Circle Image

وکیل احمد حیاتؔ

@Hayat9319

حیات

اِک پنگھٹ ہے دنیا یارو
اور ہم سب پیاس کے مارے لوگ
کھیل رہے ہیں ایسا کھیل
جہاں شرط ہے نفس سے لڑنے کی
پنگھٹ پر پیاسا مرنے کی

0
15
کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ ترے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخِیر کِیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غم خوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے

0
13
تیری میری یاری یارا
جان سے مجھ کو پیاری یارا
تارے تیری راہ کے جگنو
چاند بھی تجھ پر واری یارا
تیری خاطر کھیل بھی کھیلے
جیتی بازی ہاری یارا

0
21
اِک نئی راہ بنانے کا ارادہ تھا مرا
اس لیے اِک نئی منزل کو تعمیر کِیا

0
17
ہائے کہ سجدہ گاہوں میں، ذوق جبیں کہیں نہیں
ہائے کہ میکدے میں اب، بادۂ آتشیں نہیں
تیرے بغیر ہے کہاں، دل کا سکون دل رُبا
تیرے بغیر جانِ جاں، راحتِ جاں کہیں نہیں
ایک ہے دل اور ایک ہم، دونوں کے درد مختلف
اپنا کوئی مکاں نہیں، اِس کا کوئی مکِیں نہیں

0
23
ہم کو ہے عاجزی کی چاہ، اُن کو غرور کی طلب
ہم کو زمیں سے پیار ہے، اُن کو ہے آسماں پسند
میں بھی الگ مزاج ہوں، اے مرے مختلف مزاج
کون ہے مجھ کو آئے جو، تیرے سوا یہاں پسند
شعلہ بیاں ہو کوئی لاکھ، ہم کو کسی سے کیا غرض
ہم کو ترے بیاں قبول ، ہم کو تری زباں پسند

0
19
گریز کیوں حجاب کیوں مرے لئے عذاب کیوں
کہ دور سے خطاب کیوں مرے لیے عذاب کیوں
مجھی سے اجتناب کیوں مرے لئے عذاب کیوں
حضور کیوں جناب کیوں مرے لئے عذاب کیوں
ہے ایک ہی حیاتؔ جب ترا مرا گناہ پھر
ترے لیے ثواب کیوں مرے لئے عذاب کیوں

0
15
ہم کو ہے عاجزی کی چاہ، اُن کو غرور کی طلب
ہم کو زمیں سے پیار ہے، اُن کو ہے آسماں پسند
میں بھی الگ مزاج ہوں، اے مرے مختلف مزاج
کون ہے مجھ کو آئے جو، تیرے سوا یہاں پسند

0
14
مسکرائے جب سرکار اللہ اللہ کیا کہنا
ہرسو چھا گئے انوار اللہ اللہ کیا کہنا
اُن کے دم سے ہے مہکار اللہ اللہ کیا کہنا
وہ ہیں رونقِ گلزار اللہ اللہ کیا کہنا
میٹھی میٹھی ہے گفتار اللہ اللہ کیا کہنا
نوری نوری ہیں رخسار اللہ اللہ کیا کہنا

0
24
آئی ہے شب انوار اللہ اللہ کیا کہنا
دولھا بن گئے سرکار اللہ اللہ کیا کہنا
میٹھی میٹھی ہے گفتار اللہ اللہ کیا کہنا
نوری نوری ہیں رخسار اللہ اللہ کیا کہنا

0
15
ہم ہیں بنیاد تو ہر شخص منارے جیسا
ہم کو ملتا ہی نہیں دوست ہمارے جیسا
آج بستی میں ہمھاری ہے عجب ہی رونق
آج نکلا ہے یہاں چاند تمھارے جیسا
کیا بھلا ان سے جدا میری ہے پہچان کوئی
وہ سمندر کی طرح ہیں، میں کنارے جیسا

