Circle Image

Naveed Ahmed Shakir

@Shakirjee15

Naveed Ahmed Shakir

کچھ لوگ زندگی میں آئے عذاب بن کر
ملنا پڑا ہے پھر بھی جن کو گلاب بن کر
تو نے عطا کیا ہے یادوں کا اک خزانہ
ہر شام جو ملے مجھ کو احتساب بن کر
سب زخم دیکھ کر جو ہنستے ہیں اس جہاں میں
پھر کیوں رہے کوئی دنیا میں کتاب بن کر

0
3
کچھ لوگ زندگی میں آئے عذاب بن کر
ملنا پڑا ہے پھر بھی جن کو گلاب بن کر
تو نے عطا کیا ہے یادوں کا اک خزانہ
ہر شام جو ملے مجھ کو احتساب بن کر
سب زخم دیکھ کر جو ہنستے ہیں اس جہاں میں
پھر کیوں رہے کوئی دنیا میں کتاب بن کر

0
4
زندگی کی جستجو میں دربدر رہنا پڑا ہے
ساتھ تیرا ہجر بھی تو مستقل سہنا پڑا ہے
اس قدر ٹوٹا ہوں مطلب ضبط بھی باقی نہیں ہے
آج شرمندہ ہیں جو آنسو کو بھی بہنا پڑا ہے

0
2
ابھی جو آزمانا ضروری ہو گیا ہے
کیا ہو تم بتانا ضروری ہو گیا ہے
کسی کو راس آئے نہیں تیرے ڈرامے
تجھے اب چھوڑ جانا ضروری ہو گیا ہے

0
2
زندگی بھی مدار میں نہیں ہے
کچھ بھی تو اختیار میں نہیں ہے
کوئی اپنا دیار میں نہیں ہے
کو ئی لذت بہار میں نہیں ہے
جانتا ہے خدا کہ درد میں ہوں
جو کسی کے شمار میں نہیں ہے

0
5
مرا رستہ کوئی اور ہے مری منزل کوئی اور ہے
مجھے مطلوب تھا کوئی مجھے حاصل کوئی اور ہے
منافق جو نہیں ہوں تو بڑا بھی تو نہیں ہوں میں
تری محفل کوئی اور ہے مری محفل کوئی اور ہے
یقیں آیا نہیں مجھ کو کئی دن بھول جانے پر
کہوں کیسے کہ تیری یاد سے غافل کوئی اور ہے

0
9
یہاں بزدل لوگوں کو کام سب ہموار ملتے ہیں
یہ ہمت والوں کو ہی راستے دشوار ملتے ہیں
کہی ہے بات سچ دنیا نے دل بھی مانتا ہے وہ
بڑے ہوں جو ارادے تو بڑے کردار ملتے ہیں
ہمیشہ یہ نظر رکھتے ہیں اپنی ایک منزل پر
منافق لوگ رستے میں انھیں ہر بار ملتے ہیں

0
4
زندگی تو رہی آرزو نہ رہی
بعد تیرے کوئی جستجو نہ رہی
آج کل کوئی محفل اچھی نہ لگے
آپ سے منسلک گفتگو نہ رہی

0
3
غلط بات برداشت کرنا پڑی ہے
یہی زندگی ہے تو اتنی بڑی ہے
ابھی ہار جانے کو دل چاہتا ہے
نئی جنگ ہر اک قدم پر لڑی ہے

0
3
چھوڑ کے تجھے کس در جاؤں تو بہتر ہے
لوٹ کر میں اپنے گھر جاؤں تو بہتر ہے
چہروں پر نجانے تیور کیا کیا ہوں تب
اشک آنکھ میں جو بھر جاؤں تو بہتر ہے
تجھ کو بھول جانے کی تھی امید مدت سے
کام آج یہ بھی کر جاؤں تو بہتر ہے

0
8
بچ گئی سانسیں نشانی زندگی کی
بس یہی ہے مہربانی زندگی کی
بات جو ہر ایک ما نی زندگی کی
پھر گئی تھی بدگمانی زندگی کی
چھین کر چلتی رہی یہ ہر کسی کو
دیکھ لی ہے میزبانی زندگی کی

0
3
گھڑی گھڑی لڑائی ہو فساد ہو
مرے جو قول و فعل میں تضاد ہو
کھڑا ہوں در پہ تیرےمنتظر ہوں میں
بھرم ہی رکھ لیناجو اعتماد ہو

0
2
آ گئی محبوب میں اب نزاکت کیا کیا
عاشقوں پے گزرے گی پھر قیامت کیا کیا
ایک مدت سے طلب گار ہیں دیدار کے
بے قراری سے بگڑتی ہے حالت کیا کیا
اس جہاں میں آنے سے پہلے کوئی جرم تھا
جو ملی ہیں اس جہاں میں رفاقت کیا کیا

