافی ہے گدائی تیری
اعلیٰ حضرت نے کہا کعبے کا کعبہ تجھ کو
بر سرِ عرش ہے واللہ رسائی تیری

0
4
رازِ دل اپنا چھپایا کیجئے
زخم کھا کے مسکرایا کیجئے
عشق میں گر چاہئے رسوائیاں
بے وفا سے دل لگایا کیجئے
جانتا ہوں آپ کتنے ہیں صحیح
مجھ پہ مت انگلی اٹھایا کیجئے

0
6
دلِ مضطرب کی بڑھی بیقراری
مدینے میں جانے کو جی چاہتا ہے
دیا زخم جو ہے زمانے نے مجھ کو
نبی سے دِکھانے کو جی چاہتا ہے
وہ شہرِ محبت ہمارا مدینہ
دل و جان سے ہم کو پیارا مدینہ

0
7
مجھ پہ گر پیارے محمد کی نظر ہو جائے
ہر خطر سے مِرا واللہ گزر ہو جائے
مار دی جائے گی چہرے پہ عبادت ساری
جس کے دل میں شہِ بطحا سے مکر ہو جائے
کون کہتا ہے؟ مسلمان میں طاقت نہ رہی
زیر کو چاہیں تو پل بھر میں زبر ہو جائے

0
3
جب بھی سرکار کے کوچے کی ہوا ملتی ہے
ہم سے بیمار کو بس اس سے شفا ملتی ہے
شاہِ بطحا کی پڑی جس پہ نگاہِ رحمت
اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا ملتی ہے
آؤ بیمارو! مسیحائے زمن کے در پر
سارے امراض کی اس در پہ دوا ملتی ہے

8
آج خوشیوں کا سماں کتنا سہانا ہو گیا
سنتِ سرکار سے روشن گھرانا ہو گیا
صدقۂ مشکل کشا کرب و بلا غوث الوریٰ
صدقۂ خواجہ پیا وارث علی سمناں پیا
صدقۂ کل اولیاء دولہے میاں کو ہو عطا
ان کی چاہت میں قسم سے آج آنا ہو گیا

0
3
مرتبہ کتنا ہے ذیشان کچھوچھہ والے
آپ سمناں کے ہیں سلطان کچھوچھہ والے
مجھ پہ اک بار عنایت کی نظر ہو جائے
میری بخشش کا ہو سامان کچھوچھہ والے
آپ کے در پہ فرشتے بھی سلامی دیتے
آپکی اونچی بہت شان کچھوچھہ والے

0
18
انانیت میں ہمیشہ وہ چور رہتے ہیں
دل و دماغ میں جنکے فتور رہتے ہیں
انا پرست، دغا باز، بے وفا، بد خو،
تمہارے کوچے میں سب بےشعور رہتے ہیں
خلافِ ظلم نہیں کھلتی اب زباں کوئی
ہمارے شہر میں اہلِ قبور رہتے ہیں

194
گھر بار سب لٹایا رب کی رضا کی خاطر
اسلام کو بچایا رب کی رضا کی خاطر
ظلم و ستم مٹانے دینِ نبی بچانے
میرا حسین آیا رب کی رضا کی خاطر
بچپن میں ایک وعدہ نانا سے جو کیا تھا
کربل میں وہ نبھایا رب کی رضا کی خاطر

0
16
حسینِ پاک کا کربل میں جانا یاد آتا ہے
بہتّر زخم کھا کے مسکرانا یاد آتا ہے
کٹا کے سر بچایا دین کو سبطِ پیمبر نے
وہ کنبہ یاد آتا ہے گھرانا یاد آتا ہے
ضرورت گر پڑی نانا لہو اپنا بہا دیں گے
کیا بچپن میں جو وعدہ نبھانا یاد آتا ہے

0
17
بُستانِ مصطفیٰ کو سجایا حسین نے
گردن کو کربلا میں کٹایا حسین نے
نام و نشاں یزید کا جس نے مٹا دیا
خونِ جگر سے دین بچایا حسین نے
ظلم و ستم کو سہہ لیا اف تک نہیں کیا
بچپن کا ایک وعدہ نِبھایا حسین نے

