Circle Image

mohammad ifrahim butt

@ifrahim

https://youtu.be/TI9y1F1hhZU

رحمتوں میں لپٹی تھی قرینے کی بارش
یاد بہت آئے گی مدینے کی بارش
زائر لوٹ رہے تھے دامن پھیلا کر
یثرب میں ہوتی ہے خزینے کی بارش
افری گر کے تجھے اُٹھنا آ ہی گیا آخر
رازِ حیات بتا گئی مدینے کی بارش

0
8
میرے بعد مری آوازیں سُنیں کریں گے لوگ
افری ساتھ دعا کے افسوس بھی کریں گے لوگ

0
10
روک
بیٹھا ایویں سوچی پے گیا ہاں
جیوں میں راہ توں لہہ گیا ہاں
چار چوفیرے چہاتی پائی میں
ہر شے ٹردی نظری اوے
چن تارے گہیڑے بھردے

0
10
بعد مدت کے صندوق کھولا ہے آج
اس کے خط دیکھے تو خوشبو آئی مجھے
رنگ بکھر گئے ہیں مرے چار سُو
چاپ ان قدموں کی دے سنائی مجھے
پگلی کا لہجہ بیباک تھا راہ میں
روکا جب اس نے تو شرم آئی مجھے

0
8
مٹی دی مٹھی بھر کے مٹی نیں مٹی اُتے پائی
مٹی روۓ مٹی ہسے مٹی رَل مٹی وچ سمائی
مٹی دا باوا مٹی دا کوٹھا مٹی دا سنسار
مٹی دے کھوگو گھوڑے مٹی نیں مٹی ہی کمائی

0
9
محمد جیا سخی تے نہ سلطان ہوندا
سہاڈے جئے فقیراں دا نقصان ہوندا

0
22
چلو گے تو نکلے گی سبیل دیکھ آیا ہوں
رہ زندگی میں کئی سنگِ میل دیکھ آیا ہوں
نگہ بلند ہے تُو بھی کَمنّد ساتھ رکھ افری
اُٹھا دی جاتی ہے رہ میں فصیل دیکھ آیا ہوں
تو میرا مشکل کُشّا کوئی نہیں سوا تیرے
ربِِ کریم جہاں کے وکیل دیکھ آیا ہوں

17
رشتوںں میں پہلی سی گرمی نہ رہی
سچی دلوں میں پہلی سی نرمی نہ رہی
دیوار اٹھا دی ہے میرے چاروں طرف
در ختم کیا پہلی سی کھڑکی نہ رہی
ناپید ہوۓ اب وہ حیا کے پیکر
شرمیلی تخیل کی لڑکی نہ رہی

1
23
خود کو تلاش کیا ماضی کی تحریروں میں
یادوں کی گٹھڑی میں پرانی تصویروں میں
پرکھوں نے دی قربانی غلامی کا طوق اتاریں
پاؤں تو آج بھی جکڑے ہیں کالی زنجیروں میں
میرے درد کا درماں کون کرے گا افری
کیا رکھا ہے سیاسی باسی تقریروں میں

3
36
صحرا بارش خاموشی اور تنہا میں
افری پھر جی بھر کے تنہا رویا میں
خوشبو آئی مٹی کی سوچا میں نے
تنہا یادِِ وطن میں جی بھر کے رویا میں
یادیں ابھرتی کونپلیں ہوں جیسے تازہ
اپنے دکھتے بدن کو دبا کر رویا میں

1
21
پَر لگ جائیں مجھے پرندے کی طرح
آذاد اڑوں دلکش نظارے دیکھوں
نفرت کی دنیا سے بہت دور پرے
کرتے الفت ہی لوگ سارے دیکھوں
ننھی چڑیا چونچ میں پانی والی
خواہش ہے بجھتے انگارے دیکھوں

22
ہسنے نہیں دیتیں مجھے رونے نہیں دیتیں
کیسی ہیں یہ سکھیاں کچھ ہونے نہیں دیتیں
جاگتی رہتی ہیں افری یہ آنکھیں میری
پاگل ہیں کوئی خواب پرونے نہیں دیتیں
تپتے ہوۓ صحرا میں یہ ابلے پیروں کے
تلوؤں میں منزلیں کانٹے چھبونے نہیں دیتیں

1
26
گر میں ہنسوں تو روتی ہیں آنکھیں
درد کی بھیدی ہوتی ہیں آنکھیں

10
اس کے پیار کے چشمے سوکھ گئے شاید
اب تو مرے گھر کے باہر بھی آ گئی ریت
دیکھنا نیند نہ آۓ گی اسے ساری رات
وہ جس کی بھیگی آنکھوں میں سما گئی ریت
دنیا کو تو حیرت میں ڈال گئی افری
سارے جہاں کو اندر اپنے سما گئی ریت

