خدا جس کو عطا کر دے یقیں کی روشنی دل میں
جہاں پر لفظ رک جائیں، وہاں نغمات ہوتے ہیں
نظر میں روشنی ہو تو سحر بیدار ہوتی ہے
اندھیروں میں بھی سورج جیسے ہی لمحات ہوتے ہیں
جو دیکھے آئینے میں خود کو اپنی ہی حقیقت سے
اسی کے ہاتھ میں تقدیر کے لمحات ہوتے ہیں
جسے سمجھا ہو تُو نے بے خودی کا ایک لمحہ بس
وہی پل وقت کی لوحوں پہ بھی دن رات ہوتے ہیں
جو دل میں آگہی رکھے، جو راہوں میں چراغاں ہو
اسی کے نقشِ پا دنیا میں علامات ہوتے ہیں

0
6