0
13
نبی کے عشق کا منظر علی علی کہکر
بسا لے قلب کے اندر علی علی کہکر
یزیدیوں کے کلیجے دہل گئے رن میں
حسین مارتے خنجر علی علی کہکر
علی کا نام جگاتا ہے بختِ خفتہ کو
بنے گا وقت کا سرور علی علی کہکر

0
9
بہت مشکل میں ہے بندہ الٰہی رحم فرما دے
غموں کا سر پہ ہے پہرہ الٰہی رحم فرما دے
مِرے احوال پژمردہ گناہوں پر ہوں شرمندہ
جھکا ہے شرم سے چہرہ الٰہی رحم فرما دے
تِرے در کے سِوا میرا نہ ماویٰ نا کوئی ملجا
مِرے حالات ہیں خستہ الٰہی رحم فرما دے

0
10
آفاق میں بلند ہے رتبہ حسین کا
اللہ کا حبیب ہے نانا حسین کا
حسن و حسین فاطمہ حضرت علی کی ذات
بے مثل ہے جہان میں کنبہ حسین کا
کرب و بلا سے ایسی جسارت ہے مل گئی
جھکتا نہیں کہیں بھی دِوانہ حسین کا

0
44
کبھی ساون کی بارش بھی وبالِ جان بن جاتی
کہیں آتی نہیں جلدی کہیں مہمان بن جاتی
اگر محبوب سے ملنے کا کر لیتا کوئی وعدہ
ہمارے واسطے بارش سنو! طوفان بن جاتی
کہیں سرسبز شادابی کہیں پر قحط سالی ہے
کسی کی زندگی بنتی کہیں شمشان بن جاتی

0
20
کلمۂِ حق جب سنایا ہے خلیل اللہ نے
ظلم کو جڑ سے مٹایا ہے خلیل اللہ نے
چل دیئے بیباک ہوکے آتشِ نمرود میں
عشق کا مطلب بتایا ہے خلیل اللہ نے
ابتلائے رب تعالیٰ میں رہے ثابت قدم
خواب کو سچ کر دِکھایا ہے خلیل اللہ نے

0
7
درِ رسول پہ اے کاش حاضری ہوتی
مِری زباں پہ محمد کی شاعری ہوتی
لکھوں میں نعتِ نبی جاکے کوچۂِ جاناں
مِرے نصیب میں مولیٰ! یہ بندگی ہوتی
میں ناز کرتا نصیبے پہ ہر گھڑی مولیٰ!
تِرے حبیب کے جو در کی نوکری ہوتی

0
28
مل رہا ہے عشق کا بھی ضابطہ فردوس میں
مصطفےٰ کے در سے جاتا راستہ فردوس میں
روضۂِ اقدس کی جالی وہ محمد کا نگر
یاد آتا ہے مدینہ باخدا فردوس میں
آمنہ کے لال دیکھو! آرہے ہیں شان سے
جھک گئے حور و ملائک برملا فردوس میں

0
20
ہر گھڑی مجھکو رلا دیتی ہیں میری آنکھیں
جانبِ بطحا دِکھا دیتی ہیں میری آنکھیں
قافلہ جب کوئی جاتا ہے مدینے کی طرف
اشک آنکھوں سے بہا دیتی ہیں میری آنکھیں
جب خیالوں میں محمد کا نگر آتا ہے
دل میں امید جگا دیتی ہیں میری آنکھیں

26
زمیں خوبصورت سما خوبصورت
مدینے کی ساری فضا خوبصورت
خدا تجھ کو رکھے ہمیشہ سلامت
مِری ماں کے لب کی دعا خوبصورت
مجھے بھی بنالو مدینے کا قیدی
ملے کوئی ایسی سزا خوبصورت

0
13
قابلِ تکریم ہے اونچی ہے عظمت جان لے
ماں کے قدموں کے تلے تیری ہے جنت جان لے
بختِ خفتہ کو اجاگر ماں کی کر دیتی دعا
کامرانی با خدا ملتی مسرت جان لے
رحمت و انوار میرے گھر پہ ہیں سایہ فگن
بالیقیں یہ ماں کے قدموں کی ہے برکت جان لے

