راز ہائے حیات کے ہیں امیں
ہم مکاں ہیں تو یہ زمانِ مکیں
غیر سے اب گلہ نہیں کوئی
دل ہی جو ہو گیا ہے نکتہ چیں
ہم نے اک سچ کے نام سے لوگو
داؤ پر رکھ دیا ہے اپنا یقیں
دوستوں کا گلہ بھی کرنا پڑا
بات شائستگی کی گر چہ نہیں
زندگی کی کتاب کا شاعر
دوست ہی تو ہے ایک بابِ حسیں

6