مِرے دِل میں جو ایک زُہْرَہ جَبِیں ہے
کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے
نگاہیں اُٹھائے یا پلکیں جھکائے !
ہر اک ناز اُس کا خدا آفریں ہے
کبھی نرم لہجے میں باتیں کرے جب
لگے جیسے نغموں بھری اِک زمیں ہے
مِری دِل رُبا ہے وہ پَریوں کی رانی
کہیں دُور رہ کر بھی دِل کے قریں ہے
وہ چہرہ کہ جیسے دُعاؤں کا ہالہ
وہ آنکھیں کہ جن پر مجھے خود یقیں ہے
ہماری محبت خُدا جانتا ہے !!
کسی چھاپ میں جیسے کوئی نگیں ہے
مِرے عشق کی بھی کہانی عجب ہے
مَیں رہتا یہاں ہوں وہ رہتی کہیں ہے
ہَوا پھول سے گفتگو کر رہی تھی
ترے بِن یہ دُنیا کہاں دِل نشیں ہے
یہ ممکن نہیں ہے اُسے بھُول جاؤں
وہ جاویدؔ ! جو میرے دِل میں مکیں ہے

19