0
15
साथ देने के जो करते थे वादे साहब
वक़्त पर देखे वही जान छुड़ाते साहब
यूं ही चमके नहीं किस्मत के सितारे साहब
हमने झेले हैं कई रोज़ के फ़ाक़े साहब
तोड़ लाते हैं फलक से भी सितारे साहब
तुमने देखे ही नहीं चाहने वाले साहब

0
25
साथ देने के जो करते थे वादे साहब
वक़्त पर देखे वही जान छुड़ाते साहब
यूं ही चमके नहीं किस्मत के सितारे साहब
हमने झेले हैं कई रोज़ के फ़ाक़े साहब
तोड़ लाते हैं फलक से भी सितारे साहब
तुमने देखे ही नहीं चाहने वाले साहब

0
22
साथ देने के जो करते थे वादे साहब
वक़्त पर देखे वही जान छुड़ाते साहब
यूं ही चमके नहीं किस्मत के सितारे साहब
हमने झेले हैं कई रोज़ के फ़ाक़े साहब
तोड़ लाते हैं फलक से भी सितारे साहब
तुमने देखे ही नहीं चाहने वाले साहब

0
12
साथ देने के जो करते थे वादे साहब
वक़्त पर देखे वही जान छुड़ाते साहब
यूं ही चमके नहीं किस्मत के सितारे साहब
हमने झेले हैं कई रोज़ के फ़ाक़े साहब
तोड़ लाते हैं फलक से भी सितारे साहब
तुमने देखे ही नहीं चाहने वाले साहब

0
11
साथ देने के जो करते थे वादे साहब
वक़्त पर देखे वही जान छुड़ाते साहब
यूं ही चमके नहीं किस्मत के सितारे साहब हमने झेले हैं कई रोज़ के फ़ाक़े साहब
तोड़ लाते हैं फलक से भी सितारे साहब तुमने देखे ही नहीं चाहने वाले साहब
चांद को छूने की हमको भी तमन्ना थी मगर
पस्त हो जाते हैं गुरबत में इरादे साहब

0
33
ساتھ دینے کے جو کرتے تھے وعدے صاحب
وقت پر دیکھے وہی جان چھڑاتے صاحب
یوں ہی چمکے نہیں قسمت کے ستارے صاحب
ہم نے جھیلے ہیں کئی روز کے فاقے صاحب
توڑ لاتے ہیں فلک سے بھی ستارے صاحب
تم نے دیکھے ہی نہیں چاہنے والے صاحب

0
23
ساتھ دینے کے جو کرتے تھے وعدے صاحب
وقت پر دیکھے وہی جان چھڑاتے صاحب
یوں ہی چمکے نہیں قسمت کے ستارے صاحب
ہم نے جھیلے ہیں کئی روز کے فاقے صاحب
توڑ لاتے ہیں فلک سے بھی ستارے صاحب
تم نے دیکھے ہی نہیں چاہنے والے صاحب

0
15
ساتھ دینے کے جو کرتے تھے وعدے صاحب
وقت پر دیکھے وہی جان چھڑاتے صاحب
یوں ہی چمکے نہیں قسمت کے ستارے صاحب
ہم نے جھیلے ہیں کئی روز کے فاقے صاحب
توڑ لاتے ہیں فلک سے وہ ستارے صاحب
تم نے دیکھے ہی نہیں چاہنے والے صاحب

0
22
کبھی جینے نہیں دیتا ہے نفس اپنا ہمھیں
کبھی شیطان کے ہاتھوں سے مر جاتے ہیں

19
کوئی دوا نہ لیجئے ، کوئی دعا نہ کیجئے
درد ہو عشق کا تو پھر، صبر کے گھونٹ پیجئے
بادۂ عشق آپ کے، بس کا نہیں ہے جانِ جاں
لائیے آپ لائیے، دیجئے مجھ کو دیجئے
مرشدِمَن کہاں تھے آپ، کب سے تڑپ رہا ہوں میں
دیکھئے مجھ کو دیکھئے، کیجئے کچھ تو کیجئے

