Circle Image

Syed Mujtaba Daoodi

@mujtabasyed

خوب ہے گرمیٔ بازارِ ہوس اب کے برس
اُونچے داموں بک رہے ہیں خار و خس اب کے برس
کاٹتے کٹتا نہیں چوبیس گھنٹے کا پہاڑ
بوجھ دل پر بن گیا اک اک نفس اب کے برس
منتظر کب سے کھڑا ہے کاروانِ زندگی
پھر پکارے کوئی آوازِ جرس اب کے برس

4
اس رنگ اور بوئے گلشن کا افسانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ان تھکے تھکے موسموں کو دیوانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
احباب کا دکھ اغیار کا غم اپنوں کا گلہ دشمن کے ستم
بے کیف و سرور اس دنیا کو آشیانہ لکھوں تو کیسے لکھوں
ہیں دل و جگر ہی دشمن جاں پر دل و جگر تو اپنے ہیں
جب اپنے ہیں تو اپنوں کو بیگانہ لکھوں تو کیسے لکھوں

0
17
تو ہے پرتو حیرت اب حیرتِ کدہ ہو جا
آئینہ سے واصل ہو جذب آئینہ ہو جا
جزو منتشر کیوں ہے مل کے ایک جا ہو جا
گو خدا نہیں ہو گا، مَظْہَرِ خدا ہو جا
رہگزار ہستی میں نقش دوسرا ہو جا
وہ نشان منزل ہے تو نشان پا ہو جا

0
15
ربط سوزِ دروں دھواں تک ہے
درد کا سلسلہ فغاں تک ہے
سحر انگیزی تو زباں تک ہے
قصہ جو کچھ بھی ہے بیاں تک ہے
وُسْعَتِ دامَنِ حَیات نہ پُوچھ
یہ زمیں کیا ہے آسماں تک ہے

0
17
یہ کار ستم کیشی یہ بگڑی ادا کب تک
اے وقت بتا تیرا اترے گا نشہ کب تک
یہ جور و جفا کب تک یہ ناز و ادا کب تک
دیکھیں گے اسے ہم بھی بنتا ہے خدا کب تک
جو حبس کا عالم ہے طوفاں تو اٹھنا ہے
رکھے گی بھلا فطرت مسموم فضا کب تک

0
20
ظلم اور غضب سے نہیں ڈرتا کوئی خورشید
ظلمت بڑھی حد سےتو ابھرا کوئی خورشید
کیا بھول گئے سارے اماوس کے پرستار
کرتا ہے ہر اِک رات کا پیچھا کوئی خورشید
ہے نور کی ظلمات سے یہ جنگ پرانی
لڑتا ہے اندھیروں سے ہمیشہ کوئی خورشید

0
22
دلیل صبح نہیں رات کا بسر ہونا
بجھے نہ شمع غَمِ دِل تو کیا سحر ہونا
کبھی زمیں پہ کبھی تخت عرش پر ہونا
سکھا دیا ہے رب نے ہمیں بشر ہونا
کبھی ادھر سے گزرنا کبھی ادھر ہونا
ہے کچھ نہ کچھ تو ہواؤں کا میرے سر ہونا

0
14
ہٹا کر جھوٹ سے پردہ صداقت کون لکھے گا؟
اگر ہم بھی چھپائیں تو حقیقت کون لکھے گا؟
اگر تم جھوٹ، رشوت اور مکاری سے جیتو گے
تو پھر ایسی سیاست کو سیاست کون لکھے گا؟
بہائے کتنے تو نے خون تخت و تاج کی خاطر
نبھائی تُو نے کس کس سے عداوت کون لکھے گا؟

0
30
وہ جو آفاق کی سرحد سے گزر جاتے ہیں
جانے وہ لوگ نگاہوں سے کدھر جاتے ہیں
اُن کی دہلیز پہ جانے کے یہی ہیں آداب
جو بھی جاتے ہیں لئے دیدۂ تر جاتے ہیں
سامنے آگ کا دریا ہو کہ غم کا صحرا
پاؤں رکتے نہیں بے خوف و خطر جاتے ہیں

0
17
بدلے بدلے منظر دیکھ
بستی بستی ابتر دیکھ
سنّاٹوں کی چاپیں سن
آوازوں کے منظر دیکھ
پیڑ ھمارے ہیں پھل دار
پیڑوں پر ہیں بندر دیکھ

0
16
محبت شرافت صداقت عطا کر
مجھے علم و فن کی دولت عطا کر
نہ چھوٹے کبھی حق کا دامن خُدایا
برائی سے لڑنے کی طاقت عطا کر
تلاوت کروں روز قرآن کی میں
نمازی بنوں میں ہدایت عطا کر