0
3
تمھیں تھوڑا سہی لیکن وفا پے بھی یقیں ہوتا
جدا تم سے مری جانِ جگر پھر یوں نہیں ہوتا
جفا ہر ایک سہ لی ہجر کا غم اب ستائے ہے
غضب تھا درد جو منظور یہ بھی ہم نشیں ہوتا

0
4
سر کو کبھی ہم جھکا نہ سکے
دکھ زندگی کے مٹا نہ سکے
دل کو رہی اک طلب ہمیشہ
خواہش کوئی اور بنا نہ سکے
جو ساتھ رہا قدم قدم پر
ہم ہاتھ اُسے لگا نہ سکے

0
ایسی کوئی سزا دیں محبت کو
آجاؤ ہم بھلا دیں محبت کو
دنیا میں جو کہیں کا نہیں چھوڑا
تم ہی کہو کیا دیں محبت کو

0
2
جس محبت پر عمر بھر ناز کیا
آج اُس نے بھی نظر انداز کیا
اک محبت صرف مانگی آپ سے
یہ کیا تُو نے مرے ہمراز کیا
نکلے گی جو آہ دل سے درد میں
اب دبا دو گے مری آواز کیا

0
1
جو مسیحا کی ساری نظر ہو گئی
کیوں مری زندگی مختصر ہو گئی
کچھ نہیں مانگتا سب عطا ہے تری
اک دعا جو مری معتبر ہو گئی

0
5
کبھی مجبور ہم بھی اِس قدر کب تھے
ہمارے لفظ پہلے بے اثر کب تھے
چرائی ہے نظر یوں زندگی نے اب
ملاقاتوں کے لمحے مختصر کب تھے

0
5
محبت تو محبت ہے یہ جاری تو رہے گی
اگر اُن کو نہیں ہے پھر ہماری تو رہے گی
کسی اور ہی ہوا میں ہوں خبر کچھ بھی نہیں ہے
کیا ہے عشق جو تم سے خماری تو رہے گی
نجانے دل میں کیا آیا الگ کیوں ہو گیا ہے
جدائی بھی سزا ہے بے قراری تو رہے گی

0
8
لوگ مجھ کو میعار سے جانتے ہیں
ایک تیرے ہی پیار سے جانتے ہیں
یاد رہتا ہے کس کو چہرا یہاں پر
لوگ سب کو کردار سے جانتے ہیں

0
2
ایک مدت سے تھی جستجو بھی گئی
پھول جو سوکھے تو خوشبو بھی گئی
ہر گھڑی جو تجھے پانے کی تھی طلب
ہم گئے تو تری آرزو بھی گئی

0
3
ترے حصول کے علاوہ خواب اور بھی ہیں
فقط یہ زندگی نہیں عذاب اور بھی ہیں
دلیل عشق میں تری ہی معتبر رہی
مری تو زندگی میں نصاب اور بھی ہیں

0
2
یہ سوچا نہ تھا کہ اس قدر دوریاں ہوں گی
ملا ہی نہیں تو اس کی مجبوریاں ہوں گی

0
2
تھے مدت سے بے چین بے تاب سارے
بکھر ہی گئے ہیں مرے خواب سارے
کہیں سے مجھے وہ ملے تو سہی اب
سبھی کھو گئے ہیں جو اسباب سارے
تعلق پُرانا بہت آپ سے تھا
بھلا ہی دیئے تُو نے آداب سارے

0
5
تِرا زندگی بھر سہارا نہ ہوتا
خدایا مِرا بھی گزارا نہ ہوتا
تمھیں بھول جاتا بڑی دیر پہلے
تِرے روکنے کا اشارا نہ ہوتا

0
4
اندیشہ پہلے سے تھا تجھ سے بچھڑ جانے کا
پھر بھی جگر دیکھ لو تم اپنے دیوانے کا
تجھ سے گلہ ہی نہیں کیوں پھر شکایت کروں
خود ہی سبب بن گیا اس دل کے ویرانے کا
اب وہ زمانہ نہیں دونوں بدلنے لگے
کچھ بھی نہیں فائدہ اب تجھ کو شرمانے کا

0
10
عشق تو معصوم ہے
آپ کو معلوم ہے
پاس رہ کر بھی کوئی
پیار سے محروم ہے
بے بسی ہے زندگی
آج کل محکوم ہے

0
2
اگر تُو پاس آ جائے
محبت راس آ جائے
دعا اتنی ہے میری اب
تجھے احساس آ جائے
بڑی اچھی ہے خاموشی
جگہ حساس آ جائے

