| غور کرو اِدھر جناب، ہے یہ خطاب مستند |
| لاکھ غراب مسترد ،ایک عقاب مستند |
| شوقِ سفر بھی چاہیے ،خونِ جگر بھی چاہیے |
| عشق کے واسطے ہے بس، عہدِ شباب مستند |
| اُن سا حسین کون ہے، اُن سا ذہین ہے کہاں |
| اُن کی ادائیں معتبر، اُن کے جواب مستند |
| اُن کے لبوں کے واسطے، اُن کی نگاہ کے لیے |
| لفظِ گلاب معتبر، لفظِ شراب مستند |
| اُن کی مہک کا ہو خمار، اُن کی جھلک کا ہو سرور |
| میری وہ نیندیں معتبر، میرے وہ خواب مستند |
| جس کا ہر ایک صفحہ ہو، حرص و ہوس سے ماورا |
| مکتبِ عشق میں حیاتؔ، ہے وہ کتاب مستند |
معلومات