0
48
تڑپ کو ہم نوا اور جذبہ دل تم کربلا کرلو
ذرا کچھ دیرکو ماضی سے بھی کچھ سلسلہ کرلو
سیاہی جو نگل جاۓ سراسر روشنی کو بھی
توپھرحق ہےکہاں باطل ہے کیا خود فیصلہ کرلو
عبادت نامکمّل ہے ، ادھورا ہے ہراک سجدہ
اساس ذہن ودل کو بھی نہ جب تک مبتلا کرلو

0
16
ہم نے جو راہ منتخب کی ہے
یاد رکھنا ، بڑے غضب کی ہے
جان کی اپنی ، فکر کب کی ہے
ہم نے کس سے اماں طلب کی ہے
جانتے ہیں سبب تباہی کا
کب ہمیں جستجو سبب کی ہے

0
21
کیا ہی زباں ہے اردو قومی زباں ہماری
فطرت ہے، آساں تر ہے اردو زباں ہماری
کیا خوب داستاں ہے اردو زباں ہماری
مظلوم کی فغاں ہے اردو زباں ہماری
گفت و شنید باہم اردو سے صرف ممکن
ہم سب کی ترجماں ہے اردو زباں ہماری

0
24
تو ہے پرتو حیرت اب حیرتِ کدہ ہو جا
آئینہ سے واصل ہو جذب آئینہ ہو جا
جزو منتشر کیوں ہے مل کے ایک جا ہو جا
گو خدا نہیں ہو گا، مَظْہَرِ خدا ہو جا
رہگزار ہستی میں نقش دوسرا ہو جا
وہ نشان منزل ہے تو نشان پا ہو جا

13
کم نگاہی تھی مری تو بے اثر رکھا مجھے
میں بشر تھا عمر بھر اس نے بشر رکھا مجھے
وُسعَتِ افلاک تک پھیلا نہ دوں اپنا وجود
ذات کی حَدِ فنا میں مختصر رکھا مجھے
بخش کر مجھ کو شُعُورِ آگَہی ہست و بود
اِنْقِلابِ روز و شب سے باخبر رکھا مجھے

0
26
مانا کہ دل حیران ہے آگے بڑھو آگے بڑھو
غم کا اگر طوفان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو
رستہ کوئی مشکل نہیں ،ہاں دور اب منزل نہیں
ہمت اگر چٹان ہے، آگے بڑھو آگے بڑھو
رستے میں جو رک جائے گا ،وہ ایک دن پچھتائے گا
یہ وقت کا اعلان ہے ، آگے بڑھو آگے بڑھو

0
19
غم نہیں کیجیے دریا کو اتر جانا ہے
چاہے فرعون کا لشکر ہو بکھر جانا ہے
آسماں بھی ترے ہونے سے سنور جانا ہے
کہکشاں کو ترے قدموں میں بکھر جانا ہے
کوئی امید نظر آے ستارہ بن کر
راہ میں صبح کی اب جاں سے گزر جانا ہے

0
40
غَمِ حَیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے
وفا کا جو ہے طریقہ روا تو رکھنا ہے
نہ جانے کون سی رت میں ہو خواہش منزل
سفر کریں نہ کریں راستہ تو رکھنا ہے
زمانہ جان تو لے ہم ہیں تیرگی کے خلاف
بھلے ہوائیں بجھا دیں دیا تو رکھنا ہے

0
32
عمر کہتے ہیں جسے سانسوں کی اک زنجیر ہے
چشم بینا میں ہر اک لمحے نئی تصویر ہے
زندگی انعام کی صورت میں اک تعزیر ہے
جو کبھی دیکھا نہ تھا اس خواب کی تعبیر ہے
جو پَس پردہ ہے اس کو چاہے جو کہہ لیجئے
پیش جو آئے وہی انسان کی تقدیر ہے

0
34
عشق کامل کہاں سے لے آتے
غم کا حاصل کہاں سے لے آتے
بحر کی انتہا ہی کر دی ہے
ورنہ ساحل کہاں سے لے آتے
زندگی سہل گر بنا دیتا
کوئی مشکل کہاں سے لے آتے

0
41
سوزِ درون، زات کی آواز بن گیا
تارِ نَفَس، نفس نہ رہا ساز بن گیا
چرچا اس طرح ہوا تیرے خصال کا
ہر ظلم ناروا تیرا انداز بن گیا
ہر اک ستم جواز ستم ڈھونڈنے لگا
فتنہ جو تھا وہ فِتْنَہ پَرْداز بن گیا