0
3
یاد آتی ہے جو کل کی زندگی
آج لگتی ہے دو پل کی زندگی
اب کسی آفت سے ڈر لگتا نہیں
کس نے پائی ہے ازل کی زندگی
بولنے سے فرق پڑتا ہے کہاں
ہے بہت بہتر عمل کی زندگی

0
3
دل یہی دعا کرے
آؤ تم خدا کرے
دیر سے ملے نہیں
آج حوصلہ کرے
آپ ساتھ ہی رہو
زندگی عطا کرے

0
4
زندگی راس آنے میں کچھ دیر ہے
جشن کوئی منانے میں کچھ دیر ہے
جو ہوا سُو ہوا اب نہیں روکیں گے
تیرے دل کو چرانے میں کچھ دیر ہے
آپ آنا سکوں سے کہ جلدی نہیں
آج محفل سجانے میں کچھ دیر ہے

0
2
ابھی روٹھنا نہیں منایا نہ جائے گا
جو مجبور آج ہوں تو آیا نہ جائے گا
کہاں اس قدر عذاب تھی زندگی مری
کوئی آنسو آنکھ میں سجایا نہ جائے گا
یوں تو درد سے بھری پڑی ہے یہ زندگی
کوئی غم بھی ہجر کا اٹھایا نہ جائے گا

0
6
اعتبار کے بدلے اعتبار ہوتا ہے
تو یہ قیمتی اشیا میں شمار ہوتا ہے
پاس بھی بھرم کا جو شخص رکھ نہیں سکتا
آج بھی وہی محفل سے فرار ہوتا ہے

0
4
زندگی کا رنگ اچھا تو ہے لیکن عارضی ہے
مبتلا ہوں بس اسی اک سوچ میں کیا لازمی ہے
منتظر ہیں یہ نگاہیں کوئی میرے در پہ آئے
ایک مدت ہو گئی ہے رابطہ بھی ملتوی ہے
ایک جب منزل ہو تو پھر چال بھی تو ایک ہی ہو
بس یہی سیکھا ہے دنیا نے بہتر عاجزی ہے

0
3
شجر جیسے ہو جائیں برسات کے بعد
ہو جاتے ہیں ویسے ملاقات کے بعد
مِرے دل میں محفوظ ہیں آج بھی نقش
نہ آئی کوئی رات اُس رات کے بعد
خبر آپ کو ہے کیا ہے مرا عشق
کہ ہر ذات مانی تِری ذات کے بعد

5
آج ملنے آؤ تم آج فرصت ہے ابھی
آخری دیدار کی ایک حسرت ہے ابھی
اب خدا جانے کیا ہے چمک اُس آنکھ میں
یوں لگے دل میں کوئی تو شرارت ہے ابھی
جو کہے دنیا مجھے سچ یہی لگتا ہے بس
دور ہے لیکن اُسے بھی محبت ہے ابھی

8
جان میری جان کوئی اور ہے
بات میری مان کوئی اور ہے
ہو گیا ہوں میں کسی کا ہم سفر
اب مری پہچان کوئی اور ہے
ناز تیرے ظلم پر ہے آج بھی
عشق کی یہ شان کوئی اور ہے

5
جس محبت پر عمر بھر ناز کیا
آج اُس نے بھی نظر انداز کیا
اک محبت صرف مانگی آپ سے
یہ کیا تُو نے مرے ہمراز کیا
نکلے گی جو آہ دل سے درد میں
اب دبا دو گے مری آواز کیا

3
لڑ پڑے ہیں ترے ہر طلب گار سے
فرق پڑتا نہیں اب تو مقدار سے
جو کَبھی وہ ملے تو ملے پیار سے
عشق میں گر گئے اپنے معیار سے
تم اِسے عاشقی سمجھو یا بےکسی
گلیوں میں پھرتے ہیں بن کے بیزار سے

0
6
چاہت میں کیا کیا نہیں کیا
اک شکوہ بھی ذرا نہیں کیا
رکھ لو قابو میں سوچ کو تم
سب کیا پر کچھ برا نہیں کیا
سوچو کیوں آج بھی کسی نے
خود کو تم سے جدا نہیں کیا

8
چہرا نہیں ملتا شناسا اب کوئی
ہم بھی کریں کس سے تقاضا اب کوئی
دل تو وہی ہے لوگ اُن جیسے کہاں
ممکن نہیں پھر سے تماشا اب کوئی
مل تو سہی مدت سے گم ہوں سوچ میں
کرنا ہے تجھ سے اک گلہ سا اب کوئی

11