20
روح دُکھ کی دوا مانگتی ہے
آپ کے در کی ہوا مانگتی ہے

21
عملاں دے دفتر کُھلنے انہاں رکھی اکھ
چنگا ماڑا لکھدے قلم ہے ملکاں ہتھ
لا إله الا اللہ دا دَم بھردا جا
الله اكبر دی تُو گواہی دے یارا
سبحان اللہ سبحان الله پڑھدا جا
افری حمد اللہ سچے دی ہی تُو کر

2
33
حائل تھے بہت مسئلے آغاز سے پہلے
کٹے ہوۓ پرَ تھے مرے پرواز سے پہلے
مشکل تھا بہت پھیلے ہوۓ صحرا کا رستہ
پستی تھی بہت دیکھے ہوۓ افراز سے پہلے
لینا تو چھپا ہجر کے دل سوز لمحے
دینا تو دبا دکھ زرا ایجاز سے پہلے

2
60
روز نئی دیوار اٹھا دی جاتی ہے
بولنے والے کی گردن اُڑا دی جاتی ہے
اتنے سادہ بھی تو نہیں تھے لوگ یہاں
کیسی دوا ہے جو پلا دی جاتی ہے
درد کی کیسے ہو دوا لوگو زرا سوچو
بات سیاست میں الجھا دی جاتی ہے

2
29
میرے قلب و نظر
تیری ہی یاد کے رہ گزر
ہوا ہے میرے چار سو
تیری ہی خوشبو سے معطر
توُ نے تو سب کچھ دیا
اپنے فیض سے مگر

2
30
مولا من اترے سلویَُ بھی اترے
حاکم جابر ہیں موسی بھی اترے

13
تاریخ جد گل کردی اے
سلمان دی حامی بھردی اے
تانگ سچے در دی اے
وکنا پیندا اے سجنو
یار دے پیاراں وچ
نام دسدا عبد اللہ

1
21
غافلا اٹھ حمد رب سچے دی کر
کڈ پلیدی دل دی اللہ اللہ کر

16
ہیں چاند بونے اپنے سورج اُگانے ہیں
ہے فصل کاٹنی تارے گھر لے جانے ہیں

0
13
رہنا زمین پہ ہے یا آسماں میں رہنا ہے
بس ہمیں تو یونہی اک امتحاں میں رہنا ہے
مولا طالبِ کرم ہے تیرا خطا کار افری
بس جہاں بھی رہیں تیری اماں میں رہنا ہے

26
تیرگئ شب سے مجھے ڈریا نہ کرو
جگنو ہے اک دیکھو ہتھیلی پہ رکھا ہوا

1
21
زِیر کر دےیا پھر زَبر کر دے
وہ جسے چاہے معتبر کر دے

1
24
کالےاکھر پڑھ پڑھ اَکھاں پتھر ہویاں
درد کھلارہ ہر پاسے اکثر رویاں

1
19
اپنے بچوں سے گزارش   سنُو ہی نہیں دیکھو بھی میری طرف۔ دوسروں کے شاہکار کو سراہو ضرور مگر متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ آپ اپنا شاہکار تخلیق کرو اگر کسی نے کیا تو آپ بھی کر سکتے ہو۔ابوظہبی میں Louvre Museum  میوذیم میں سکندر کا مجسمہ دیکھا تو احساس یوا ذندہ اور مردہ پتھراۓ انسان میں کیا فرق ہوتا ہے۔ ہم بولتے ہیں تو وہ چُپ چاپ ہمیں سُنتا ہے بولتا نہیں۔ چلیں  چھوڑیں ویسے بھی وہ ہماری پھوپھی کا بیٹا بھی تو نہیں تھا۔ ہمیں اہنا جہاں خود آباد کرنا ہے۔ بقول اقبال رح : - نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی جناب عالی ہم تو مزدورں کی اولاد ہیں ہمیں تو ایسی کوئی سدَر بھی نہیں۔  ہمیں بڑی بڑی کشور کشائی کا انجام بھی پتہ چلا۔ اتنا جدید میوزیم لوگوں کی بھیڑ میں بالکل خاموشی کیوں؟ جی جی منہ بند ہیں پتھراۓ لوگ ! بس بس یہاں زیادہ زکر نہیں کرنا۔ میں نے فیس بک پہ ایک پیج دیکھا نکمے فارغ لوگ رنگدار چوزے فوٹو میں گننے لگے تھے مسلسل آٹھ دن سے۔۔۔ میں نے ایک موٹا سا رنگدار سا تبرہ تول کر لکھا پھر اسے مذید بولڈ بھی کر دیا اور پوسٹ کرنے کے بعد پیج ڈیلیٹ کر دیا تاکہ چوزے گننے والے مچھروں کی طرح حملہ