0
20
جو نہیں کرنا ہے ہم کو، وہی کر جاتے ہیں
ہم حیاتؔ اب تو سنورتے ہی بکھر جاتے ہیں
کبھی جینے نہیں دیتا ہے نفس اپنا ہمھیں
کبھی شیطان کے ہاتھوں سے مر جاتے ہیں

0
15
چلا تھا جس جگہ سے پھر وہیں پر آ گیا ہے دل
اب اس دنیا کے چکّر سے بہت اُکتا گیا ہے دل
جہاں میں تو ازل سے ہی غلط سمجھا گیا ہے دل
ہمیشہ عقل کی میزان پر پرکھا گیا ہے دل
کبھی وارا کبھی توڑا کبھی لوٹا گیا ہے دل
بتاؤں کیا، تمھیں کیا کیا ستم سہتا گیا ہے دل

0
1
41
چلا تھا جس جگہ سے پھر وہیں پر آ گیا ہے دل
اب اس دنیا کے چکّر سے بہت اُکتا گیا ہے دل
جہاں میں تو ازل سے ہی غلط سمجھا گیا ہے دل
ہمیشہ عقل کی میزان پر پرکھا گیا ہے دل
کبھی وارا کبھی توڑا کبھی لوٹا گیا ہے دل
بتاؤں کیا، تمھیں کیا کیا ستم سہتا گیا ہے دل

0
21
چلا تھا جس جگہ سے پھر وہیں پر آ گیا ہے دل
اب اس دنیا کے چکّر سے بہت اُکتا گیا ہے دل
جہاں میں تو ازل سے ہی غلط سمجھا گیا ہے دل
ہمیشہ عقل کی میزان پر پرکھا گیا ہے دل
کبھی وارا کبھی توڑا کبھی لوٹا گیا ہے دل
بتاؤں کیا،تمھیں کیا کیا ستم سہتا گیا ہے دل

0
15
ہائے کہ سجدہ گاہوں میں، ذوق جبیں کہیں نہیں
ہائے کہ میکدے میں اب، بادۂ آتشیں نہیں
ایک ہے دل اور ایک ہم، دونوں کے درد مختلف
اپنا کوئی مکاں نہیں، اِس کا کوئی مکِیں نہیں
پہلے سی بات اب نہیں، تیرا کرم ہے نازنیں
سارے جہاں پہ تھا یقیں، اب کسی پر یقیں نہیں

0
11
ہائے کہ سجدہ گاہوں میں، ذوق جبیں کہیں نہیں
ہائے کہ میکدے میں اب، بادۂِ آتشیں نہیں
ایک ہے دل اور ایک ہم، دونوں کے درد مختلف
اپنا کوئی مکاں نہیں، اِس کا کوئی مکِیں نہیں
پہلے سی بات اب نہیں، تیرا کرم ہے نازنیں
سارے جہاں پہ تھا یقیں، اب کسی پر یقیں نہیں

0
10
ہائے کہ سجدہ گاہوں میں، ذوق جبیں کہیں نہیں
ہائے کہ میکدے میں اب، بادۂِ آتشیں نہیں
ایک ہے دل اور ایک ہم، دونوں کے درد مختلف
اپنا کوئی مکاں نہیں، اِس کا کوئی مکِیں نہیں
پہلے سی بات اب نہیں، تیرا کرم ہے نازنیں
سارے جہاں پہ تھا یقیں، اب کسی پر یقیں نہیں

0
9
غور کرو اِدھر جناب، ہے یہ خطاب مستند
لاکھ غراب مسترد ،ایک عقاب مستند
اُن سا حسین کون ہے، اُن سا ذہین ہے کہاں
اُن کی ادائیں معتبر، اُن کے جواب مستند
اُن کے لبوں کے واسطے، اُن کی نگاہ کے لیے
لفظِ گلاب معتبر، لفظِ شراب مستند

