| کون وہم و گماں میں رہتا ہے |
| ذکر کس کا بیاں میں رہتا ہے |
| تُم جِسے اب تلاش کرتے ہو |
| اب وہی کہکشاں میں رہتا ہے |
| پاؤں ٹِکتے نہیں زمیں پہ مگر |
| آدمی آسماں میں رہتا ہے |
| رازِ ہستی سمجھ نہیں پایا |
| کون کس امتحاں میں رہتا ہے |
| زخم دیتا ہے روز و شب گویا |
| تیر جب تک کماں میں رہتا ہے |
| دل اگر عشق سے منور ہو |
| کب وہ خوف و فغاں میں رہتا ہے |
| ذہن اے آئی میں ہے گم ایسا |
| کہ طِلِسْمی جہاں میں رہتا ہے |
| جس کو حاصل ہو قربتِ جاناں |
| وہ تو پھر لامکاں میں رہتا ہے |
| اُس کو جاویدؔ بس یہی کہنا |
| دِل اُسی کے مکاں میں رہتا ہے |
معلومات