0
16
رقم ہو کس طرح ہم سے بھلا رتبہ محمد کا
خدا خود کر رہا ہے دیکھ لو چرچا محمد کا
نبی کو مالکِ کون و مکاں رب نے بنایا ہے
ملائک بانٹتے گھر گھر میں ہیں صدقہ محمد کا
فلک کا چاند بھی نظریں جھکا کے جگمگاتا ہے
چمکتا جب سے دیکھا ہے حسیں چہرہ محمد کا

0
2
41
ظالم کی قیادت ہے ذرا دیکھ کے چلنا
نفرت کی سیاست ہے ذرا دیکھ کے چلنا
تو بات کیا کرتا تھا جن اچھے دنوں کی
در اصل قیامت ہے ذرا دیکھ کے چلنا
مقتول کو کر دیتی ہے اک آن میں قاتل
گودی یہ صحافت ہے ذرا دیکھ کے چلنا

14
ہماری ابتدا تم ہو ہماری انتہا تم ہو
ہماری زندگی کے باخدا حاجت روا تم ہو
تمھی ہو مونس و غمخوار میرے مقتدیٰ تم ہو
تمھی ہو درد کے درماں زمانے کے شہا تم ہو
عطائیں ہر جہت میں ہیں تمہاری بالیقیں داتا
مسیحائے زمن ہو غمزدوں کے غمژدہ تم ہو

2
42
نظر میں ہر گھڑی جلوہ ہے میرے مرشد کا
دل و دماغ پہ پہرہ ہے میرے مرشد کا
خدا بھی دیکھ کے چہرے کو یاد آ جائے
قسم خدا کی وہ چہرہ ہے میرے مرشد کا
بہار آج تلک اس چمن میں باقی ہے
جہاں پہ پڑ گیا تلوا ہے میرے مرشد کا

0
14
حسنِ یوسف نہ تمنائے زلیخا دیکھوں
دل کی چاہت ہے محمد کا ہی چہرہ دیکھوں
راس آئے نہ مجھے کوئی بھی دلکش منظر
آخری سانس تلک گنبدِ خضریٰ دیکھوں
جب نکیرین کریں قبر میں پرسش مجھ سے
ہر گھڑی میرے نبی آپ کا جلوہ دیکھوں

0
25
ہم سے ناراض خدا عید منائیں کیسے
ہر طرف چھائی وبا عید منائیں کیسے
شدتِ غم میں پڑی زیست نہ یاور کوئی
خوف کا سایہ بپا عید منائیں کیسے
مجھ گنہ گار پہ ہو جائے نزولِ رحمت
میرے لب پر ہے دعا عید منائیں کیسے

0
21
یہ قولِ رب تعالیٰ ہے خیالی ہو نہیں سکتا
جو گستاخِ محمد ہے حلالی ہو نہیں سکتا
شہنشاہِ دو عالم کی جو چوکھٹ کا بھکاری ہو
کسی بھی غیر کے در کا سوالی ہو نہیں سکتا
رسول اللہ کے گھر سے جسے تعلیم ملتی ہے
قسم اللہ کی غنڈہ موالی ہو نہیں سکتا

0
25
تن من نبی پہ جس نے بھی قربان کر دیا
جنت کا اس کو مولیٰ نے مہمان کر دیا
دستِ کرم اٹھا کے خدا کے رسول نے
پیارے عمر کو پل میں مسلمان کر دیا
سورج پلٹ کے آ گیا چندا بھی شق ہوا
مردے کو میرے آقا نے ذی جان کر دیا

0
28
خطۂِ ہند کے حالات بہت نازک ہیں
حاکمِ وقت کے خدشات بہت نازک ہیں
میرے کردار کی اصلاح چلے وہ کرنے
جنکی خود دیکھ لو عادات بہت نازک ہیں
چور ڈاکو کی جماعت ہے سنو ! کرسی پر
ملک کے واسطے خطرات بہت نازک ہیں

0
51
مشکلیں ہوتی ہیں آسان مدینے میں چلو!
خالی بھر جاتے ہیں دامان مدینے میں چلو!
درد و غم رنج و الم دور چلے جاتے ہیں
دل میں رہتا نہیں خلجان مدینے میں چلو!
بارشِ نور مدینے میں برستی رم جھم
پھول کا لگتا ہے گلدان مدینے میں چلو!