0
19
غور کرو اِدھر جناب، ہے یہ خطاب مستند
لاکھ غراب مسترد ،ایک عقاب مستند
شوقِ سفر بھی چاہیے ،خونِ جگر بھی چاہیے
عشق کے واسطے ہے بس، عہدِ شباب مستند
اُن سا حسین کون ہے، اُن سا ذہین ہے کہاں
اُن کی ادائیں معتبر، اُن کے جواب مستند

0
19
گلشنِ دل مہک اٹھا، کیا ہی عجب ہے بوئے یار
ہم کو دِوانہ کر گئی، موجِ ہوائے کوئے یار
دیکھ کے جلوۂِ حبیب، سرو و سمن ہیں دم بخود
قوسِ قزح بھی دھنگ ہے، دیکھ کے رنگِ روئے یار
جانبِ دیر کچھ گئے، کچھ تو گئے سوئے حرم
ہم کو ہے یار کی طلب، ہم تو چلے ہیں سوئے یار

0
25
کوئی دوا نہ لیجئے ، کوئی دعا نہ کیجئے
درد ہو عشق کا تو پھر، صبر کے گھونٹ پیجئے
بادۂ عشق آپ کے، بس کا نہیں ہے جانِ جاں
لائیے آپ لائیے، دیجئے ہم کو دیجئے
وہ جو امیرِِ شہر ہیں، عشق تو ان کا کھیل ہے
آپ غریب ہیں حیاتؔ، آپ تو شرم کیجئے

0
134
کوئی دوا نہ لیجئے ، کوئی دعا نہ کیجئے
درد ہو عشق کا تو پھر، صبر کے گھونٹ پیجئے
بادۂ عشق آپ کے، بس کا نہیں ہے جانِ جاں
لائیے آپ لائیے، دیجئے ہم کو دیجئے

0
19
تو ہی قیامِ شوق ہے، تو ہی عروسِ شام بھی
تیرے خرامِ ناز پر، واری مہِ تمام بھی
جب سے اٹھا ہے وہ حجاب، دل میں ہے اک ہجومِ جشن
سازِ طرب ہیں بج رہے، اور ہے رقصِ جام بھی
ان کی ادائے شوخ نے، لہرا کے تیغِ بے نیام
فتح کیا یہ دل مرا، جاں کو کیا غلام بھی

0
21
تو ہی قیامِ شوق ہے، تو ہی عروسِ شام بھی
تیرے خرامِ ناز پر، واری مہِ تمام بھی
جب سے اٹھا ہے وہ حجاب، دل میں ہے اک ہجومِ جشن
سازِ طرب ہیں بج رہے، جاری ہے رقصِ جام بھی
ان کی ادائے شوخ نے، لہرا کے تیغِ بے نیام
فتح کیا یہ دل مرا، جاں کو کیا غلام بھی

0
17
تو ہی قیامِ شوق ہے، تو ہی عروسِ شام بھی
تیرے خرامِ ناز پر ،واری مہِ تمام بھی
جب سے اٹھا ہے وہ حجاب، دل میں ہے اک ہجومِ جشن
سازِ طرب ہیں بج رہے، اور ہے رقصِ جام بھی
ان کی ادائے شوخ نے، لہرا کے تیغِ بے نیام
فتح کیا یہ دل مرا، جاں کو کیا غلام بھی

0
20
تو ہی قیامِ شوق ہے، تو ہی عروسِ شام بھی
تیرے خرامِ ناز پر ،واری مہِ تمام بھی۔
جب سے اٹھا ہے وہ حجاب، دل میں ہے اک ہجومِ جشن
سازِ طرب ہیں بج رہے، اور ہے رقصِ جام بھی۔
ان کی ادائے شوخ نے، لہرا کے تیغِ بے نیام
فتح کیا یہ دل مرا، جاں کو کیا غلام بھی ۔

0
36
جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر ایک محفل میں
شرابِ عشق وہ ہم کو ملی میخانئہِ دل میں
ہاں، آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اِک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں

0
20
جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر ایک محفل میں
شرابِ عشق وہ ہم کو ملی میخانئہِ دل میں
ہاں، آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اِک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں

0
29
جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر بزم و محفل میں
شرابِ عشق وہ ہم کو ملی میخانئہِ دل میں
یہ آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اِک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں

0
85
جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر بزم و محفل میں
شرابِ عشق وہ ہم کو ملی میخانئہِ دل میں
یہ آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اِک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں

0
14
جسے ہم ڈھونڈتے پھرتے رہے ہر بزم و محفل میں
شرابِ عشق وہ ہم کو ملی میخانئہِ دل میں
کہ آنکھیں جب بھی روتی ہیں بھگو دیتی ہیں عارض کو
بڑا گہرا تعلق ہے سمندر اور ساحل میں
جہاں پر عدل کا پرچم ہر اِک پرچم سے اونچا ہو
سمجھ لینا وہی بہتر قبیلہ ہے قبائل میں

0
33
راہِ راست پر ہیں تو حوصلہ بڑھا یا جائے
گر بھٹک گئے ہیں تو راستہ دکھایا جائے
خامشی بھی تائیدِ جرم ہے رہیں کیوں چپ
گر زباں نہیں چلتی تو قلم چلایا جائے

0
42
'نرگس' کہوں 'سوسن' کہوں پھر 'یا سمن' کیا کیا کہوں
آنکھوں کو تیری کیا کہوں، چہرے کو میں کیا نام دوں
'نرگس' کہوں 'سوسن' کہوں پھر 'یا سمن' کیا کیا کہوں
آنکھوں کو تیری کیا کہوں، چہرے کو میں کیا نام دوں

0
87
حجاب میں حبیب ہے، یہ عشق بھی عجیب ہے
کہ سامنے رقیب ہے ،یہ عشق بھی عجیب ہے
کبھی اِسے بلاؤ تم ، کوئی غزل لکھاؤ تم
بہت بڑا ادیب ہے ،یہ عشق بھی عجیب ہے
پڑا ہوا ازل سے ہے سراغِ دل کے پیچھے جو
یہی وہ عندلیب ہے ،یہ عشق بھی عجیب ہے

1
212
آپ کے دستِ کرم کا جب اشارہ ہو گیا
ڈوبا سورج پلٹا دم میں ماہ پارہ ہو گیا
نعلِ پاکِ مصطفی کی شان و عظمت دیکھیے
پڑ گئے جس پر وہ ذرّہ بھی ستارہ ہو گیا

0
39
اے نازنیں ، اے دل رُبا ، اے مہرباں کچھ تو بتا
رشکِ زمیں ہے کیوں فلک کیا ہے وہاں کچھ تو بتا
محفوظ تھے جو آج تک تیرے دلِ غمگین میں
وہ رازِ غم مجھ پر ہوئے ہیں کیوں عیاں کچھ تو بتا
مرشد مرے ، یاور مرے ، کیا دیکھتا ہے مجھ میں تو
عشق و جنوں ، فہم و ذکا ، سود و زیاں کچھ تو بتا

0
45
راہِ راست پر ہیں تو حوصلہ بڑایا جائے
گر بھٹک گئے ہیں تو راستہ دکھایا جائے
خامشی بھی تائیدِ جرم ہے کیوں چپ ہو پھر
گر زباں نہیں چلتی تو قلم چلایا جائے

26
آئینہ زندگی کا دکھا بھی گیا
بندگی کے سبھی گُن سکھا بھی گیا
تھا عجب شخص وہ سب بتا بھی گیا
عشق کے سب سبق پھر رٹا بھی گیا
قتل کر کے سبھی خواہشوں کو مری
پھر جنازہ نفس کا پڑھا بھی گیا