0
47
شاعرواہل ہنر ہیں ہم لوگ
پھر بھی کیوں خاک بسر ہیں ہم لوگ
آدمی کی طرح برتے نہ گئے
کوئی مخلوق دگر ہیں ہم لوگ
سمت معلوم نہیں منزل کی
پھر بھی سرگرم سفر ہیں ہم لوگ

0
29
سحر تیرگی کو تنویر بنا دیتی ہے
روشنی عکس کو تصویر بنا دیتی ہے
ہم تو کاغذ پر قلم رکھ کے چلاتے ہیں فقط
آگہی علم کی تحریر بنا دیتی ہے
زندگی کو تو گزرنا ہے بہر رنگ مگر
اس کو تاریخ اساطیر بنا دیتی ہے

50
زیست پیرائیہ اظہار سے مجہول ہوئی
منجمد خاک تھی کچلی گئی تو دھول ہوئی
مصلحت کیش ہوئیں جتنی دعائیں مانگیں
جو نہ مانگی تھی کبھی وہ دعا مقبول ہوئی
عشق انسان کی فطرت کا تقاضہ بھی تو ہے
عذر کوئی بھی ہو پر بات تو معقول ہوئی

45
زوق آسودگی کار سبب تک پہنچے
رہ گزر ہے وہی جو کُوئے طرب تک پہنچے
عشق پھر عشق ہے پَیرایَہ اظہار نہیں
کام یہ جذبہ دل کا ہے طلب تک پہنچے
غیر معلوم سے حالات میں ہے شمع حیات
جانے کیا حال گزر جائے لو جب تک پہنچے

0
31
زمیں پراک عجب نقشہ ہے دریا
کہیں سمٹا کہیں پھیلا ہے دریا
جہلم ہو سندھ ہو راوی کہ ستلج
کوئی بھی نام ہو دریا ہے دریا
کسی نے یاد ماضی کی دلادی
جو سویا تھا وہ جاگ اٹھا ہے دریا

42
زرد زرد پتے ہیں ماند رنگتیں ساری
چھین لی ہواؤں نے گل کی نکہتیں ساری
لاکھ خود ستائی میں لوگ ہوں اثاثہ ہو
اک دِیئے کے دم سے ہے گھر کی رونقیں ساری
خیر کی توقع کیا جاں گداز صحرا سے
اک جنون خستہ جاں اور وحشتیں ساری

0
45
زخم دل جوشش نمو چاہے
یعنی کچھ اور بھی لہو چاہے
کچھ توجہ یہ رنگ و بو چاہے
یہ نگہ فکر و جستجو چاہے
میرے کوچے کا اب یہ عالم ہے
ہر بشر اپنی آبرو چاہے

0
32
رابطہ جسم کا جب روح سے کٹ جاتا ہے
آدمی مختلف حالات میں بٹ جاتا ہے
دیکھ کر ساحل دریا کا سکوت پیہم
چڑھ کے آیا ہوا طوفاں بھی پلٹ جاتا ہے
آئینہ دیکھ کے ہوتا ہے توہم کا اسیر
قد وہی ہوتا ہے پر آدمی گھٹ جاتا ہے

0
294
ڈالا ہے وقت نے مجھےکس امتحان میں
خود ہی ہدف ہوں تیر ہوں خود اپنی کمان میں
اپنی حد اور خیال کو رکھ کر گمان میں
احساس کا پرند ہے اونچی اڑان میں
اہل خرد تو عقل کے جھانسے میں آگئے
دیوانگی ہمیشہ رہی اپنی شان میں

26
دیکھنا چاہوں جو دکھائی دے
منتشر لمحوں کو اکائی دے
عشق کو ذوق خود نمائی دے
مَظْہَر زات تک رسائی دے
کتنی حساس ہے سماعت بھی
کوئی سوچے مجھے سنائی دے

42
دل کو سر مضراب کیا ہے میں نے
ہر سانس کو بیتاب کیا ہے میں نے
کچھ اپنے لئیے قریہ جاں میں بھٹکے
کچھ خاطر احباب کیا ہے میں نے
ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر چلا کر
اندازہ گرداب کیا ہے میں نے

25
خودی کی انتہائی مات کہیے
محبت کو شکست ذات کہیے
اثر انگیزی کےحالات کہیے
کچھ اپنے بھی تو احساسات کہیے
بہت تمہید سن لی درد دل کی
جو کہنا چاہتے ہیں بات کہیے

24
خودی تضحیک حسرت کی ثمر ہے
تجھے ائے بے نیازی کچھ خبر ہے
جو ہے وہ زد میں ہے وہم و گماں کی
نہیں ہے جو وہی تو معتبر ہے
بہت حساس ہوتا جا رہا ہوں
میرے اندر بھی کوئی شیشہ گر ہے

