Circle Image

shafqat

@Abbass

رائے شفقت عباس چن

شہِ والا کی ولایت کے طرفدار بنو
چھوڑ کر نامِ علی شہ کے نا غدار بنو
تُم چنیدہ ہو محمد کے گھرانے کے لئے
رشکِ سرکار بنو صاحبِ کردار بنو
دو گواہی مرے مولا کی عبادات میں تم
یوں بھی تم خالقِ اکبر کے مددگار بنو

8
اپنی جنت بنا کے بیٹھا ہوں
عَلم گھر پر لگا کے بیٹھا ہوں
آو ملنا ہے انبیا سے تو
میں وہ سارے بلا کے بیٹھا ہوں
ایک مشکِ سکینہ رکھی ہے
کُل سمندر جھکا کے بیٹھا ہوں

0
6
زخمی کوفے میں جو کرار کا سر دیکھا ہے
میں نے لٹتے ہوئے سرکار کا گھر دیکھا ہے
چلتا دیکھا نہیں چہرہِ علی پر یہ خوں
میں نے نیزے پہ یہ چادر کا سفر دیکھا ہے
زخمی دیکھا ہے جی مسجد میں جلی کا چہرہ
کٹتا ہائے ابو طالب کا پسر دیکھا ہے

0
25
عصرِ عاشور کا اظہار ابھی باقی ہے
ایک بے شیر کی یلغار ابھی باقی ہے
ندا جبریل کی آئی ہے یہ لوگو پیہم
بیعتِ اللہ کا اقرار ابھی باقی ہے
چودہ صدیوں سے حبیب ابنِ مظاہر ابتک
دوستی کی تری مہکار ابھی باقی ہے

0
38
موت و قضا پہ قبضہ حسن عسکری کا ہے
ناظم جہاں کا بیٹا حسن عسکری کا ہے
مخلوق جو جہاں میں ہے اس کی پابند ہے
واں عرش پر بھی رقبہ حسن عسکری کا ہے
قائم کے ہاتھ میں ہے یہ دارین کا نظام
یعنی کہ پھر خدا بھی حسن عسکری کا ہے

0
70
زرا سا دل کوسنبھالو میں نعت کہتا ہوں
وِلا کے جام اُٹھا لو میں نعت کہتا ہوں
دکھائی دیں گے تم کو یہاں علی اکبر
حرم پہ نظریں جما لو میں نعت کہتا ہوں
کہاں زمین سنبھالے ولی کی مدحت کو
یہ عرش نیچے بچھا لو میں نعت کہتا ہوں

0
77
آیا ہے لٹ کے دیکھو رسالت کا کاروان
زخمی ہیں آیتیں سبھی زخمی ہے کُل ازان
نا کر قبول ہم کو مدینہ اے جاں پناہ
پردیس میں لُٹا کے جو آئے ہیں ہم جہان
پہچان اے مدینہ کہ ہم ہیں نبی کے آل
کرب و بلا میں اُٹھ گئے سر کے وہ سائبان

0
54
آیا ہے لٹ کے دیکھو رسالت کا کاروان
زخمی ہیں آیتیں سبھی زخمی ہے کُل ازان
نا کر قبول ہم کو مدینہ اے جاں پناہ
پردیس میں لُٹا کے جو آئے ہیں ہم جہان
پہچان اے مدینہ کہ ہم ہیں نبی کے آل
کرب و بلا میں اُٹھ گئے سر کے وہ سائیبان

0
77
آئی جب سرحدِ جاگیر علی اکبر پر
آئی ہر اک زرے سے یہ صدا شکریہ بی بی
رائے شفقت عباس چن

0
60
زندانِ شام میں ہے سکینہ گزر گئی
بابا کو یاد کرتی ہے مخدومہ مر گئی
کچھ دیر پہلے اس نے ماں کہہ کے پکارا تھا
اب ڈھونڈتی ہے ماں وہ سکینہ کدھر گئی
اصغر کو وہ خیال میں دیتی تھی لوریاں
اصغر کی طرح جھولی وہ سنسان کر گئی

0
170
گردن تو کٹ گئی تھی وہ شبیر کی مگر
دیں یہ خدا تمہارا خسارے سے بچ گیا
رائے شفقت عباس چن

0
80
جس کے دل میں ہو کربلا جاری
مجھ سے بس وہ ہی دوستی کر لے
رائے شفقت عباس چن

0
84
ستم کی تیغ پہ تازہ اڑان جاری ہے
وہ دیکھ نوکِ سناں پر قران جاری ہے
تُو نے یہ سمجھا رکی ہے ازان اکبر کی
ہر ایک ماتمی دل میں ازان جاری ہے
ابھی بھی قتل ہے جاری علی ولی کا سنو
ستم کی تیغ وہ تیر و کمان جاری ہے

134
یہ وقت کی گردش ہے شفقت ایسے بھی ہونا لازم ہے
جو نام پہ میرے مرتے تھے اب نام سے میرے مرتے ہیں
رائے شفقت عباس چن

