Circle Image

جاوید ڈینی ایل Javaid Daniel

@Tadeeb

مُجھے تُم سے گَر عِشق کافر نہ ہوتا :: غزل تُم نہ ہوتی مَیں شاعر نہ ہوتا

اپنے باطن میں گر جھانک کر دیکھیے
کتنا بے بس ہے خاکی بشر دیکھیے
جب تکبر کو سَر سے اُتاریں گے ہم
اچھا لگنے لگے گا نگر دیکھیے
پھُول کھِلنے لگے ہر طرف اَمن کے
یہ ہے میری دُعا کا اثر دیکھیے

2
کیا کوئی ایسے بھی اِنسان ہوا کرتے ہیں؟
راہِ اُلفت میں جو قربان ہوا کرتے ہیں
بیچ دیتے ہیں جو لالچ میں مسیحا اپنے
بے وفائی کی وہ پہچان ہوا کرتے ہیں
تو سمجھتا ہے محبت ہے سفر گلشن کا
راستے عشق کے سنسان ہوا کرتے ہیں

14
کبھی تو اُسے بھی یہ ارمان ہوتا
وہ لمس و تخیل کا وجدان ہوتا
وہ ملتا تو شاید بدلتی کہانی
ہماری محبت ہی عنوان ہوتا
محبت تو رنگیں سفر ڈھونڈتی تھی
مگر عشق کب اتنا آسان ہوتا

14
کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
نئی فکر میں بھی روانی رہے
کتابوں سے رشتہ بھی باقی رہے
قلم کی صدا جاودانی رہے
نیا عہد ہے، علم کی راہ پر
مگر فکر میں بھی جوانی رہے

14
عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے
ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے
یہ دھرتی مان ہے اپنا یہی پہچان ہے اپنی
اِسے آباد رکھنا ہے اِسے تطہیر کرنا ہے
تمہارا نام لکھنا ہے در و دیوار پر اپنے
ہمیں افسانہ اُلفت کا کوئی تحریر کرنا ہے

10
چاند تارے بنا رہا ہوں مَیں
یوں سیاہی مٹا رہا ہوں مَیں
اپنے بچوں کے واسطے روشن
گھر کا رستہ سجا رہا ہوں مَیں
پیاس علم و ہنر کی مٹ جائے
نئے مکتب بنا رہا ہوں مَیں

7
سَر پہ رکھا تھا جو اِک ہاتھ دُعا بن کے رہا
ماں کا ہر لفظ مِرے دِل میں ضیا بن کے رہا
جب بھی مایوس ہوا ٹوٹ کے بِکھرا مَیں کبھی
ذکرِ مادر مِرے سینے کی شفا بن کے رہا
آج بھی جب کبھی ماتھے پہ ہوا چھُو جائے
یوں لگے ہاتھ مری ماں کا دُعا بن کے رہا

20
نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا
خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا
ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا

59
مِرے دِل میں جو ایک زُہْرَہ جَبِیں ہے
کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے
نگاہیں اُٹھائے یا پلکیں جھکائے !
ہر اک ناز اُس کا خدا آفریں ہے
کبھی نرم لہجے میں باتیں کرے جب
لگے جیسے نغموں بھری اِک زمیں ہے

24
کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے
کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے
مَیں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں
تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے
کہانی اَن کہی تھی جو ہماری
وہی تحریر ہوتی جا رہی ہے

92
دریچے کھول کر رکھ لیں اگر ہم خواب گاہوں کے
کریں دیدار شب بھر ہم بڑی ترسی نگاہوں کے
تری ہم مانگ بھر دیں گے، ترے گیسو سنواریں گے
تجھے جاویدؔ ! ڈالیں گے، گلے میں ہار بانہوں کے

48
یقیں میں یا گُماں میں ہے
مگر تُو اِس جَہاں میں ہے
قصیدہ یا غزل میری
تُو ہی حرف و بیاں میں ہے
یہاں کوئی نہیں اپنا
ہر اک سود و زیاں میں ہے

104
درد سہتے جاتے ہیں
شعر کہتے جاتے ہیں
ہم کہ بحرِ عشق میں
کیسے بہتے جاتے ہیں
جس میں عکس ہو ترا
غزلیں کہتے جاتے ہیں