0
20
خود رفتگی شوق میں چلتے ہیں ڈگر اور
منزل کا نشان اور ہے رستے کا سفر اور
اک بوجھ بڑھاتا ہی چلا جاتا ہے اک سال
بڑھ جاتا ہے جب بوجھ تو جھکتی ہے کمر اور
ہے کار گہہ زیست کا آئین ضرورت
ہو جائے کوئی بند تو کھل جائے گا در اور

0
19
وقت ہرچند ہے کڑادختر
ہار دینا نہ حوصلہ دختر
ہے تپش تیز تر شب غم کی
اوڑھ لو دھوپ کی ردا دختر
ذندگی پر محیط ہوتا ہے
ایک لمحے کا فیصلہ دختر

30
خامشی بھی زباں نہ ہو جاۓ
وجہ آہ و فغاں نہ ہو جاۓ
خوف اب یہ ہے تیرے پیش نظر
وہ کہیں سب کا ترجماں نہ ہو جائے
آج تنہا وہ اک مسافر ہے
کل وہی کارواں نہ ہو جاۓ

26
بوئے ہوئے خوابوں کا ثمر ڈھونڈ رہے ہیں
بیدار ہیں ہم لوگ سحر ڈھونڈ رہے ہیں
پھر سوز شرر بار خلش چاہیے دل کو
پھر جَری نظر بار دگر ڈھونڈ رہے ہیں
احساس ندامت ہمیں رونے کا بہت ہے
آنکھوں سے گرے تھےجو گہر ڈھونڈ رہے ہیں

0
42
اگر پرواز پے مائل نہیں ہے
پرندہ وہ کسی قابل نہیں ہے
فریبوں میں نہ آئیں اہلِ کشتی
وہاں گرداب ہے ساحل نہیں ہے
تمہیں حاصل ہے تختِ بادشاہی
سکونِ دل مگر حاصل نہیں ہے

0
33
کروں میں استعاروں میں بیاں کیا
سمجھ لیں گے نہ وہ میری زباں کیا
نظر کو ہے فَریبِ آسماں کیا
پَسِ منظر بھی ہے منظر نہاں کیا
وہی ہونا ہے جو ہونا لکھا ہے
تو پھر ہَنگامَۂ سُود و زِیاں کیا

0
77
دست رس میں نہ ہوں حالات تو پھر کیا کیجئے
وقت دکھلائے کرشمات تو پھر کیا کیجئے
صاحِبِ وقت ہیں جو ان کی طبیعت چاہے
ظلم کو کہہ دیں مکافات تو پھر کیا کیجئے
ہم نے رو لیں ہیں گہر اشک ندامت کے بہت
ہوں نہ منظور یہ سوغات تو پھر کیا کیجیے

0
59
ربط سوزِدَرُوں دھواں تک ہے
درد کا سلسلہ فغاں تک ہے
سحر انگیزی تو زباں تک ہے
قصہ جو کچھ بھی ہے بیاں تک ہے
وُسْعَت دامَنِ حَیات نہ پُوچھو
یہ زمیں کیا ہے آسماں تک ہے

0
52
جہاں تک وُسْعَت قلب نظر ہے
یہ عالم بھی وہیں تک معتبر ہے
نہ سایہ ہے نہ دیواریں نہ در ہے
جہاں رہتا ہوں میں یہ بھی تو گھر ہے
ترے ہر گام پراس کی نطر ہے
تجھے اےبے خبر اس کی خبر ہے؟

91
آؤ مقتل میں بھی چل کر دیکھیں
ضوفشاں کتنے ہوئے سر دیکھیں
موت کا کیا ہے مزہ مر دیکھیں
کام یہ ہوتا ہے تو کر دیکھیں
زندگی کے ہیں قرینے کتنے
ایک لمحے کو بکھر کر دیکھیں

0
82
دل احتساب ذات کی زد میں ہے آج کل
ہر اک عمل گناہ کی مد میں ہے آج کل
اطراف جاں میں رقص ہے شعلوں کا دم بدم
سایہ بھی اپنے جسم کے قد میں ہے آج کل
امواج جذب عشق کی سب سر نگوں ہوئیں
دریائے اضطراب بھی حد میں ہے آج کل

0
36
اک شَے کو اہتمام سے کیا کیا لکھا گیا
ٹھہرے کو جھیل بہتے کو دریا لکھا گیا
الفت کا باب رنگ تخیل سے پر ہوا
ایسا لکھا گیا کبھی ویسا لکھا گیا
لمحات کے بہاو میں بہتا رہا بشر
ٹھرا جہاں وہ موت کا عرصہ لکھا گیا

54