0
23
کبھی جذبات سے لڑتی کبھی لمحات سے لڑتی
وہ اک مفلس کی بیٹی ہے جو ہر حالات سے لڑتی
بہت سپنے سجوتی ہے اچانک دفن کر دیتی
وہ دن کو کاٹ لیتی ہے مگر پھر رات سے لڑتی
کبھی ماں باپ کی حالت پہ وہ افسردہ ہو جاتی
سجاکے اشک آنکھوں میں بھری برسات سے لڑتی

2
108
بختِ خفتہ کو جگاتے ہیں رسولِ عربی
روتی آنکھوں کو ہنساتے ہیں رسولِ عربی
میرے جرموں کو اجاگر نہیں ہونے دیتے
اس طرح لاج بچاتے ہیں رسولِ عربی
چاند شرما کے نگاہوں کو جھکا لیتا ہے
رخ سے گر پردہ اٹھاتے ہیں رسولِ عربی

0
59
عطا رب نے تِرے بازو میں کی ہے قوتِ مرداں
لرزتے تھے تِرے ہی نام سے قیصر شہِ ایراں
زباں پر نعرۂِ تکبیر دل میں خوف مولیٰ کا
قدم جنبش نہیں کھاتے اگر تھے بے سر و ساماں
عزائم دیکھ کے افلاک بھی تیرے قدم چومیں
تِری ہمت پہ نازاں تھے فرشتے حور اور غلماں

0
30
حفظ کی دستار کا منظر سہانا دیکھئے
رشک کرتا شادمانی میں گھرانا دیکھئے
با خدا قرآن کی برکت سے ہے عزت ملی
حافظِ قرآن کہتا ہے زمانہ دیکھئے
انکے قدموں کے تلے رکھتے ملائک پر سنو!
سر پہ انکے رحمتوں کا شامیانہ دیکھئے

0
24
اب خباثت بھرے فرمان سے ڈر لگتا ہے
ہر گھڑی ملک کے سلطان سے ڈر لگتا ہے
آگ نفرت کی جو بھارت میں لگا دیتا ہے
نا سمجھ ایسے ہی شیطان سے ڈر لگتا ہے
دھرم کے نام پہ تو کرتا ہے قتل و غارت
تیری بھگتی تِرے بھگوان سے ڈر لگتا ہے

0
31
دھوم دھرتی فلک پر مچی ہے
جب نبی کی ولادت ہوئی ہے
صبحِ صادق کی دلکش گھڑی ہے
جب نبی کی ولادت ہوئی ہے
ذرّے ذرّے سنو ! جگمگاتے
چاند سورج سے آنکھیں مِلاتے

0
30
نعتِ احمد گنگناؤں سبز گنبد دیکھ کر
حالِ دل اپنا سناؤں سبز گنبد دیکھ کر
یا خدا قسمت میں لکھ دے ایک دن کوئے نبی
میں مدینے جاؤں آؤں سبز گنبد دیکھ کر
رحمتِ نورِ مجسم کے نگر کی خاک کو
آنکھ کا سرمہ بناؤں سبز گنبد دیکھ کر

0
75
سونا سونا جگ ہو جائے یاد سجن کی آئی ہے
روپ پیا کا من کو بھائے یاد سجن کی آئی ہے
موری بتیا بوجھے متوا بیری جگت نا کان دھرے
مورے بدن ما روگ سمائے یاد سجن کی آئی ہے
آکے درگت دیکھلے سجنا پل پل تورے نام جپے
کہکے جیرا جان بھی جائے یاد سجن کی آئی ہے

0
91
دارِ فانی کو تجھے چھوڑ کے جانا ہوگا
موت سے بچنے کا کوئی نہ بہانہ ہوگا
خالی آیا ہے چلا جائے گا خالی خالی
کوئی دولت نہ تِرے ساتھ خزانہ ہوگا
ہر جنازے سے تجھے ملتا ہے درسِ عبرت
آج ہم جاتے ہیں کل تجھ کو بھی آنا ہوگا

