مولا! طالب تیری رحمت کا مومن
گاتا ہے نغمۂ تیری عظمت کا مومن
ہے صدا میں فطرت کی تیرا ذکر پنہاں
آئینہ دار ہے تیری قدرت کا مومن
ہے ہر نقش میں تیری تجلی کا منظر
پڑھتا ہے ہر نفس میں حکمت کا مومن
قطرہ ہے اور دریا کی وسعت میں گم ہے
پھر بھی ہے نازاں تیری قربت کا مومن

0
6