1
53
اے نازنیں،اے دل رُبا،اے مہرباں کچھ تو بتا
رشکِ زمیں ہے کیوں فلک کیا ہے وہاں کچھ تو بتا
محفوظ تھے جو آج تک تیرے دلِ غمگین میں
وہ رازِ غم مجھ پر ہوئے ہیں کیوں عیاں کچھ تو بتا
آئینہ رُخ ، زہرہ جبیں ، حسنِ جہاں تھا تو کبھی
چھائی ہیں اب جو جُھرّیاں کیا ہے زماں کچھ تو بتا

1
48
اے نازنیں،اے دل رُبا،اے مہرباں کچھ تو بتا
رشکِ زمیں ہے کیوں فلک کیا ہے وہاں کچھ تو بتا
محفوظ تھے جو آج تک تیرے دلِ غمگین میں
وہ رازِ غم مجھ پر ہوئے ہیں کیوں عیاں کچھ تو بتا
آئینہ رُخ ، زہرہ جبیں ، حسنِ جہاں تھا تو کبھی
چھائی ہیں اب جو جُھرّیاں کیا ہے زماں کچھ تو بتا

33
اے نازنیں، اے دل ربا ،اے مہرباں کچھ تو بتا
رشکِ زمیں ہے کیوں فلک کیا ہے یہاں کچھ تو بتا
کٹتے شجر ،بجھتے دیے، جلتے دلوں میں تھے نہاں
سب رازِ غم مجھ پر ہوئے ہیں کیوں عیاں کچھ تو بتا

78
تمام ظلم ان کے ہم یوں زندگی میں سہہ گئے
زباں ہلی، نہ لب کھلے، بس اشک تھے جو بہہ گئے
سمجھ سکے نہ ماہرینِ وقت بھی کبھی انھیں
جو رازہائے عشق وہ نظر نظر میں کہہ گئے

0
25
تمام ظلم ان کے ہم یوں زندگی میں سہہ گئے
زباں ہلی نہ لب کھلے بس اشک تھے کہ بہہ گئے
مفکّروں مدبّروں سے اک بیاں نہ ہو سکے
جو فلسفے وہ عشق کے نظر نظر میں کہہ گئے

0
29
کچھ سناؤ کرونا برا تو نہیں
گر برا ہے بڑا پھر مجھے اے مرے
ہمنوا سن ذرا
یہ کرونا کہاں
ساتھ دنیا یہاں
ماں محبّت وفا

0
49
زباں ہلی نہ لب کھلے بس ان کے در سے مل گئی
کرم کرم کی بات تھی نظر نظر سے مل گئی
عجب عجب تھا مسئلہ ،جہاں ہی سارا پھنس گیا
وہ مختصر سی بات تھی بس اک بشر سے مل گئی

0
20
غزل خود آئے چل کر جب ، کرم تب دیکھیے کیا ہو
اٹھے جب وہ حجاب ان کا رقم تب دیکھئے کیا ہو
زباں پر ان کی ہم ایسے سجے ہوں گے کہ مت پوچھو
ہماری جب کریں گے وہ قسم تب دیکھئے کیا ہو
ہمارے تو گناہوں کا ہے چرچا ہر جگہ لیکن
ارم کو جب چلیں گے ہم صنم تب دیکھیے کیا ہو

35
یوں ٹوٹے سب حسینوں کے بھرم تب دیکھیے کیا ہو
اٹھے جب وہ حجاب ان کا ستم تب دیکھیے کیا ہو
زباں پر ان کی ہم ایسے سجے ہوں گے کہ مت پوچھو
ہماری جب کریں گے وہ قسم تب دیکھیے کیا ہو
ہمارے تو گناہوں کا ہے چرچہ ہر جگہ اب تو
ارم کو جب چلیں گے ہم صنم تب دیکھیے کیا ہو

0
33
توڑنا چاہتے تھے پہ ٹوٹا نہیں
دل مرا کوئی مٹّی کا مٹکا نہیں
شہرِ دل میں مرے تذکرے ہیں ترے
تُو حسیں مہ جبیں کوئی تجھ سا نہیں
سب ہوس کے پجاری ہیں چارو طرف
کوئی مجنوں نہیں کوئی لیلیٰ نہیں