0
36
تمہارا ہی سہارا ہے معین الدین اجمیری
یہی دل نے پکارا ہے معین الدین اجمیری
رسولِ پاک نے بھیجا ہے جس کو ہند کی نگری
علی کا وہ دلارا ہے معین الدین اجمیری
ملی ایمان کی دولت تمہاری ہی بدولت ہے
بڑا احساں تمہارا ہے معین الدین اجمیری

0
40
قسمت مِری جگا دو اجمیر والے خواجہ
بگڑی مِری بنا دو اجمیر والے خواجہ
کرب و بلا کا صدقہ غوث الوریٰ کا صدقہ
صدقہ مجھے کھِلا دو اجمیر والے خواجہ
قدموں میں گر کے جوگی جے پال بولتا ہے
کلمہ مجھے پڑھا دو اجمیر والے خواجہ

0
60
نفرت کی بات ہے نہ سیاست کی بات ہے
بزمِ نبی میں نعتِ رسالت کی بات ہے
سجدے میں سر جھکاتے ہیں اللہ کے حبیب
محشر میں عاصیوں کی شفاعت کی بات ہے
جاؤں گا ایک روز محمد کے شہر میں
انکے کرم کی بات عنایت کی بات ہے

0
36
جانشینِ مصطفیٰ صدیق ہیں صدیق ہیں
دلبرِ شاہِ ہدیٰ صدیق ہیں صدیق ہیں
خیبر و خندق حنین و بدر ہو چاہے احد
کفر کی خاطر قضا صدیق ہیں صدیق ہیں
عشقِ سرور میں نچھاور کر دیئے اہل و عیال
ذاتِ اقدس پر فدا صدیق ہیں صدیق ہیں

0
29
خواجۂِ ہند کا دربار وہ پیارا دیکھا
ہم نے اجمیر میں جنت کا نظارہ دیکھا
جس پہ پڑ جاتی ہے اک بار نگاہِ رحمت
اس کی قسمت کا بلندی پہ ستارہ دیکھا
مشکلوں میں ہے پڑی زیست کرم ہو جائے
غم کی اس دھوپ میں اک تیرا سہارا دیکھا

0
42
ملتی ہے دل کو راحت حاجی علی کے در پر
ہوتی ہے پوری حاجت حاجی علی کے در پر
ہر ایک کی زباں پر حاجی علی کا نعرہ
مچھلی بھی کرتی مدحت حاجی علی کے در پر
پانی پہ حکمرانی کرتے ہیں میرے داتا
چل دیکھ یہ کرامت حاجی علی کے در پر

48
یا علی مِرے لب پر زاویہ حسینی ہے
میں حسینی نوکر ہوں سلسلہ حسینی ہے
جان بھی چلی جائے سر کبھی نہ خم کرنا
ظلم کو مٹانے کا قاعدہ حسینی ہے
مصطفےٰ کی محفل ہے مصطفےٰ بھی آئیں گے
ہم حسین والے ہیں رابطہ حسینی ہے

0
93
حاکمِ زمانہ کی دھمکیاں ڈراتی ہیں
بے وجہ سیاست کی کرسیاں ڈراتی ہیں
تم امیر زادے ہو حالِ فقر کیا جانو
پھوس کے مکانوں میں آندھیاں ڈراتی ہیں
ظلم کی صداؤں سے روح کانپ جاتی ہے
ملک میں غریبوں کی سسکیاں ڈراتی ہیں

0
32
اس برس ہم کس قدر مجبور ہیں مستان جی
در سے تیرے آج ہم بھی دور ہیں مستان جی
دل میں چاہت ہے لگن ہے در پہ آنے کی تڑپ
حالتِ خستہ سے ہم معذور ہیں مستان جی
جھولیاں بھرتے ہیں خالی مجھ پہ ہو نظرِ کرم
لطف تیرے بالیقیں مشہور ہیں مستان جی

0
28
پیکرِ رشد و ہدایت حضرتِ آفاق ہیں
منبعِ جود و سخاوت حضرتِ آفاق ہیں
نور سے پر نور چہرہ لب تبسم ریز ہے
مالکِ حسن و صباحت حضرتِ آفاق ہیں
وہ تفکر وہ تدبر وہ تکلم کی ادا
شیخ احمد کی عنایت حضرتِ آفاق ہیں

