بے خودی اچھی، خودی اچھی نہیں
گر بڑھے حد سے، رہی اچھی نہیں
جو گھڑی سچ سے ہٹا دے آدمی
ایسی کوئی بھی گھڑی اچھی نہیں
آئنہ گر عکس میں دھوکا بھرے
ایسی کوئی بھی ہنسی اچھی نہیں
ہے اگر سود و زیاں کا نام عشق
ایسی رسمِ دلبری اچھی نہیں
جو نہ رکھے قلب روشن فکر سے
ایسی تاریک آگہی اچھی نہیں
جو گھڑی بے سمت بہکا دے قدم
زندگی میں وہ گھڑی اچھی نہیں
خود فریبی دے اگر پرواز کو
ایسی کوئی بھی ہنسی اچھی نہیں
کھو نہ دے جو راہ میں سچ کی صدا
ایسی کوئی راہ بھی اچھی نہیں
ہے سکوں دل کو اگر سجدے میں ملے
ورنہ دنیا کی خوشی اچھی نہیں
بیٹھ رہنا دم بخود کونے میں ہی
تیری عادت افری جی اچھی نہیں

0
6