0
32
توڑنا چاہتے تھے یہ ٹوٹا نہیں
دل مرا کوئی مٹّی کا مٹکا نہیں
شہرِ دل میں مرے تذکرے ہیں ترے
تُو حسیں مہ جبیں کوئی تجھ سا نہیں
سب ہوس کے پجاری ہیں چارو طرف
کوئی مجنوں نہیں کوئی لیلیٰ نہیں

0
72
اک ذرا چوٹ پر رونے والا نہیں
دل مرا کوئی مٹّی کا مٹکا نہیں
دل نگر میں مرے تذکرے ہیں ترے
تم حسیں مہ جبیں کوئی تم سا نہیں
سب ہوس کے پجاری ہیں چاروں طرف
کوئی مجنوں نہیں کوئی لیلیٰ نہیں

0
25
سبھی غم ہم اپنے چھپانے لگیں گے
انھیں دیکھ کر مسکرانے لگیں گے
نہیں ہم وہ جو آزمانے لگیں گے
جہاں دل لگے گا لگانے لگیں گے
جو تم ان کی زلفوں میں پھولوں کو دیکھو
ستارے فلک پر پرانے لگیں گے

0
28
سبھی غم ہم اپنے چھپانے لگیں گے
انھیں دیکھ کر مسکرانے لگیں گے
نہیں ہم وہ جو آزمانے لگیں گے
جہاں دل لگے گا لگانے لگیں گے
جو تم ان کی زلفوں میں پھولوں کو دیکھو
ستارے فلک پر پرانے لگیں گے

0
68
سبھی غم ہم اپنے چھپانے لگیں گے
انھیں دیکھ کر مسکرانے لگیں گے
نہیں ہم وہ جو آزمانے لگیں گے
جہاں دل لگے گا لگانے لگیں گے
کوئی ان کی زلفوں میں پھولوں کو دیکھے
ستارے فلک پر پرانے لگیں گے

0
38
کچھ سناؤ کرونا برا تو نہیں
گر برا ہے بڑا پھر مجھے اے مرے
دل ربا سن ذرا
یہ کرونا کہاں
ساتھ دنیا یہاں
ماں محبّت وفا

0
122
کچھ سناؤ کرونا برا تو نہیں
گر برا ہے بڑا پھر مجھے اے مرے
دل ربا سن ذرا
یہ کرونا کہاں
ساتھ دنیا یہاں
ماں محبّت وفا

0
72
ترا دل جو دھڑکتا ہے علامت ہے مبارک ہو
ترا دلبر ترا عاشق سلامت ہے مبارک ہو
ستاروں سے سنا میں نے قمر نے بھی کہا ہے یہ
زمیں پر وہ جو رہتا ہے قیامت ہے مبارک ہو
تمھیں ‌نیکوں کی چاہت ہے ہمھیں رندوں سے الفت ہے
محبّت تیری میری اک کرامت ہے مبارک ہو

76
کش میں خمار ہے کوئی مد نہ مے کشی میں
ہم آج مات کھا کے آئے ہیں عاشقی میں۔
شکوہ نہ ہے شکایت وعدہ شکن مرے سن
کوئی تو مسئلہ ہے پھر میری ہی گھڑی میں۔
بادل برس رہے ہیں کٹیا ٹپک رہی ہے
مزدور سو رہے ہیں مخمور جھونپڑی میں۔

31
کش میں خمار ہے کوئی مد نہ مے کشی میں
ہم آج مات کھا کے آئے ہیں عاشقی میں۔
شکوہ نہ ہے شکایت وعدہ شکن مرے سن
کوئی تو مسئلہ ہے پھر میری ہی گھڑی میں۔
بادل برس رہے ہیں کٹیا ٹپک رہی ہے
مزدور سو رہے ہیں مخمور جھونپڑی میں۔

0
34