0
35
خوبصورت خوشنما سہرا مِرے دلدار کا
آج خوشیوں سے کھِلا چہرہ مِرے دلدار کا
غوثِ اعظم کی عطا نظرِ کرم خواجہ کریں
حضرتِ مخدوم سمناں صاحبِ دیوا کریں
خیر خواہی کی دعا حور و ملک غلماں کریں
چاند کے جیسا لگے مکھڑا مِرے دلدار کا

0
26
چوروں کی یہ بستی ہے بازار بِکاؤ ہے
چلتی ہے خبر جھوٹی اخبار بِکاؤ ہے
یوں نظم کیا میں نے بربادی کا افسانہ
جعلی ہیں سبھی رشتے خود یار بِکاؤ ہے
چہرہ تھا حسیں اسکا جذبات سے کھیلا تھا
ہرگز نہ سمجھ پائے دلدار بِکاؤ ہے

0
41
فیض کا واللہ چشمہ ہر گھڑی نظروں میں ہے
حافظِ ملت کا روضہ ہر گھڑی نظروں میں ہے
ہر مخالف کا عمل سے آج دینا ہے جواب
خوبصورت ایک جملہ ہر گھڑی نظروں میں ہے
تازگی جس نے جہانِ علم کو کر دی عطا
وہ حسیں پر نور چہرہ ہر گھڑی نظروں میں ہے

0
23
جیت کے بھی مات کھایا یہ مِری روداد ہے
زخم کھا کے مسکرایا یہ مِری روداد ہے
زیست کے ہر بھید کو اس نے اجاگر کر دیا
رازِ دل جس کو بتایا یہ مِری روداد ہے
ہمسفر بھی راستے میں کہہ دیا تھا الوداع
بے وفا سے دل لگایا یہ مِری روداد ہے

78
زندگی نکھرتی ہے بندگی نکھرتی ہے
مدحتِ محمد سے شاعری نکھرتی ہے
چاند بھی کرے سجدہ روضۂِ محمد پر
چاند کی مدینے میں چاندنی نکھرتی ہے
درس ہم کو دیتی ہے یہ بلال کی ہستی
جب جفائیں ہوتی ہیں عاشقی نکھرتی ہے

27
اندھیری رات میں سائے بھی ہمکو چھوڑ جاتے ہیں
وہی بدنام کر جاتے جنہیں اپنا بناتے ہیں
ذرا اس سنگدل کے قتل کرنے کا ہنر دیکھو!
جہاں پر زخم ہوتا ہے وہیں خنجر چلاتے ہیں
کسی کا دیکھ کے چہرہ کوئی نہ فیصلہ کرنا
جنہیں رونا نہیں آتا وہی اکثر رلاتے ہیں

28
جس سمت نظر جائے ایسا ہی نظر آئے
یا رب تِرے محبوب کا جلوہ ہی نظر آئے
پوچھے گا اگر رضواں جاتے ہو کہاں جاتے
کہدونگا مجھے میرا مدینہ ہی نظر آئے
سرکار کی چاہت میں ہو بند مِری آنکھیں
خوابوں میں شہِ دیں کا چہرہ ہی نظر آئے

0
34
خدا نے رکھ لیا میرا بھرم آہستہ آہستہ
ہوا مجھ پر شہِ دیں کا کرم آہستہ آہستہ
اگر قسمت سے جا پہنچے کبھی ارضِ مقدس پر
دیارِ عشق میں رکھنا قدم آہستہ آہستہ
مِرے سرکار کی آمد کی برکت ہے جہاں والو!
رفو چکر ہوئے ظلم و ستم آہستہ آہستہ

41
کرم ہو جود و سخا ہو مجاہدِ ملت
نگاہِ لطف و عطا ہو مجاہدِ ملت
مثال تیری زمانے میں کیسے ممکن ہو
عطائے غوث و رضا ہو مجاہدِ ملت
درونِ قلب بسی با خدا تِری صورت
ہمارے لب کی صدا ہو مجاہدِ ملت