77
سامنے جب صلیب ہوتی ہے
دِل کو راحت نصیب ہوتی ہے
وہ ہی مجھ کو سنبھال لیتا ہے
موت جب بھی قریب ہوتی ہے
جس کو اُلفت کسی سے ہو جائے
اُس کی دنیا رقیب ہوتی ہے

67
مَیں نے دیپ جلائے ہیں
کتنے بادل چھائے ہیں
اُس نے لوٹ کے آنا تھا
ڈھل گئے شام کے سائے ہیں
میرے کمرے میں اُس نے
آ کر پھول لگائے ہیں

93
سورج ، چاند ، ستاروں میں
تیرا روپ نظاروں میں
ہر سُو تیری خوش بُو ہے
صحرا میں ، گلزاروں میں
تجھ سا کوئی مل نہ پائے
لاکھوں اور ہزاروں میں

72
چاند سا چہرہ آنکھوں میں
پھول ہو جیسے شاخوں میں
رُوٹھ نہ جائے یار کہیں
مجھ سے باتوں باتوں میں
خوش بُو اُس کے ہونٹوں کی
مہکی میری سانسوں میں

107
نفرت کی آگ بجھائیں گے
چاہت کا شہر بسائیں گے
اِس جنگ و جدل کی دُنیا میں
ہم اَمن کے گیت ہی گائیں گے
جیون کی اندھیری راہوں میں
ہم خون کے دیپ جلائیں گے

68
خوابوں میں جب آئے وہ
غزلیں میری گائے وہ
دیکھ کے مجھ کو کھڑکی سے
اپنا ہاتھ ہلائے وہ
کاش کہ بھیگے موسم میں
نغمہ کوئی سنائے وہ

52
محبت جب ہو جاتی ہے
بہت روتی رُلاتی ہے
یہ ماضی کے جھروکوں سے
کئی چہرے دِکھاتی ہے
کہیں بُنتی ہے یہ سپنے
کہیں غنچے سجاتی ہے

0
57
مجھ سے اب وہ خفا نہیں ہوتا
کیوں کہ اب رابطہ نہیں ہوتا
دِل مچلتا ہے بات کرنے کو
جانے کیوں حوصلہ نہیں ہوتا
آج بھی اعتبار ہے اُس پر
وہ کبھی بے وفا نہیں ہوتا

4
274
کِس نے خیال و خواب کو پہنا دیا کفن
زخموں سے چور چور ہے لفظوں کا پیرہن
اشکوں سے تر ہے صفحہِ قرطاس اِس طرح
جیسے صلیب و دار پہ لٹکا ہوا بدن
پل میں چراغ دیکھئے کتنے ہی گُل ہوئے
نفرت کی تیز آگ نے جھُلسا دیا چمن

87
ہے جاگی مِرے دِل میں یہ آرزو
کہ دیکھوں اُسے آج مَیں رُوبرو
(۱)
تجلی ہے موسیٰ کو جس کی عطا
وہ ابنِ خدا پھر دکھائی دیا
اُسی سے کروں آج مَیں گفتگو

0
47
قلم لکھ کے حمد و ثنا جھُومتا ہے
نگاہوں میں منظر نیا جھُومتا ہے
مَیں نغمات جاویدؔ جب اُس کے گاؤں
مِرے ساتھ میرا خُدا جھُومتا ہے

72
مِری پانیوں پر جو پرواز ہے
یہ میرے مسیحا کا اعجاز ہے
وہ قرباں ہوا ہر بشر کے لیے
یہی اُس کی اُلفت کا انداز ہے
مَیں لفظوں میں تعریف کیسے کروں؟
وہ بے مثل ہے، اور ممتاز ہے

0
59
یہ دِل جو میرا مچل رہا ہے
سِحر اُسی کا ہی چل رہا ہے
یہ مثلِ آتش جو جل رہا ہے
یہ عشق مجھ میں ہی پل رہا ہے
غزال آنکھیں گلاب چہرہ
ہمارے شعروں میں ڈھل رہا ہے