0
1
97
ہم نے کھلائے جن کو منہ کے نوالے شفقت
وہ لوگ دیکھیے اب سب کاٹنے لگے ہیں
رائے شفقت عباس چن

0
59
رسیمیں تم کو سکینہ میں کیسے دفن کروں
مجھے ہے درد یہ سہنا میں کیسے دفن کروں
کہا رباب سے رو کر بیمارِ کربل نے
یہ شامیوں میں خزانہ میں کیسے دفن کروں
لحد بے شیر کی جہنوں نے ہائے چاک ہے کی
پھر ان کے شہر میں بہنا میں کیسے دفن کروں

0
69
ایمان کا ہے نور خدا اور حسین سے
ہے دین کا شعور خدا اور حسین سے
وہ جو بدن بکھر گئے کربل کی ریت پر
اُن کو ملا کا فور خدا اور حسین سے
کہتے تھے کربلا میں یہ حُر جون اور حبیب
ہے موت کا سرُور خدا اور حسین سے

0
69
توحید کی بکھری ہوئی آیات کا ماتم
کربل میں جو اجڑی تھی ہے اُس ذات کا ماتم
ہم کرتے ہیں زنجیر کی چھریوں سے مسلسل
جس میں جلے خیمے تھے اُسی رات کا ماتم

0
92
کبھی شبیر کے ماتم کو تم برا نا کہو
ہاں اس ہی کارِ خدا میں خدا بھی ہوتا ہے
کلام رائے شفقت عباس چن

0
97
کربلا رشتوں کا احساس ہی دلاتی ہے
جس میں احساس نہیں یہ وہ عزادار نہیں
رائے شفقت عباس چن

59
زہرا کے بعد یہ علی اصغر ہی ہیں فقط
فرشِ زمیں پہ جس کے نہیں قدموں کے نشاں
کلام رائے شفقت عباس چن

0
82
ہجرت کی رات سب تھے جو ناکام ہوگئے
خوش ہیں وہ آج سب علی اکبر کو مار کے
رائے شفقت عباس چن

132
اتنا حِسین تھا وہ بیٹا شبیر کا
نیزہ بھی رو پڑا تھا اکبر کو مار کر
رائے شفقت عباس چن

96
اک بار مجھے پھر سے بُلا لیں کربل
اک بار مجھے پھر سے جیون دلا دیں
رائے شفقت عباس چن

62
بنو ہاشم کے جواں اس کو سمجھتے ہوئے کعبہ
بی بی زینب کی ردا چوم کے ہی جاتے ہیں مقتل
رائے شفقت عباس چن

0
67
تیری توقیر بڑھانے کے لیے شام چلی
کلمہ توحید بچانے کے لیے شام چلی
تجھ پہ حزیاں کا جو الزام لگا ہے نانا
میں وہ الزام مٹانے کے لیے شام چلی
میں دکھاؤں گی وہاں نور کے جلووں کی دمک
شام میں صبحو جگانے کے لیے شام چلی

140
فرس کی زین سے دیکھو اتر گیا غازی
لبِ فرات وہ ہائے بکھر گیا غازی
دعائے فاطمہ زہرا سے تھا نزول ہوا
پیاس اُس کی بجھاتے گزر گیا غازی
صدا تو آئی کہ مولا گرز لگا ہے مجھے
وہ تیر آنکھ میں کھا کے ہے مر گیا غازی

177
قبرِ اصغر بنا رہے ہیں حسین
سارے مرسل بچا رہے ہیں حسین
یہ بھی ہمت تو ہے حسین کی بس
جواں کا میت اُٹھا رہے ہیں حسین
چھے مہینوں کے اپنے بیٹے کو
رن میں کیسے لے جا رہے ہیں حسین

0
187
یوں قتل کر رہے ہیں رسالت مآب کو
مرقد سے کھینچتے ہیں وہ ابنِ رباب کو
کس نے کہا تھا بولو محمد کو ضعف ہے
دم ہے اگر تو لاو تم اس کے جواب کو
لاشے پہ لاشہ آتا ہے خیمے میں دیکھیے
شامی یوں خمس دیتے ہیں ام الکتاب کو

0
100
ہے آج کا عنوان وہ شبیر کا خیمہ
توحید کا تدبیر کا تطہیر کا خیمہ
یہ خیمہ ہے وحدت کی بھی توقیر کا خیمہ
یہ خیمہ تو ہے کاتبِ تقدیر کا خیمہ
اب کون بھلا اس کی تمہیں شان بتائے
اللہ اسی خیمے میں موجود نظر آئے

0
64
سکینہ کرتی ہے یوں انتظار غازی کا
ادھر لحد میں ہے دل بے قرار غازی کا
لحد پہ ہوتے ہیں بی بی کی بین غازی کے
کہ جیسے یہ بھی ہو لوگو مزار غازی کا
مشک کو ایسے ہے یہ چومتا مِرا غازی
کہ جیسے مشک ہے پروردگار غازی کا

6
353