0
26
خوبرو لوگ زمانے میں ستاتے اکثر
حسن کا تیر جو نظروں سے چلاتے اکثر
انکی ہر بات پہ کرتا ہوں یقیں ہر لمحہ
جبکہ معلوم ہے وہ جھوٹ بتاتے اکثر
کر کے غمگین مجھے اپنے چلے جاتے ہیں
غیر ہی زخم پہ مرہم ہیں لگاتے اکثر

17
ہر طرف ڈنکا بجا صوفی نظام الدین کا
مرتبہ کیا واہ وا صوفی نظام الدین کا
درِ یکتائے زمانہ علم و فن کے تاجور
ہر کوئی شیدا ہوا صوفی نظام الدین کا
بارشِ انوار ہوتی ہے چلو! اگیا چلیں
فیض کا ہے در کھلا صوفی نظام الدین کا

0
103
ہمیں بخش دے ہم دعا مانگتے ہیں
بلاؤں سے مولیٰ رہا مانگتے ہیں
تِرا نام رحمٰن ہے رحم کر دے
تِری رحمتوں کو خدا مانگتے ہیں
جو تاریک دل کو بھی اجیار کر دے
مرے مولیٰ ہم وہ ضیا مانگتے ہیں

28
امیرِ وقت ہے سکّہ جمانے روز آتا ہے
ہماری بے بسی پر مسکرانے روز آتا ہے
مجھے افسردہ کر دیتا مِرے ماضی کا اک قصہ
تصور میں حسیں چہرہ رلانے روز آتا ہے
زمانے میں بہت مشہور ہے جو بے وفا کرکے
وہی رسمِ وفا ہم کو سِکھانے روز آتا ہے

40
ہماری خطاؤں کی بیشک سزا ہے
کرونا وبا ہے کرونا وبا ہے
کرو آج توبہ عذابِ خدا ہے
کرونا وبا ہے کرونا وبا ہے
گناہوں پہ نادم بہت تیرا بندہ
ذرا رحمتوں کا عطا کردے قطرہ

0
31
فلک پر جگمگاتا ہے ستارہ غوث اعظم کا
مقدر بھی بدل دیتا اشارہ غوث اعظم کا
بنا دے یا خدا مجھکو دِوانہ میر میراں کا
نگاہوں میں رہے ہر پل نظارہ غوث اعظم کا
عقیدت شاہِ جیلاں کی ہمارے کام آتی ہے
مصیبت سے بچاتا ہے سہارا غوثِ اعظم کا

0
45
بدلتی جس جگہ قسمت مقدر بھی سنبھلتے ہیں
چلو بغداد چلتے ہیں چلو بغداد چلتے ہیں
فرشتے حور و غلماں جنکی چوکھٹ پر ٹہلتے ہیں
چلو بغداد چلتے ہیں چلو بغداد چلتے ہیں
عقیدہ ہے ہمارا آپ جو چاہیں عطا کر دیں
نظر پڑ جائے ادنیٰ پر شہنشاہِ زماں کر دیں

37
جشنِ دستارِ فضیلت اللہ اللہ خوب ہے
بارشِ انوار و رحمت اللہ اللہ خوب ہے
پر بچھاتے ہیں ملائک جنکے قدموں کےتلے
باخدا قدموں کی برکت اللہ اللہ خوب ہے
انّما یخشیٰ خدا نے شان میں فرما دیا
انکی رفعت اونچی عظمت اللہ اللہ خوب ہے

0
66
بیمار مری زیست شفا مانگ رہی ہے
سرکار کی نگری کی ہوا مانگ رہی ہے
نظریں ہیں جھکی جانبِ سرکارِ مدینہ
بخشش کی نظر جود و سخا مانگ رہی ہے
کیوں رنج میں ڈالے اسے دنیا کی مصیبت
جس بیٹے کی ماں گھر میں دعا مانگ رہی ہے

0
39
زمانہ ہو گیا شیدا مجدد الف ثانی کا
کھنکتا ہر طرف سکّہ مجدد الف ثانی کا
مٹایا دینِ اکبر کو جِلا ایمان کو دے دی
بڑا احسان ہے واللہ مجدد الف ثانی کا
بھٹک سکتا نہیں جس پر نگاہِ ناز رکھتے ہیں
دلِ بسمل پہ ہے قبضہ مجدد الف ثانی کا

