زندگی دریا کی موجوں میں لکھی تحریر ہے |
ہر نفس اک داستانِ بے صدا تحریر ہے |
وقت کی گردش میں کھو جائے نہ معنی کا سراغ |
یہ سمجھ لینا کہ سب کچھ بے وفا تحریر ہے |
چاندنی راتوں میں وہ خوابوں کی صورت چمکیں جو |
صبح کی کرنوں میں وہ بھی بےبقا تحریر ہے |
جو بھی لکھ ڈالے مقدر، وہ مٹے کیسے بھلا |
دھوپ میں بکھری ہوئی جو روشنی تحریر ہے |
وقت کی تختی پہ حرفوں کی طرح بکھری رہی |
ایک پل روشن، مگر پھر بے بقا تحریر ہے |
خواب آنکھوں میں سجے تو نیند بن جاتی ہے رات |
جاگنے پر ٹوٹ جائے، کیا وفا تحریر ہے؟ |
جو بھی لکھا ہے مقدر نے، وہی رہ جائے گا |
چاہے بدلے کتنی دنیا، فیصلہ تحریر ہے |
معلومات