| نظمِ معرّیٰ |
| وہ کہتا ہے |
| میں ہر انسان کے دل میں چھپے رازوں سے واقف ہوں |
| دعائیں اس کے ہونٹوں پر جو رہ رہ کر مچلتی ہیں |
| انہیں میں تب سے سنتا ہوں |
| کہ جب اس کو ابھی الفاظ کے معنی نہ آتے تھے |
| اگر یہ بات ہے یونہی تو پھر وہ کیوں یہ کہتا ہے؟؟ |
| زمیں والوں دعا مانگو |
| جو دل میں ہے وہ سب کہ دو |
| ہے جو بھی مدعا، مانگو |
| میرے د ل میں بہت دن سے یہ الجھن تھی |
| اگر وہ جانتا ہے (اور یقیناً جانتا ہے) تو |
| وہ کیوں میری دعاؤں کو |
| میرے ہونٹوں سے سننے کے لیے اصرار کرتا ہے |
| تو کیا اس کو |
| مری بے چارگی ، بے مائیگی اور بے کسی کی گڑگڑاہٹ سے |
| کوئی تسکین ملتی ہے |
| وہ مالک ہے زمینوں کا، آسمانوں اور خلاؤں کا |
| مرے اشکوں کی آخر اس سخی کو کیا ضرورت ہے |
| انہی الجھے سوالوں کا بہت سا بوجھ تھا دل پر |
| ہوا کچھ یوں اس ماہ رمضان |
| نمازِ عصر سے پہلے، |
| میں داخل ہوا جیسےہی صحن مسجد میں |
| حاضری کی عنایت کے تشکر میں |
| اٹھائے ہاتھ جب میں نے او ر ان معمول |
| کے لفظوں میں پھر وہ دعا مانگی |
| کہ جو میرا وظیفہ تھا |
| تو یک دم یوں لگا مجھ کو |
| کسی نادیدہ دستِ مہرباں نے میرے شانے کو |
| بڑی شفقت سے تھپکا ہو |
| اسی لمحے کوئی خوشبو میرے چارسو پھیلی |
| او ر اِک شفقت بھری آواز نے میرے کانوں میں رَس گھولا... |
| اے اللہ کے بندے!!! |
| دعا وہ راستہ ہے جوتجھے تجھ سے ملاتا ہے |
| یہ ایسا اک آئینہ ہے |
| جس میں کوئی عکس ابھی قائم نہیں ہوتا |
| کہ اللہ اس کو اٹھا لیتا ہے بننے سے کہیں پہلے |
| کہ |
| اس دعا کے حسن میں اس حسنِ کامل کی شباہت ہے |
| یہ ساری وسعتِ کون ومکاں جس کی شباہت ہے |
| حق شفاعت حاصل حشر میں |
| اس ذات کو ہوگی کہ جو محبوب خدا ہے |
| اللہ پاک تو فرماتے ہیں کہ |
| دعا میں سب کی سنتا ہوں کہ سب مخلوق ہے میری |
| مگر تیری دعاؤں کو میسر یہ فضیلت ہے |
| کہ اِن کومیرے محبوب کے ہونٹوں سے نسبت |
| کہ جوسردار ہے تیرا |
| دعا میرے محمدﷺ کی بہت مرغوب سنت ہے |
| دعا میری نہیں بندے، دعا تیری ضرورت ہے |
معلومات