آ جا کے اب جہاں کی یہ حالت بگڑ گئی
تیری طویل دوری سے قسمت بگڑ گئی
ہر شخص اب تو مولا جی یزدان بن گیا
سرکارِ مصطفی کی شریعت بگڑ گئی
اپنے بھی بک گئے ہیں جی پیسے کے زور پر
پیسے میں تُل کے سب کی عقیدت بگڑ گئی
ہر کوئی چاہتا ہے کہ پوجا اسی کی ہو
سادات کی بھی اب تو جی نیت بگڑ گئی
ہر اک عمل کا اب تو جی تاجر یہاں پہ ہے
بی بی جو دے گئی وہ عبادت بگڑ گئی
روزہ نماز کلمہ تشہد بدل دیا
اسلام کی جہاں میں حقیقت بگڑ گئی
مجھ سے جو مولا پوچھ لیں حالت قران کی
بولوں گا سر جھکا کے یہ صورت بگڑ گئی
شفقت کے نا خدا مرے مولا ظہور کر
غیروں کے ہاتھ آ کے ولایت بگڑ گئی

0
2