اک شَے کو اہتمام سے کیا کیا لکھا گیا
ٹھہرے کو جھیل بہتے کو دریا لکھا گیا
الفت کا باب رنگ تخیل سے پر ہوا
ایسا لکھا گیا کبھی ویسا لکھا گیا
لمحات کے بہاو میں بہتا رہا بشر
ٹھرا جہاں وہ موت کا عرصہ لکھا گیا
وسعت مرے مزاج کی آئینہ دار تھی
یوں کائنات کو مرا ورثہ لکھا گیا
جو وقت ہاتھ آئے وہی عرصہ حیات
نکلا جو ہاتھ سے تو زمانہ لکھا گیا
سید مجتبی داودی(شاعر)

53