22
خود کو تلاش کیا ماضی کی تحریروں میں
یادوں کی گٹھڑی میں پرانی تصویروں میں

1
15
اجنبی راہوں پہ چلتے ہوۓ ہم
موت کی وادی کے ہیں مسافر
اپنا بوجھ خود اٹھانا ہے
رسمِ دنیا بھی نبھاناہے
افری اپنے لاغر جسم اُٹھاۓ
پھر لوٹ کے گھر بھی جانا ہے

2
23
گزرے گی اپنی کالی رات ستاروں کے ساتھ
جاگے گا روشن چاند کہاں بیماروں کے ساتھ
دنیا کا ڈر تھا اسے چلو کوئی بات نہیں
ترکِ تعلق کر جاتا وہ اشاروں کے ساتھ
نقطہ سمجھ آۓ تو الجھ ہی جاتا ہے
عشق مقید رکھتا ہے پرکاروں کے ساتھ

2
29
خدایا یہ سب مصنوعی ماحول ہے میرے چاروں طرف
یہ آیا رنگین طوطوں کا غول ہے میرے چاروں طرف
میرے حصے کی روٹی بھلا بچاۓ گا کون افری
بندروں کا ہی لگا تِرازو تول ہے میرے چاروں طرف
ہاتھ تھے خالی مرتے سکندر نے جو کبھی بولا افری
خالی بجتی یہ دنیا اک ڈھول ہے میرے چاروں طرف

2
45
جی رہے ہیں جس میں ہے یہ جہان شیشے کا
شیشے کی زمیں ہے وہ آسمان شیشے کا
حال ہی پا لے توُ محصور مچھلیوں کا
میز پر سجا ہے وہ مرتبان شیشے کا
نیلے پانییوں میں وہ آتی جاتی کشتیاں
شیشے کی ہیں ان کا ہر بادبان شیشے کا

1
45
ذکرِ مصطفے جب بھی زباں سے رواں ہوتا ہے
بیٹھے ہوں کہیں بھی اپنا دھیان وہاں ہوتا ہے
چلتے ہیں نظریں جھکاۓ مدینے کی گلیوں میں
جھولیاں بھرتیں ہیں بس خوشیوں کا سماں ہوتا ہے
مٹ ہی جاتے ہیں سارے رنج و الم اپنے
دل اپنا ذکرِ نبی پر نازاں ہوتا ہے

1
34
بھٹکا ہوا کوئی قدموں کے نشاں ڈھونڈھ رہا ہے
اس تپتے ہوۓ صحرا میں سائباں ڈھونڈھ رہا ہے
افری آتی ہے خالی ہاتھ ہی اس کی صدا بھی
دشت میں شاید کوئی مہرباں ڈھونڈھ رہا ہے

15
کل جب میں نے اسے فون کیا
سرد لہجے میں ڈوبی سی آواز آئی
ہیلو کون؟ ہیلو کون؟ پھر خاموشی
میں نے حیرانگی میں اس سے پوچھا
میرا نام نمبر محفوظ نہیں کیا؟
نہیں ہر گز ایسا نہیں اس نے کہا

89
تیر کش جب یزید آ پہنچا
ننھی جانوں پہ تیر چلنے لگے
بیبیوں کے رہی نہ سر پہ ردا
تھے محافظ جو خیمے جلنے لگے

0
23
وسدا یار خیالاں وچ
پیندے حال دھمالاں وچ
تختی دل دی پڑھیا کر
پردہ صاف جمالاں وچ
مُلاّ ایویں لا نہ رٹہ
ساری رمز سوالاں وچ

35
کتنے حادثوں سے گزر گئے
تھے جو دل جگر وہ کدھر گئے
لمحوں کی قدر ہم نے کی نہیں
افری تیرے دل سے نکل گئے
سب خیال سے بھی اتر گئے

25
بے طلب راستوں نے خطایا بہت
دنیا کے حادثوں نے ڈرایا بہت
پر نہ تھے اور میں صحرا میں آ گیا
جلتے صحرا بدن کو جلایا بہت
قلعہ رمال کا مت بنانا یہاں
سوچنا صحرا نے ہی سکھایا بہت

40
اک رمز دباۓ رکھتے ہیں
اک جوت جلاۓ رکھتے ہیں
سب دل ملاتے رہتے ہیں
ہم درد بھلاۓ رکھتے ہیں
دلِ رنجور اس کی خاطر
ہم غیر سے بناۓ رکھتے ہیں

37