139
عجب تماشا سا چل رہا ہے
غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
پنپ رہی ہے منافقت بھی
عروج پستی میں ڈھل رہا ہے
اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے!
حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے

154
ہر اک خیال کی تجوید کر کے دیکھیں گے
وصالِ یار کی اُمید کر کے دیکھیں گے
چراغ ہم نے جلایا جو اُس کی یادوں کا
اُسی چراغ کو خورشید کر کے دیکھیں گے
رموزِ عاشقی سے گرچہ وہ نہیں واقف
چلو اُسے بھی یہ تاکید کر کے دیکھیں گے

0
110
آنکھوں کے خواب قلب کے ارمان جل گئے
نفرت کی تیز آگ میں انسان جل گئے
گرجاؤں میں پڑی ہوئی اِنجیل جل گئی
الطار ، شیرہ ، روٹیاں ، لوبان جل گئے
قائد نے جو کیے تھے وہ اعلان جل گئے
اوراق پاک کیا جلے ، درمان جل گئے

102
خشک پتوں کے جیسے بکھر جائیں گے
تم نہ ہم کو ملے تو کدھر جائیں گے
ساتھ تیرا اگر مل نہ پایا ہمیں
ہم تو جاویدؔ ! جیتے ہی مر جائیں گے

0
146
عشق کی تم سزا نہ دے جانا
زخم کوئی نیا نہ دے جانا

0
105
مثلِ گُل مَیں بِکھرنے والا ہوں
مَیں تہِ خاک اُترنے والا ہوں
لوگ کہتے ہیں، مرنے والا ہوں
میں ابھی اور اُبھرنے والا ہوں
تیری آنکھوں کے خالی ساغر میں
مَے محبت کی بھرنے والا ہوں

95
دردِ ایسے چھپائے بیٹھا ہوں
جیسے سب کچھ کمائے بیٹھا ہوں
مَیں رقیبوں کے درمیاں رہ کر
شمع اُس کو بنائے بیٹھا ہوں
سر جھکایا نہیں ہے چوکھٹ پر
آس مَیں بھی لگائے بیٹھا ہوں

100
بے بسی ختم ہو نہیں سکتی
زندگی ختم ہو نہیں سکتی
یاد ایسا چراغ ہے جس کی
روشنی ختم ہو نہیں سکتی
رات دن ساتھ رہتے ہیں پھر بھی
تشنگی ختم ہو نہیں سکتی

139
مرے شعر میں جو خیال ہے
یہ اُسی کا عکسِ جمال ہے
وہ حَسِین ہے یہ بجا مگر
مرا عشق بھی تو کمال ہے
وہ عجیب ہے وہ مشیر ہے
یہ اُسی کا جاہ و جلال ہے

0
192
کسی کو گفتگو کرنے سے پہلے رام کر لینا
ہنر اس کو ہی آتا ہے یہ مشکل کام کر لینا
کسی بے کیف لمحے میں تھکا ہارا بدن تھامے
کبھی جاویدؔ مل جائے تو لطفِ جام کر لینا

149
کوئی قوت طلسماتی کمر جھکنے نہیں دیتی
شگفتہ گفتگو تیری مجھے اُٹھنے نہیں دیتی
سفر جاری ہے جیون کا رہے گا تا ابد جاری
تمہارے وصل کی خواہش مجھے رُکنے نہیں دیتی
بہت سے کام کرنے کے ابھی باقی ہیں دُنیا میں
مگر یہ ہجر کی ساعت مجھے کرنے نہیں دیتی

2
170
ایسے دِل توڑ کر تو نہ جاتے
اور مُنہ موڑ کر تو نہ جاتے
کاش ہمراہ یادیں لے جاتے!
یوں مجھے چھوڑ کر تو نہ جاتے

98
خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
یوں چُکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
تیرے پربت ،یہ دریا ،یہ گلزار سب
جان سے بھی ہیں پیارے اے ارضِ وطن
سرحدوں پر جوانوں کا عزمِ وفا
جان دے کر نبھاتا ہے فرضِ وطن

