دکھاوے کی عبادت اور ہوگی
کرو دل سے محبت اور ہوگی
کوئی درویش کہتا جا رہا تھا
جڑا رہنے سے چاہت اور ہوگی
امیرِ شہر کے کاغذ قلم سے
امانت میں خیانت اور ہوگی
وفا کے نام پر جتنا لٹاؤ تم
خدا نے چاہا برکت اور ہوگی
کسی کا دل دکھاؤ گے اگر تُم
قیامت میں قیامت اور ہوگی
ہوس کے پر کترنے ہیں ضروری
اُڑانوں میں سہولت اور ہوگی
ہو شاعر دردِ دل صبر و قناعت
تو قَرْیَہِ جاں میں راحت اور ہوگی

2