کون وہم و گماں میں رہتا ہے
ذکر کس کا بیاں میں رہتا ہے
تُم جِسے اب تلاش کرتے ہو
اب وہی کہکشاں میں رہتا ہے
پاؤں ٹِکتے نہیں زمیں پہ مگر
آدمی آسماں میں رہتا ہے
رازِ ہستی سمجھ نہیں پایا
کون کس امتحاں میں رہتا ہے
زخم دیتا ہے روز و شب گویا
تیر جب تک کماں میں رہتا ہے
دل اگر عشق سے منور ہو
کب وہ خوف و فغاں میں رہتا ہے
ذہن اے آئی میں ہے گم ایسا
کہ طِلِسْمی جہاں میں رہتا ہے
جس کو حاصل ہو قربتِ جاناں
وہ تو پھر لامکاں میں رہتا ہے
اُس کو جاویدؔ بس یہی کہنا
دِل اُسی کے مکاں میں رہتا ہے

151