170
ہواؤں کو پل میں تھما دینے والا
وہ اپنی کرن سے شفا دینے والا
اگر ڈگمگائیں قدم مومنوں کے
وہی نام ہے حوصلہ دینے والا
بڑھے ہاتھ اُس کا جو پطرس کی جانب
اُسے پانیوں پر ٹِکا دینے والا

173
نیند میں اِک خواب دیکھا گزری شب
خواب میں مہتاب دیکھا گزری شب
ہونٹ رکھے اُس نے پیشانی پہ جب
خود کو آب و تاب دیکھا گزری شب
کھُل گئے مجھ پر رموزِ عاشقی
ایک ایسا باب دیکھا گزری شب

124
اب کے گزری گراں ہے مری گفتگو
جس کو رہتی تھی پل پل مری جستجو
جس کی خاطر بھٹکتا رہا کُو بہ کُو
آج کرتا نہیں مجھ سے وہ گفتگو
اُس کی یادوں میں حالت عجب ہو گئی
جس نے لُوٹا مجھے تھا بہت خُوب رُو

149
ٹمٹماتی رہی چاندنی رات بھر
جگمگاتی رہی چاندنی رات بھر
چاند چلتا بنا جب اُسے چھوڑ کر
پھڑپھڑاتی رہی چاندنی رات بھر
سرد راتوں میں تنہا کسی کے لئے
کپکپاتی رہی چاندنی رات بھر

239
مُجھ سے جو تقصیر ہوئی تھی
وہ میری زنجیر ہوئی تھی
کچھ یادیں اور کچھ کاغذ تھے
جو اپنی جاگیر ہوئی تھی
راکھ ہوئی وہ بستی جس دن
رُوح مری دِل گیر ہوئی تھی

125
رات بھر چاندنی کیوں بھٹکتی رہی
نیند آنکھوں میں آ کر سِسکتی رہی
دے رہا ہے مُجھے کون تحفے سدا
سوچ، سوچوں میں میری کھٹکتی رہی
آندھیوں میں مِرا گھر نشانہ بنا
میرے گھر پر ہی بجلی کڑکتی رہی

245
کرم اُس کا جو ہر گھڑی چاہیے
رِدائے دُعا بھی بری چاہیے
جو سوچوں کو جیون نیا بخش دے
خیالوں کی اِک پھُل جھڑی چاہیے
بگڑتی ہوئی نسلِ نو کے لیے
حلیمی میں لِپٹی چھڑی چاہیے

168
تُجھ سے ملنے کی ٹھان رکھی ہے
یوں ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
خوف کھاتی ہوئی ہوائیں ہیں
اور مَیں نے اُڑان رکھی ہے
ہم ترے ہجر کے ستائے ہیں
تُونے رَہ میں چٹان رکھی ہے

202
یہ مجھ پہ کیسا عذاب ٹوٹا
کہ تجھ سے ملنے کا خواب ٹوٹا
مَیں ایک تارہ ہوں گردشوں میں
فلک سے جیسے شہاب ٹوٹا
ہاں اُس کی خوشبُو بھی بکھری ایسے
کہ جیسے جامِ شراب ٹوٹا

193
وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے
یہ دِل اُس کے لیے بے تاب ہوتا جا رہا ہے
یہ کیسا دشتِ حیرت ہے جہاں ہم آ گئے ہیں
کہ پیاسا دُھوپ میں سیراب ہوتا جا رہا ہے
بہت سے لوگ جائیں گے اُسے اب ڈھونڈ نے کو
وفا کا نام بھی نایاب ہوتا جا رہا ہے

0
218
کون وہم و گماں میں رہتا ہے
ذکر کس کا بیاں میں رہتا ہے
تُم جِسے اب تلاش کرتے ہو
اب وہی کہکشاں میں رہتا ہے
پاؤں ٹِکتے نہیں زمیں پہ مگر
آدمی آسماں میں رہتا ہے

164
حادثے عجیب تھے
جو مرا نصیب تھے
آ کیوں وہ دُور ہیں
کل مرے قریب تھے
آ گئے گزر کے ہم
راستے مہیب تھے

205
پیار کا اِک جہاں ہو نئے سال میں
ہر بشر شادماں ہو نئے سال میں
برکتیں، نعمتیں بھی برستی رہیں
ہر خوشی بیکراں ہو نئے سال میں
اِس وبائے کرونا کا ہو خاتمہ
زندگی پھر رواں ہو نئے سال میں