0
36
چاند تارے گگن مسکرانے لگے
میرے سرکار تشریف لانے لگے
دھرتی امبر فضا کہکشاں کل سما
جنکی آمد پہ سب جگمگانے لگے
مدحتِ مصطفیٰ کر رہا ہے خدا
نعت جبرئیل جنکی سنانے لگے

2
87
بے وفا یار سے دل اپنا لگاتے کیوں ہو؟
عشق دھوکہ ہے تو پھر دھوکے میں آتے کیوں ہو؟
قتل کرنا ہے چلو شوق سے خنجر مارو!
زخم دے دے کے صنم ہمکو رلاتے کیوں ہو؟
رخ سے گر پردہ اٹھانے کی نہ زحمت کرتے
گھر پہ دعوت میں مجھے روز بلاتے کیوں ہو؟

0
32
یاخدا رکھنا سلامت مسکنِ علم و ادب
دین کی کرتا اشاعت مسکنِ علم و ادب
تشنگانِ علم و فن سیراب ہوتے بالیقیں
ہے پلاتا جامِ وحدت مسکنِ علم و ادب
ترجمانِ اہلِ سنت کا ہے قلعہ بے گماں
ناشرِ دینِ رسالت مسکنِ علم و ادب

33
میرے پژمردہ ہیں حالات خدا خیر کرے
دل میں اغیار کے خدشات خدا خیر کرے
جن کی تقدیر میں جلوت کی ملی رعنائی
آج خلوت کے ہیں لمحات خدا خیر کرے
ناخدا ناؤ بھی طوفان میں اب چھوڑ چلا
پیش نظروں کے ہیں خطرات خدا خیر کرے

0
37
حاکم کی عداوت ہمیں منظور نہیں ہے
نفرت کی سیاست ہمیں منظور نہیں ہے
خود چور محافظ کے لبادے میں کھڑا ہے
اب جعلی شرافت ہمیں منظور نہیں ہے
مظلوم کو انصاف کے بدلے میں سزا دے
اندھی یہ عدالت ہمیں منظور نہیں ہے

0
31
حکومت کے اشارے پر حماقت خوب کرتے ہیں
ذرا سی ڈھیل ملتی ہے جہالت خوب کرتے ہیں
صحافت میں نجاست کے وہ بدبودار کیڑے ہیں
جو مسلم نام سنتے ہی شرارت خوب کرتے ہیں
حریفوں کی جماعت کے جو صاحب! صاحبِ مسند
وہی ہم سے دِکھاوے کی شرافت خوب کرتے ہیں

0
43
بدن میں گونجتی دھڑکن نبی نبی بولے
یہ جسم و جان یہ تن من نبی نبی بولے
رسولِ پاک کی چاہت میں جس کا دم نکلے
کفن بھی مہکے وہ مدفن نبی نبی بولے
سہانا صبحِ ولادت کا خوب منظر ہے
برستا جھوم کے ساون نبی نبی بولے

113
مرقوم ہے لہو سے حکایت حسین کی
اسلام کی بقا ہے شہادت حسین کی
ظلمِ یزید سر کو ابھارا ہے اس لئے
محسوس ہو رہی ہے ضرورت حسین کی
فرشِ زمیں سے عرش تلک دھوم یا حسین
شرق و غرب میں جاری حکومت حسین کی

0
47
محبت میں سلیقے سے یہی فرمان لکھ دینا
ہمارے نام کے بدلے فقط تم، جان ،لکھ دینا
سپردِ خاک جب کرنا مِری اتنی وصیت ہے
ذرا پیشانی پر انگلی سے ہندوستان لکھ دینا
تمہارے ملک میں تم سے اگر کوئی سند مانگے
دِکھا کے لال قلعہ اپنی تم پہچان لکھ دینا

0
66
کتنا عظیم آپ کا رتبہ ہے یا حسین
مردہ یزید ہو گیا زندہ ہے یا حسین
جس نے یزیدیوں کا کلیجہ ہلا دیا
معصوم تیرے گھر کا وہ بچہ ہے یا حسین
نامِ حسین جب سے وظیفہ بنا لیا
ہر غم سے بے خبر تِرا بندہ ہے یا حسین

71