تیری میری یاری یارا
جان سے مجھ کو پیاری یارا
تارے تیری راہ کے جگنو
چاند بھی تجھ پر واری یارا
تیری خاطر کھیل بھی کھیلے
جیتی بازی ہاری یارا
دوست بھی تجھ پر جاں دیتے ہیں
دشمن ترے معیاری یارا
پتّھر کو انسان کِیا ہے
واہ تری فنکاری یارا
رفتہ رفتہ ہو گئی اوجَھل
ماں کی راج دلاری یارا
سب کو عشق سکھاتا تھا جو
نکلا ہوَس کا پُجاری یارا
ایک کبوتر سے ہارا ہے
تجرِبہ کار شِکاری یارا
اِک پنگھٹ پر ہم نے پیاسے
ساری عمر گزاری یارا
موت مکمّل کر دیتی ہے
جینے کی تیّاری یارا
سایہ ہے سب پر غم کا حیاتؔ
کون کرے غم خواری یارا

0
21