173
مُجھے تُم سے گَر عِشق کافر نہ ہوتا
غزل تُم نہ ہوتی، مَیں شاعر نہ ہوتا
مری ذات کی تلخیاں گَر نہ ہوتیں!
وہ گُفتار شیریں کا ماہر نہ ہوتا
بٹھکتا رہا ہجر کی وادیوں میں
وگرنہ کبھی بھی مَیں صابر نہ ہوتا

227
میری غزلوں کے اشعار میں تم ہو
میرے گیتوں کی جھنکار میں تم ہو
صرف تمہی ہو جاوید ! یہ سن لو
میرے وعدوں کے اقرار میں تم ہو

162
ہمیشہ جستجو تیری
مُجھے ہے آرزُو تیری
بھلی لگتی ہے کانوں کو
شگفتہ گفتگو تیری
جِسے خوابوں میں دیکھا تھا
وہ صورت ہو بہو تیری

151
اپنا تن من جلا رہا ہوں مَیں
عشق میں مُبتلا رہا ہوں مَیں
دیکھ بارش کے رُوٹھ جانے پر
کیسے پودے لگا رہا ہوں مَیں
تُونے دیکھا نہیں مری جانب
تیرے دَر پر پڑا رہا ہوں مَیں

267
یہی اُمید ہو جائے
تمہاری دید ہو جائے
کبھی جاویدؔ آئے تو
ہماری عید ہو جائے

140
کبھی لوٹ آئیں بہاروں کے موسم
وہ چاہت کے رنگیں نظاروں کے موسم
بہت یاد آتی ہیں بارش کی راتیں
وہ کاغذ کی ناؤ غباروں کے موسم
وہ بچپن کے دن لوٹ کر کب ہیں آئے
کہاں کھو گئے چاند تاروں کے موسم

0
272
رات کے اندھیروں میں ناچتی ہے چاندنی
پُو جو پھُوٹنے لگے بھاگتی ہے چاندنی
دیکھتا ہے جس طرح چھُپ کے کوئی دِلرُبا
نیم وا دریچوں سے جھانکتی ہے چاندنی
دھڑکنوں کی تھاپ پر چاندنی ہے رقص میں
رات کے سکوت میں ہانپتی ہے چاندنی

163
عشق ہے یا بلا ہے کیا کہیے
ضبط کی انتہا ہے کیا کہیے
اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی میں
درد ہے رت جگا ہے کیا کہیے
گونجتی ہے جو اب بھی کانوں میں
میرے دل کی صدا ہے کیا کہیے

2
305
عجب ہے فطرتِ آدم کہ یہ اِمکان ہوتا ہے
کبھی اِنسان ہوتا ہے ، کبھی حیوان ہوتا ہے
زمیں کو روند جاتا ہے ، یہ جب سُلطان ہوتا ہے
درندہ بن کے بھی یہ صورتِ اِنسان ہوتا ہے
کبھی عورت کی حُرمت کا یہی دربان ہوتا ہے
کبھی وحشت کے پردے میں یہی شیطان ہوتا ہے

179
اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجئے
اَمن ہو قریہ قریہ دُعا کیجئے
جس سے مٹنے لگیں نفرتیں چار سُو
کام کوئی تو ایسا نیا کیجئے
پھول کلیاں سبھی مسکراتی رہیں
پیدا ایسی وطن میں فضا کیجئے

254
چھوڑ جاؤں گا تمہارے درمیاں
تلخ و شیریں زندگی کی داستاں
مجھ کو قسمت کا ستارہ نہ ملا
کیسے لا دیتا مَیں تجھ کو کہکشاں
ایک تنہا چاند شب کی گود میں
بھر رہا ہے آج بھی وہ سسکیاں

3
383
راستی پہچان ہونی چاہیے
صورتِ ایمان ہونی چاہیے
صبحِ نو تخلیق کرنے کے لئے
مشعلِ عرفان ہونی چاہیے
پارسا ہونے سے پہلے سوچ لے
خصلتِ انسان ہونی چاہیے

261